اسلام آباد(اوصاف نیوز)پاکستان میں افراط زر کی کمی کے باعث پاکستانی کرنسی طویل عرصہ سے گراوٹ کا شکارہے جس کے بعد امریکی ڈالر میںاضافہ معمول بن چکا ہے .
ڈالر اور پاکستانی روپے کے تبادلہ کی شرح پاکستان کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔ جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہوتی ہے، تو پاکستان کے لیے درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔
پاکستان بہت سی چیزیں باہر سے منگواتا ہے، جیسے کہ تیل اور مشینری، اس لیے ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے ان سب کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بڑھتی ہے، تو درآمدات سستی ہو جاتی ہیں اور مہنگائی کم ہو سکتی ہے، لیکن اس سے
پاکستان کی برآمدات کی قیمت باہر کے ملکوں میں بڑھ جاتی ہے، جس سے برآمدات کم ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی عوام ڈالر، اماراتی درہم، یورو اور سعودی ریال کے ریٹوں میں اس لیے دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ ان کرنسیوں کے پاکستان کی معیشت اور ان کی اپنی زندگی پر بہت سے اثرات ہوتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی بیرون ملک میں کام کرتے ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں، اور وہ ان کرنسیوں میں ہی پیسہ کماتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، 30 قیدی پاکستان منتقل
