پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

4 days ago.

 ملکی پیداوار میں کمی  اور درآمدات میں اضافہ سے ڈالر مہنگا ہو جا تا ہے۔غیر یقینی سیاسی صورتحال اور سرمایہ داری میں کمی بھی ملکی اقتصادی حالت کو مزید ابتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ملک دشمنوں کا نشانہ خاص طور پر سی پیک بھی بن رہا ہے۔چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی یو آن یا  آر ایم بی میں  تجارت کی خواہش کا اظہار اسی وجہ سے کیا تھا۔ سی پیک اور گوادر کے حوالے سے چین ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو ترجیح دینا چاہتا تھا۔1994میں یوآن کی قدر کم ہو کر7یو آن(آر ایم بی) فی ڈالر ہوئی تو پھر اس ڈالر کے خلاف ہنگامی اقدامات کئے گئے۔چین نے ڈالر کی قدر کم کر دی ہے۔جب کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھی ہے۔ یہ67روپے سے150پر پہنچ چکا ہے۔کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافے کا اثر کمزور معیشت پر زیادہ ہوتا ہے۔ جب کہ جاپان جیسی مضبوط معیشت اس کا اثر قبول نہیں کرتی۔امریکی ڈالر109ین کا ہے۔مگر انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔  آج چین اور جاپان دنیا کی پہلی اور دوسری مملکتیں ہیں جن کے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے سے زیادہ ہیں۔ امریکہ 22ویں نمبر پر ہے۔پاکستان کی رینکنگ کم ہوئی ہے۔ہماری غیر ملکی کرنسی کی کمائی میں کمی آ رہی ہے۔ہماراغیر ملکی قرضہ ہماری آمدن کی رفتار سے بہت زیادہ ہے۔ڈالر کی قدر میں اضافہ پہلے سے ہو رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں برابر ہو گئیں۔اس کی بھی کئی وجوہات تھیں۔سب سے بڑی وجہ ہماری پیداوار میں جمود ہے۔آج16 مئی 2019میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈالر کی زر مبادلہ اور در آمدات برآمدات کے لئے طلب ہے۔  ہماری ترسیلات زر میں اضافہ بھی اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی کہ ہوم ریمیٹنس اضافہ چاہتی ہیں۔ اس میں تیز رفتاراضافہ کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک کا اعتراف ہے کہ ملکی زر مبادلہ کے زخائر میںکمی ہو رہی ہے۔ اگر زر مبادلہ کے ذخائر ہوتے ہی ہمارے روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔ ڈالر کی طلب بہت زیادہ اس لئے ہے کہ ملکی بر آمدات اور در آمدات کا انحصارڈالر پر ہی ہے۔ ہم باہر سے اتنا مال منگواتے ہیں کہ ڈالر میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان  نے جب حکومت سنبھالی ، اس وقت  زرمبادلہ کے زخائر اتنا کم نہ تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ چین کے پاس ہے۔ 30کھرب  ڈالر۔ امریکہ سوا کھرب ڈالر کا زرمبادلہ رکھتا ہے۔ہماری نظریں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو اوپر لے جا سکتا تھا۔ اس میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہمارے لئے زیادہ اہمیت خود انحصاری کی ہو گی۔یہی ہمیں معاشی پاور بنا سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری  اس میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھارت نے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے ایک سال میں اپنے ذخائر میں بھاری اضافہ کیا ہے۔  

بلٹ ٹرین، ایک خواب

بلٹ ٹرین، ایک خواب

7 days ago.

