قرآنی کمپیوٹر بوائز اور قرآن کے معجزے

قرآنی کمپیوٹر بوائز اور قرآن کے معجزے

24 days ago.

جامعہ الصفہ کو دیکھنے وہاں کے قرآنی کمپیوٹر طلباء کی زیارت کم و نامور مذہبی اسکالر مفتی زبیر حق نواز سے ملنے کا مجھے اشتیاق تو تھا ہی لہٰذا جب میرے دوست طلحہ رحمانی نے جامعہ کے دورے کا پروگرام مرتب کیا تو اس خاکسار نے فوراً حامی بھرلی‘ بلدیہ ٹائون کو ’’کن کٹوں‘‘ ’’مچھ کٹوں‘‘ اور لسانی دہشت گردوں کی آمجگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا‘ ایک بڑی فیکٹری کو اس کے ڈھائی سو مزدوروں سمیت جلائے جانے کے خوفناک واقعہ نے بھی بلدیہ ٹائون کو پوری دنیا میں  بدنام کیا‘ لیکن شہر کراچی کے علاقے بلدیہ ٹائون سعید آباد میں گزشتہ چالیس سالوں سے قائم جامعہ دارالعلوم الصفہ آکر اندازہ ہوا کہ  بلدیہ ٹائون کی اصل پہچان تو دین و دنیا کی تعلیم کو عام کرنے والا  یہ عظیم ادارہ ہے۔ شیخ الجامعہ حضرت مولانا حق نواز کہ جو اس ادارے کے بانی و مہتمم ہیں ان سے ملاقات تو نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے ہونہار فرزند ارجمند کہ جو ٹی وی چینلز کی دنیا میں اپنی حق گوئی کی وجہ سے  پاکستان میں بسنے والے کروڑوں مذہب پسندوں کے پسندیدہ ہیں انہوں نے نہ صرف ہمارا بھرپور استقبال کیا بلکہ جامعہ کا مکمل دورہ بھی کروایا‘ ویسے مدارس اور دینی ادارے تو پاکستان میں ہزاروں ہیں‘ لیکن اس ادارے کی منفرد خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں قرآن کریم کے حفظ کے حوالے سے ایسے طلباء تیار کئے جاتے ہیں کہ جنہیں حفظ کے ساتھ ساتھ قرآن مقدس کے حوالے سے معلومات کا خزانہ قرار دے دیا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔

تاریخی کرسی‘ ریٹائرڈ ملازمین اور ریلوے کی ترقی؟

تاریخی کرسی‘ ریٹائرڈ ملازمین اور ریلوے کی ترقی؟

26 days ago.

حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ جب ڈی ایس آفس کراچی سٹی میں ریلوے افسران سے خطاب کرنے کے لئے تشریف لائے تھے تو وہ اس کرسی پر بیٹھے تھے ۔  ہم نے چونک کر اس تاریخی کرسی کی طرف دیکھا تو محمد  جنید اعوان نے ہماری حیرت سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنے دفتر کی چھت سے لٹکے پنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پنکھے بھی تقریباً سو سالہ پرانے ہیں‘ پھر انہوں نے ڈی ایس آفس کراچی سٹی کے فسٹ فلور کے کمرے میں موجود دیگر ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کہ جو کاٹھ کباڑ کے مناظر پیش کررہا تھا کے بارے میں بتایا کہ یہ سارا فرنیچر بھی انگریزوں کے دور سے ہی چلا آرہا ہے۔ قائداعظم ؒ جس کرسی پر تشریف فرما ہوئے تھے اس کرسی کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن باقی کاٹھ کباڑ بنے فرنیچر کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان ریلوے کو بھی ’’چندے‘‘ کی ضرورت ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید تو کروڑوں روپے کمانے کے دعوے کررہے ہیں۔ نئی نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں ‘ آخر یہ سب کیا ہے؟  جنید اعوان یوں گویا ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ریلوے ایک اہم قومی ادارہ اور اس ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امن ہو یا جنگ‘ آندھی ہو یا طوفان‘ سردی ہو یا گرمی‘ دن ہو یا رات ہر حال میں ریلوے کا ملازم ریل کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ ریلوے کے پہیئے کو دن رات‘ سردی‘ گرمی میں رواں رکھنے والے غریب ملازمین کے ساتھ ریلوے افسران کیا حسن سلوک  کرتے ہیں ذرا چند جھلکیاں اس کی بھی ملاحظہ فرمائیں۔ صرف کراچی ڈویژن میں 257 ملازمین ریٹائرڈ ہوئے ہیں ان میں2017 ء میں ریٹائر ہونے والے ملازمین بھی شامل ہیں انہیں ابھی تک چیک جاری نہیں کیے گئے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ ہے کہ 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو فوراً چیک جاری کیے جائیں۔ اب ریلوے افسران کو سپریم کورٹ کے احکامات کی اس کھلی خلا ف ورزی سے کون روکے؟