Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

جہاں ایک لہر دنیا بدل سکتی ہے

آبنائے ہرمزتاریخ کے دریامیں ایک باریک مگرفیصلہ کن دھارا،تاریخی ارتقااورطاقت کی کشمکش اورتلاطمِ کاایک ایسانازک موڑہے ،جہاں جغرافیہ تقدیر بن جاتاہے۔انسانی تاریخ کے طویل سفرمیں بعض مقامات ایسے ابھرتے ہیں جواپنی جسامت میں چھوٹے مگراپنے اثرات میں وسیع ترکائنات کے ہم پلہ اوردنیا کے نقشے پرایسے ہوتے ہیں جومحض خطِ فاصل نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑدینے والی قوت رکھتے

مفاد سے ماورا دوستی

زمان قدیم کی خاموش مگر گہری دانائی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دوستی محض خوش اخلاقی کے چند رسمی جملوں یا وقتی مفاہمتوں کا نام نہیں۔ یہ سہولت اور مصلحت کی بنیاد پر قائم ہونے والا کوئی عارضی بندھن بھی نہیں، بلکہ دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ایک گہرا، مضبوط اور پائیدار تعلق جنم لیتا ہے

بکھرے موتی

(گزشتہ سے پیوستہ) اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآنِ پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ ہارون الرشید کے محل کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر میں نے اس نوجوان کا سارا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے درخواست کی کہ وہ مجھے خلیفہ تک پہنچا دے۔ داروغہ نے پہلے

انسانی حقوق کا سیاسی سودا

دنیا کی سیاست میں بعض الفاظ اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت، مذہبی آزادی اور انصاف بھی انہی الفاظ میں شامل ہیں۔ طاقت ور اقوام جب ان اصطلاحات کو استعمال کرتی ہیں تو اکثر ان کا مقصد مظلوم انسان کی داد رسی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانی

یومِ الحاق کشمیر

19جولائی کو پاکستان اور دنیا بھر کے کشمیری ’’یومِ الحاق کشمیر‘‘ مناتے ہیں۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر کی مسلم قیادت نے متفقہ طور پر ’’قراردادِ الحاق پاکستان‘‘منظور کی تھی۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں، یہ کشمیری قوم کے اس غیر متزل عہد کی علامت ہے کہ ان کی جغرافیائی، مذہبی، معاشی

ستھرے پنجاب،کا لتھڑا ملتان

بارش رحمت خدا وندی ہے ، جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کو یہ بھی ترسا ترسا،کر ہی آتی ہے ،جیسے تخت لاہور کے حاکموں کی توجہ ۔اب کے برس موسم گرما نے وسیب کے باسیوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں اور اب جو رحمت کے بادل چھم چھم آئے،تو دیہی اور شہری عوام کو بھی چھم چھم رلا دیا،چھوٹی سڑکیں اور

کالم پروفائل