بلٹ ٹرین یا گولی کی رفتار سے چلنے والی ٹرین کا سفر دنیا کے لئے آئیندہ کئی برسوں تک خواب رہے گا۔حقیقی بلٹ ٹرین وہ ہو گی جو گولی کی رفتار سے چلے گی۔ گولی کی رفتار 2ہزار7سو 43کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔  تا ہم  دنیا بلٹ ٹرین نام کی حد تک  خواب کی تکمیل نصف صدی  پہلے کر چکی تھی۔جب جرمنی نے 250کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار والی دنیا کی پہلی بلٹ ٹرین 1964میں تیار کی۔اس وقت  پاکستان اور بھارت دوسری جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اب جاپان400کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک چلنے والی دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین تیار کر رہا ہے۔ چین میں 350کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بغیر ڈرائیور چلنے والی بلٹ ٹرین تیار ہو رہی ہے۔ پاکستان میں 110کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین کو بلٹ ٹرین قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میںچین کے اشتراک سے 160کلو میٹر فی گھنٹہ چلنے والی ٹرین کو تیز ترین بلٹ ٹرین کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔  یہی حال بھارت کا بھی ہے جہاں سب سے تیز رفتار ٹرین 180کلو میٹر فی گھنٹہ چلتی ہے جس کا نام بلٹ ٹرین رکھا گیا ہے۔ ہم اس دور میںزندہ ہیں جب پاکستان میں کروڑوں لوگ اس وقت ٹچ موبائل کے مزے لے رہے ہیں۔پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی پی ٹی اے کے مطابق جنوری 2018میں یہاں موبائل صارفین کی تعداد14کروڑ 40لاکھ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کے ماڈرن دور میں زندہ ہیں۔ جب کہ یہ سب ٹیکنالوجی آئی فون، سام سنگ، نوکیا، سمیت درجنوں برانڈز کی دین ہے۔سمارٹ فونز برانڈ ز میں سے ایک بھی پاکستانی نہیں۔ جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکیں۔ اس کی صاف وجہ ہے کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے تو کجا ، اس میدان میں ابھی تک اترے بھی نہیں۔ کیوں کہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں اس کے لئے بالکل بھی تیار اور رہنمائی نہیں کرتا۔ ہم احساس کم تری یا برتری کے کشمکش کے درمیان جھول رہے ہیں۔ فواد چوھدری ہمارے آج کے وزیر با تدبیر ہیں۔ جن کو سائنس و ٹیکنالوجی کا اہم قلمدان دیا گیا ہے۔ ان سے کیا شکوہ ، ان سے پہلے کے وزراء بھی کوئی تیر نہ مار سکے۔ اسی لئے ہمارے پاس آئی فون یا کوئی برانڈ ہے تو ہمیں اس پر ناز اور نخرہ ہو گا۔ کیوں کہ ہم اپنی نہیں بلکہ غیر ملکی تشہیر کر رہے ہیں۔ ہمارا سرمایہ  ملک سے باہر جا رہا ہے۔ دنیا سے یک دم  رابطے پر ہم مطمئن ہیں۔ اسی طرح زمینی رابطوں کا حال ہے۔ ہمارے وزیر ریلوے کئی برسوں سے بلٹ ٹرین کی خوشخبری سنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ یہاں جو جتنا باتونی اور مسخرہ ہے، اس کا اتنا ہی طوطا بولتا ہے۔ مگر بجائے اس کے ہر شاخ پر الو بولتا نظر آتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سب سے تیز رفتار ٹرین پشاور تا کراچی کے درمیان دوڑتی ہے جس کی رفتار 160کلو میٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔ اس رفتار کی ٹرینوں کو یہاں بلٹ ٹرین کا نام دیا جا رہا ہے۔   

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

10 days ago.

