مبالغہ آمیز رپورٹنگ ، ہائیبرڈ وار کا ایک اور ہتھیار 

مبالغہ آمیز رپورٹنگ ، ہائیبرڈ وار کا ایک اور ہتھیار 

4 days ago.

کسی بھی شخص یا ملک کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ہر طرح کی ٹیکنالوجی اورمیڈیائی کرتب کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ جعلی خبریں، جھوٹ پھیلانا یا کسی ذرائع سے ملنے والی خبروں کو بلاتصدیق دہرانا بھی عدم استحکام پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے ، جس کے نتیجے میں کسی بھی فرد یا ملک کو بے یقینی کی سولی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔ عام طور پر اس طرح کی خبریں بہت دیر تک نہیں چلتیں کیوں کہ سچ بہرحال اپنا راستہ بنا لیتا ہے لیکن ان سے نقصان ہوتا ہے بالخصوص جب آبادی کا بڑا حصہ ناخواندہ ہو تو یہ زہریلے اثرات زیادہ دیر پا ہوتے ہیں۔ مفادات کی جنگ میں ایک اور خطرناک حربہ  جسے ہم مسالے دار خبریں کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بنیادی طور پر خبر درست ہے لیکن اسے مرچ مسالا  لگا کر بیان کیا گیا ہے، بات کو بڑا چڑھا کر اس میں منفیت بھی شامل کردی گئی ہے، اس کے نتائج بھی فیک نیوز جیسے ہی برآمد ہوتے ہیں یعنی اس کے نتیجے میں بھی عدم استحکام، شبہات اور بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔  

 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  مسلم لیگ ن کا محور نواز شریف کی شخصیت ہے لیکن شہباز شریف نے ، بالخصوص لاہور میں، بڑے بڑے منصوبے مکمل کرکے خود کو مردِ میدان ثابت کیا ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ شہباز شریف کی صحت بھی اچھی نہیں، مزید یہ کہ وہ شدید کمر درد میں مبتلا ہیں۔ حمزہ شہباز کو ن لیگ میں قیادت کے لیے ایک آپشن قرار دیا جاتا تھا وہ بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہے اور جیل جاسکتے ہیں، اسی سبب سے حمزہ  پرُاعتمادانداز میں اپنے قدم جمانہیں پار ہے ۔ شریف خاندن کی سیاست سے دست برداری مسلم لیگ ن کے لیے آخری دھکا ثابت ہوگی۔ کسی مضبوط قیادت کے بغیر اس کے ارکان تتر بتر ہوجائیں گے اور دیگر جماعتوں کا رُخ کرلیں گے۔ اس کی زد میں شاہد خاقان عباسی بھی آئیں گے جنہوں نے بطور وزیر اعظم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن شریف خاندان سے وفاداری نے انہیں کرپشن کے مقدمات میں ملوث کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹبیلشمنٹ کی نظر میں چودھری نثار سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں نظام کے استحکام کو متاثر کریں گی اور پہلے سے کمزور پڑتی پاکستانی ریاست کے لیے صورت حال مزید نازک ہوجائے گی۔   

 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

a month ago.

1971ء کے بعد قومی سطح کی دو سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وجود میں آئیں۔ یہ جماعتیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں وجود رکھتی تھیں لیکن ایک خاص لسانی پس منظر کے ساتھ مختلف صوبوں میں ان کی قوت بھی مختلف تھی۔ بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی ملک کی حقیقی قومی سیاسی جماعت کے مقام سے کئی درجے نیچے اُتر آئی۔ پنجاب میں پی پی کا دائرہ اثر محدود ہوگیا اور بلوچستان اور کے پی کے میں بھی پارٹی کم زور پڑ گئی۔بار بار سندھ کارڈ کھیلنے کی وجہ سے یہ سندھی جماعت بن گئی سندھ میں بسنے والے مہاجر بھی جس سے بے گانگی رکھتے ہیں۔ زرداری اور ان کے خاندان کے گرد جوں جوں احتساب کا گھیرا تنگ ہورہا ہے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے بڑے  معاملات میں وعدہ معاف گواہ سامنے آرہے ہیں۔ دوسری جانب بلاول نوجوان اور ناتجربے کار ہیں اور نہ ہی کرشماتی لیڈر بن سکے ہیں اس لیے اس وقت پیپلز پارٹی کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ میڈیا کا زر خرید حصہ آصف زرداری کے مقدمات کو مذاق میں اُڑا رہا ہے تاہم ایک مرتبہ اگر عذیر بلوچ کا بیان سامنے آگیا تو زرداری کے خلاف قتل کے الزامات پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔   

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) جب ابتدائی طور پر امریکہ نے افغانستان میں شمالی اتحاد کی حکومت تشکیل دی تو بھارت نے بالخصوص(اور کم ازکم ابتدائی طور پر) شمالی اتحاد کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات بحال کیے۔ بھارت نے جنگی محاذ پر امریکہ اور آئی ایس اے ایف کو مصروف رہنے دیا اور خود افغان انٹیلی جینس انفرااسٹرکچر سے روابط پیدا کیے،’’ادارتی تعاون‘‘ کی آڑ میں افغان بیورکریسی میں سرمایہ کاری کی جس کا موازنہ امریکیوں کے کیے گئے اخراجات سے کیا جاسکتا ہے۔ اداروں کی تعمیر کے پردے میں بھارتی ’را‘ نے افغان انٹیلی جنس ادارے خود کو اپنے قابو میں کر لیا۔ یہ پاکستان مخالف پالیسی کو فروغ دینے کا بہتری موقع تھا۔ اس کے نتیجے میں 1)پاکستان کے خلاف جعلی انٹیلی جنس رپورٹ پھیلائی گئیں2) ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پناہ دی گئی 3) جب پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو ٹی ٹی پی کو ہتھیار، سرمایہ اور بارود فراہم کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ مزید یہ کہ کراچی اور پشاور میں ہونے والے حملوں میں بھارت پوری طرح ٹی ٹی پی کے ساتھ ملوث رہا۔ یہ نوے کی دہائی میں کراچی میں خاد اور را کی مشترکہ سازش سے ہونے والے دھماکوں کا تسلسل ہی تھا۔   

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

2 months ago.