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست میں 15سال ہو گئے ہیں۔ امریکہ سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی  ڈاکٹر صدیقی پر کسی کے قتل کا الزام نہیں بلکہ اقدام قتل کا کیس ہے۔ ڈاکٹر صدیقی مارچ2003ء سے امریکی قید میں ہے ۔ اس پر 2008ء میں مقدمہ چلایا گیا۔ 2010ء میںامریکی عدالت نے 86سال سزائے قید سنائی ۔ تین بچوں کی ماں ، پاکستانی سائنسدان کو پہلے سزا ہوئی، مقدمہ بعد میں چلا۔ کوئی حکومت رہائی کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ آج ایک بار پھر ڈاکٹر صاحبہ کی ہمشیرہ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔ وہ اکیلی دردمندی سے اپنی قیدی بہن کی رہائی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ شاید اس کا درد اور دکھ کوئی محسوس کرے۔ پاکستان نے مسلسل امریکہ کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا۔ جب کہ پاکستانی قیدی کی وطن واپسی کے لئے امریکہ کے ساتھ 1993ء میں طے پانے والا معاہدہ بھی اہم ہے۔ امریکی قانون کے مطابق ملزم ہی رہائی کے لئے امریکہ سے اپیل کر سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر صاحبہ نے پاکستان واپسی کی اپیل دائر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جس کے بعد پیش رفت کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سینٹ میں اعظم خان سواتی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے یہ معاملہ سینٹ میں اٹھایا۔ جس پر وزیر خارجہ نے بیان دیا۔ یہ وہی روایتی بیان تھا جو گزشتہ برسوں میں دیئے گئے۔ ظاہر ہے کوئی بھی ان بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے سینٹ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔   

افطار پارٹیاں

افطار پارٹیاں

14 days ago.

دین میں روزہ کی بہت اہمیت ہے۔یہ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ روزہ دار کو افطار ی کرانے کی اپنی افادیت ہے۔ اسلام کے ہر رکن میں، ہر ایک ہدایت میں ، ہر ایک فعل میں انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کا تصور اجاگر ہوتاہے۔ کسی کی انفرادی حیثیت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج تمام کے تمام کا پیغام اجتماعیت ہے۔ یہ اجتماعیت ایک گائوں محلہ شہر سے لے کر ملک اور دنیا تک ہے۔ نماز محلہ کی مسجد، جمعہ شہر کی جامع مسجد، حج دنیا کے مرکز مکہ المکرمہ میں ادا کرنے کا یہی واضح پیغا م ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد عبادت ہی نہیں بلکہ انسانی معاملات ہیں۔جن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حقوق اللہ سے حقوق العباد کی زیادہ اہمیت اسی لئے ہے۔عبادات اور معاملات کیا ہیں۔ اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ عبادات کا بھی بنیادی مقصد معاملات کو سنوارناہے۔ انسان کا انسان کے کام آنا، اس کے دکھ درد، خوشی غمی میں شریک ہونا، اس کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی تیمار داری کرنا، اس کے لئے تحائف کا اہتمام کرنا، اس کو اپنے دسترخوان میں شامل کرنا، کفن ودفن میں شرکت وغیرہ ان میں شامل ہے۔   

آزاد کشمیر کی آبادی پر بھارتی جارحیت

آزاد کشمیر کی آبادی پر بھارتی جارحیت

17 days ago.

بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے نہتے شہریوں پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جموں  اودھم پور، سرینگر اور بارہمولہ کی بھارتی پارلیمنٹ کی نشستوں پر فوج کے سخت پہروں میں انتخابی مرحلے مکمل ہوئے اور اب اننت ناگ جو کہ جنوبی کشمیر ہے کی نشست کے الیکشن کے لئے سینکڑوں کشمیریوں کو قید کر لیا گیا ہے۔ بستیوں کا کریک ڈائون  محاصرے اور لوگوں پر تشدد جاری ہے۔ عوام پر دبائو بڑھانے کے لئے ہی آزاد کشمیر کی سول آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حویلی ضلع کے فاروڈ کہوٹہ میں نو عمر طالب علم طاہر اور اس کی کم سن بہن طاہرہ کو بھارتی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔بھائی موقع پر شہید ہو گیا اور بہن شدید زخمی ہوئی جو ہسپتال میں تڑپ رہی ہے۔ محمد حفیظ کے یہ بچے بھارتی جارحیت سے بے خبر تھے۔ جب گولہ باری ہوئی تو لوگ حفاظتی بنکرز نہ ہونے کی وجہ سے جان بچانے میں بے کسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ فاروڈ کہوٹہ سمیت آزاد کشمیر کے تمام سیکٹرز میں حکومت سے مسلسل مطالبات کے باوجود بنکرز تعمیر نہ ہو سکے۔ افسوس ‘ صد افسوس! بھارتی فائرنگ سے لاتعداد لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔   

 دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

29 days ago.

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کو دنیا سے ملانے والی سرینگر جموں شاہراہ کی ہفتہ میں دودن بندش کو کشمیریوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس شاہراہ پر ایک کشمیری نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی مگر بھارتی اہلکاروں نے ایمبولنس کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہ دی۔ سرینگر سے ڈوڈہ تک فورسز نے کم از کم 50مقامات پر ایمبولنس کو روک دیا۔ جس کی وجہ سے سرینگر کے انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ ہسپتال سے ایمبولنس پر محو سفر کینسر کے مریض عبدالقیوم بانڈے نے بیٹے کے بازئو ں پر تڑپتے ہوئے جان دی مگر سی آر پی ایف اہلکاروں نے آکسیجن پر زندہ اس کشمیری پر کوئی ترس نہ کھایا۔بانہال کے آگے بٹوت کے مقام پر اس کی روح پرواز کر گئی۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بھی بھارتی حکومت سے ہائی وے کو ہفتہ میں دو دن عوام کے لئے بند رکھنے کا جواب طلب کیا ہے۔  مگر یہ جواب طلبی بھی دیگر عدالتی فیصلوں اور ہدایات کی طرح نام نہاد اور خانہ پری کے برابر ہو گی۔

سشما سوراج کا اعتراف

سشما سوراج کا اعتراف

a month ago.

بھارتی وزیر خارجہ اس جھوٹ کا اب خود اعتراف کر رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے دو ماہ تک اپنے عوام اور دنیا کے سامنے مسلسل جھوٹ بولا۔ مگر اب  بالآخر تسلیم کر لیا کہ 26 فروری کو بالاکوٹ میں بھارتی ایئر فورس کی فضائی کارروائی میں کسی پاکستانی شہری یا فوجی کی جان کو نقصان نہیں پہنچا۔کسی فوجی تنصیب کو بھی بھارتی کارروائی  سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ جس پرپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ آخر کار سچ سامنے آ ہی گیا اور بھارت نے اپنا جھوٹ خود بے نقاب کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’زمینی حقائق کی مجبوریوں کے تحت بالآخر سچ سامنے آگیا‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت کی جانب سے بالا کوٹ حملے اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کی سچائی بھی جلد سامنے آجائے گی۔وہ امید کر رہے ہیں کہ  بھارت کے دیگر جھوٹے دعوے کے حوالے سے بھی ایسا ہوگا، جیسا کہ 2016 کا سرجیکل اسٹرائیک، پاک فضائیہ کا 2 بھارتی طیارے مار گرانے کی تردید اور ایف 16 کے حوالے سے ان کا دعویٰ سامنے آیا جو کہ سب کے سب گمراہ کن بیانات تھے۔ ان کا مقصد بھارتی عوام کے گرتے مورال کو سنبھالنا تھا مگر پھر بھی یہ سنبھل نہ سکا۔

  منشیات کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت

  منشیات کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت

a month ago.

    خیبر پختونخوا میں آئس ڈرگ کے استعمال پر سات سال سزا اور تین لاکھ روپے جرمانہ جب کہ اس کی سمگلنگ پر عمر قید اور 14لاکھ روپے جرمانہ کا مجوزہ قانون وقت کی عین ضرورت ہے۔منشیات کے خلاف قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل در آمد نوجوان نسل کو تباہی اور ملک کو عالمی سطح پر بدنامی سے بچا سکتا ہے۔ پاکستان سے سعودی عرب منشیات  سمگل کرنے پر چند دن قبل ایک پاکستانی میاں بیوی کا سر قلم کیا گیا۔گزشتہ  پانچ برسوں میں سعودیہ میں 100پاکستانیوں کے سر قلم کئے جا چکے ہیں۔ سعودیہ میں اس وقت بھی سوا تین ہزار سے زیادہ پاکستانی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔ منشیات کی سمگلنگ یا استعمال پر وہاں سزائے موت دی جاتی ہےمگر یہاں سزائیں نرم ہیں۔ انسداد منشیات کے ادارے انٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) کے مطابق  پاکستان کے 70لاکھ افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ان میں 40لاکھ بھنگ اور 25لاکھ اافیون کے شکار ہیں۔  