ہائیبرڈ سے مراد ایسی جنگ ہے جو روایتی اور غیر  روایتی، حرکی و غیر حرکی تمام صورتوں میں دشمن کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دشمن کو خفیہ وار سے کم زور کرنے کی حکمت عملی کے لیے  ہندوستان میں ارتھ شاستر صدیوں  پرانا ماخذ ہے۔  اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے پرانے اصولوں پر ترتیب دیے گئے ان حربوں کو بھی جدت دی ہے۔ ہائیبرڈ وارفیئر کے دو یا زائد اجزا ہیں۔ اس میں بیک وقت طاقت کے مختلف ذرائع کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے سماجی کمزوریوں پر وار کیا جائے اور معاشرتی تانے بانے کو زک پہنچے۔ اس حکمت عملی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کی نشان دہی اور تشخیص آسانی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس حکمت عملی کا تمام  انحصار پوری رفتار، پھیلاؤ اور قوت سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے، جس نے معلومات کے اس عہد کو صورت گری کی ہے۔ اس کی ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اس میں حملے کے ماخذ یا حملہ آور کی نشاندہی بہ آسانی ممکن نہیں۔   

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) گزشتہ برس ماسکو نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں داخلی سطح پر طالبان سمیت افغانستان کی سیاسی قوتوں کے مابین  امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک نے بھی شرکت کی۔ دہائیوں بعد انفرادی سطح پر رابطے ہوئے اور مؤقف  میں بھی تبدیلی آئی۔ خطے میں واحد بھارت ہے جسے افغانستان کے امن میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بھارت اس تباہ حال ملک میں صرف اس لیے کشیدگی جاری رہنے کا خواہاں ہے تاکہ اس کے ذریعے سے پاکستان میں انتشار کو ہوا دی جاتی رہے۔ مزید یہ کہ اس پراکسی جنگ میں بھارت مالی وسائل، افرادی قوت یا رسد کی صورت میں بڑی بھاری سرمایہ کاری کرچکا تھا۔ امریکہ بھی یہاں قیام کی بھاری قیمت چکا رہا ہے جب کہ افغانستان میں نہ صرف بھاری جانی نقصان ہورہا ہے بلکہ اسے انفرااسٹرکچراور بڑے شہروں کی تباہی کا بھی سامنا ہے۔ افغان خفیہ ادارے خاد کے ساتھ مل کر بھارتی ’را‘ پاکستان کی نظریاتی اور زمینی حدود پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر نام نہاد جہادی گروہوں کے ذریعے حملہ آور ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو طالبان کے ساتھ نتھی کر کے بھارت نے اسے دہشت گردی قرار دینے کے لیے بہت ڈھنڈورا پیٹا۔ پاکستان کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسے دہشت گردی کا معاون و مددگار بنا کر پیش کیا گیا۔

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

2 months ago.

افغانستان سے طالبان کے خاتمے کے لیے امریکہ کی قیادت میں نیٹو کی جانب سے دو دہائیوں تک جاری رہنے والی مداخلت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ امریکی فوج نے نہ سہی لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام نے اپنی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے عزت سے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔  حالاں کہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں افغانستان(عراق اور شام) سے انخلا سر فہرست تھا، لیکن پینٹاگون کی اضافی فوج کی تجویز منظور کی گئی جس کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔2001 ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد آج سب سے بڑا علاقہ طالبان کے زیر انتظام ہے۔ ٹرمپ نے ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل اور عسکری سطح پر موجودہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے قدرے عجلت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ سیکرٹری ڈیفنس جیمز میٹیس احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔ امریکہ کی نمائندگی کے لیے افغان نژاد زلمے خیل زاد کا انتخاب کیا گیا۔    

ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم 

ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم 

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستان کی تمام 18ریگولیٹر باڈیز حکومت کے ماتحت ہیں اور ان میں تعیناتی اور برطرفی کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہے۔ ہمارے ہاں ریگولیٹری ادارے حکومت کے آگے بے بس نظر آتے ہیں اور اپنے آئینی اختیارات سے بھی دست بردار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے برعکس پاکستان میں ریگولیٹری ادارے اپنے غلط کاموں کے باعث خبروں میں آتے ہیں۔ کسی بھی شعبے یا صنعت سے متعلق فرد ان اداروں میں تعینات ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی ریگولیٹر کسی ایسے شعبے یا صنعت کی نگرانی یا ضابطہ بندی کیسے کرسکتا ہے، جس سے وہ خود منسلک ہو؟ لیکن ہمارے ہاں یہ روا رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ریگولٹر ادارے کے سربراہان کی تعیناتی شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ آزادنہ فیصلوں اور کارکردگی کے لیے کونفلیکٹ آف انٹرسٹ یا مفادات کے تصادم کے اصول پر واضح انداز میں عمل ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کسی ریگولیٹری ادارے سے وابستہ شخص کسی دوسرے کمرشل ادارے میں کام کرسکتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