مہجور، کشمیری شعر و ادب کے سرتاج

مہجور، کشمیری شعر و ادب کے سرتاج

a month ago.

 دنیا کی ہر زبان نے بلا شبہ ایسے شعراء اور قلمکار پیدا کئے جنہوں نے اپنے گہرے شعور ، تجربات اور پاکیزہ و قیمتی خیالات کو نظم یا نثر کی صورت میں پیش کرتے ہوئے  اس زبان و ادب کے لئے بیش قیمت سرمایہ فراہم کیا ۔کشمیر نے بھی ایک ہستی کو پیدا کیا۔جن کا شخصی راج کے خلاف کشمیری عوام کو بیدار کرنے میں اہم کردار ہے۔ ولولہ انگیز اور انقلابی شاعر پیرزادہ غلام احمد مہجور کو علامہ اقبالؒ، مولانا شبلی نعمانی، رابندر ناتھ ٹائیگور کا ہمعصر اور رفیق کارسمجھا جاتا تھا۔ انقلاب اور آزادی کے اس علمبردار کو شاعر کشمیر کہا جاتا ہے۔ زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد قرار دینے، تمام مسائل کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی تلقین کرنے والے اس انقلابی شاعر سے کشمیر سے باہر کی دنیابے خبر رہی ہے۔جن کے کلام کو حقیقت میں انسانیت کے نام قابل قدر پیغام سمجھا گیاجس میں حرص، طمع ، خود غرضی پر وار کئے گئے۔ اتفاق، رواداری، اخوت، ہمدردی، محبت اور انصاف سے زندگی گزارنے پر زور دیا گیا۔   

مقبوضہ بیت المقدس اور گولان ہائٹس کے بعد

مقبوضہ بیت المقدس اور گولان ہائٹس کے بعد

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اسرائیل نے جب اپنی انتظامیہ کو گولان کی بلندیوں تک بڑھانا چاہا اور صیہونی فلسفے میں ڈوبے ہوئے اپنے قوانین کو شام سے چھینے ہوئے علاقے میں لاگو کرنا چاہا تو اقوام متحدہ نے قرار داد برقم 497منظور  کی۔ اِس قرار داد کے مطابق اسرائیلی اقدامات کو رد کر کے کالعدم قرار دیا گیا۔ثانیاََ یہ اقدامات قرار داد برقم 242  کے منافی قرار پائے۔ مذکورہ قرار داد میں جنگ کے ذریعے حاصل کی گئی اراضی کو قبولیت دینے کی ممانعت ہے۔انڈیا کی طرح اسرائیل البتہ اِس قدر ڈھیٹ و فریبی ہے کہ  وہ  اِسی قرارداد میں شامل ایک عبارت کو اپنے ضدی موقف کی حمایت میں بروئے کار لایا۔ اِس عبارت میں ایسی نوعیت کے محفوظ و تسلیم شدہ سرحدوں کی ضمانت دی گئی ہے جو دھمکیوں  اور طاقت کے استعمال سے مبرا ہوں۔ اسرائیل ان ہی سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے  جو اُس کی نظر میں اُسکے لئے محفوظ ہوں بھلے ہی وہ زور و جبر اور زبردستی سے حاصل کی گئی ہوں۔ اسرائیل کی اِس بے تکی دلیل کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک کی اراضی پر  طاقت کے بل بوتے پہ قابض ہو کے یہ دلیل پیش کرنے میں حق بجانب ہو گا کہ یہ اقدام اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے کیا گیا۔جیسے کے حالات بتا رہے ہیں کہ  نریندر مودی بھی بالاکوٹ حملے یا نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس سے ایسا چاہتے ہیں۔اِس دلیل کو منطقی مانا جائے تو اِس سے ہر طاقتور ملک کو اپنے کمزور ہمسایوں پہ چڑھائی کرنے کی چھوٹ مل سکتی ہے۔ اسرائیل در اصل صیہونیت کے تعین کردہ نقشے پہ عمل پیرا ہے جس میں قوم یہود کا یہ ماننا ہے کہ  اپنے گناہوں کی پاداش میں وہ جہاں جہاں بھی ازمنہ قدیم میں بھاگ بھاگ کے پہنچی ہے، اُن مقامات کو اپنے تصرف میں لائے۔ازمنہ قدیم میں اسرائیلی بابل بھی پہنچے جہاں سے ایرانی بادشاہ بخت نصر نے اُنہیں بیدخل کیا۔  

 وزیراعظم عمران خان کاناگزیر دورہ جنگ بندی لائن!

 وزیراعظم عمران خان کاناگزیر دورہ جنگ بندی لائن!

2 months ago.

بھارت نے ایک بار پھر کشمیر کی جنگ بندی لائن پر جارحیت کرتے ہوئے پاک فوج کے تین جانباز اور ایک طالب علم کو شہید اور کئی خواتین اور بچوں سمیت  متعدد شہریوں کو زخمی کر دیا۔ راولاکوٹ اور کھوئی رٹہ سیکٹروں سے پہلے بھارت وادی نیلم، وادی لیپا، نکیال، تتہ پانی، منڈھول، چکوٹھی ، فاروڈ کہوٹہ سمیت سیز فائر لائن  کے دیگر سیکٹرز پر آبادی کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ابھی تک وزیراعظم عمران خان نے جنگ بندی لائن کے معصوم عوام کو بھارتی دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لئے بنکرز کی تعمیر کے وعدے پورے نہیں کئے اور نہ ہی پاک فوج اور عوام کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کسی سیکٹر کا دورہ نہیں کیا۔  اس پہلے بھی حکمران صرف دعوے اور وعدے کرتے رہے ہیں۔گولہ باری سے بچنے کے لئے عوام کو بنکرز کی تعمیر کے لئے اعلان کردہ فنڈز نہ دیئے گئے ۔ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بنکرز تعمیر کئے تھے۔ یہ مورچے 2005ء کے زلزلہ میں تباہ ہوئے۔ کچھ بارشوں اور برفباری کی نذر ہوئے۔جنگ بندی لکیر کے عوام بظاہر  زمانہ امن میں بھی بھارتی جارحیت کا شکار رہتے ہیں۔ 1989ء سے 2003ء تک آزاد کشمیر کی جنگ بندی لائن پربھارت نے مسلسل گولہ باری کی جس سے ہزاروں کی تعداد میں شہری شہید ہوئے۔ شہداء میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی بھی تھی۔ ہزاروں لوگ معذور ہوئے۔ عوامی ، تعلیمی، کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوئیں۔ معیشت تباہ ہوئی۔ کھیتی باڑی کا سلسلہ رک گیا۔ لوگ مال  مویشیوں سے بھی محروم ہوئے۔ زیر تعلیم بچے شہید اور زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ سکولز کی عمارتیں بھی گولی باری سے خاکستر ہو کر زمین بوس ہو گئیں۔ جنگ بندی لائن پر کئی راستے بھارتی گولہ باری کی زد میں آ گئے جس کی وجہ سے ان کے متبادل بائی پاس راستے تعمیر کئے گئے یاقدیم راستوں کے آگے کنکریٹ دیواریں لگائی گئیں۔ یہ سب عارضی انتظام تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی یہ دیواریں بھی گر گئیں۔ نئے راستے بھی تباہ ہو گئے کیوں کہ بعد میں  ان کی مرمت پر بعد ازاں توجہ نہ دی گئی۔