Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

ستھرے پنجاب،کا لتھڑا ملتان

بارش رحمت خدا وندی ہے ، جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کو یہ بھی ترسا ترسا،کر ہی آتی ہے ،جیسے تخت لاہور کے حاکموں کی توجہ ۔اب کے برس موسم گرما نے وسیب کے باسیوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں اور اب جو رحمت کے بادل چھم چھم آئے،تو دیہی اور شہری عوام کو بھی چھم چھم رلا دیا،چھوٹی سڑکیں اور گلیاں تو معمول کی بات ٹھہری شہر کی شہراہوں کو بھی نہروں ،نالوں کی مثل بنا دیا،گھروں کی چھتوں کا بہائو تھما ہے مگر غریبوں اور بے آسرائوں کے آنسو نہیں تھمے ۔شہر میں پکھی واسوں کی جھگیاں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں ،اڑے ہوشوں کے ساتھ خاک بسر ،اوپر چھت نہیں تو نیچے فرش بھی پانی ٹھہرا ۔ایسے ہی کچھ حالات نیم پکے گھروندوں والوں کا ہے کہ دراڑوں پڑی دیواروں کے پیچھے بیٹھے اپنے آپ سے شکوہ گر ہیں کہ نہ پنجاب کی راجمکاری کو کو فرصت ہے نہ اس کے کارندوں کو کہ بے بسوں اور بے کسوں کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ سرائیکی وسیب کے لئے بارش ہمیشہ خوشی اور خوف کے درمیان معلق ایک کیفیت رہی ہے۔ برسوں کی پیاسی زمین جب سیراب ہوتی ہے تو کسان کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے، مگر چند گھنٹوں کی تیز بارش ہی اس کے خواب، اس کا گھر اور اس کی جمع پونجی پانی کے ریلوں میں بہا لے جاتی ہے۔
ملتان، جو اولیاء کی سرزمین کہلاتا ہے، آج اپنی گلیوں میں پانی نہیں بلکہ حکمرانوں کی بے اعتنائی کا عکس لئے کھڑا ہے۔ وہ شہر جسے ’’ستھرے پنجاب‘‘کے دعوئوں میں ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، چند ساعتوں کی بارش کے بعد ندی نالوں کا منظر پیش کرتا ہے۔ سڑکیں ڈوب جاتی ہیں، بازار سنسان ہو جاتے ہیں، گاڑیاں بارش کے پانی میں کشتیوں کی طرح تیرنے لگتی ہیں اور غریب آدمی اپنی جھونپڑی کی دیواریں تھامے آسمان کی طرف حسرت،سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔ پکھی واسوں کی جھگیاں خس و خاشاک کی مانند فضاء میں اڑتی نظر آتی ہیں ۔ کسی ماں کی گود بھیگ جاتی ہے، کسی بچے کی کتابیں پانی میں تیرتی ہیں، کسی بوڑھے کی لاٹھی کیچڑ میں دھنس جاتی ہے۔ جن کے سروں پر پہلے ہی غربت کا آسمان تھا، ان سے چھت کا آخری سہارا بھی چھن جاتا ہے۔ بارش رک جاتی ہے مگر ان کی آنکھوں میں اشک جاری رہتے ہیں، نیم پکے مکانوں کی دیواروں میں پڑنے والی دراڑیں صرف اینٹوں کی نہیں ہوتیں، یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی دراڑیں بھی ہوتی ہیں۔ ہر بار یہی وعدے، یہی دعوے، یہی منصوبے، مگر ہر برسات میں وہی ڈوبی ہوئی بستیاں، وہی بے بس چہرے اور وہی امداد کی منتظر آنکھیں۔سرائیکی وسیب کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں صرف بارش کا پانی ہی خطرہ نہیں بنتا، دریاں کا مزاج بھی کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ چناب، راوی، ستلج اور سندھ جب مشتعل مزاجی کے ساتھ اپنے کنارے چھوڑتے ہیں تو بستیاں، کھیت، قبرستان اور خواب سب ایک ہی رنگ کے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اس برس بھی اگر بارشوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو آج جو شہر پانی میں کھڑے ہیں، کل شاید پورے وسیب پر سیلاب کے سیاہ سایہ منڈلا رہے ہوں ۔ تب صرف جھگیاں نہیں، فصلیں بھی بہیں گی، مویشی بھی مریں گے اور ہزاروں خاندان پھر سے بے گھر ہو جائیں گے۔ افسوس یہ ہے کہ ہر سیلاب کے بعد صرف تصویریں بدلتی ہیں، کہانیاں نہیں۔ ہر سال کشتیاں آتی ہیں، راشن کے تھیلے تقسیم ہوتے ہیں، سروے ہوتے ہیں، وعدے کئے جاتے ہیں اور پھر سب کچھ اگلے موسمِ برسات تک فراموش کر دیا جاتا ہے۔ وسیب کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں تقدیر کا نام دے دیا جاتا ہے۔یہ خطہ صرف قدرتی آفات کا شکار نہیں، منصوبہ بندی سے محرومی بھی اس کا مقدر ہوتی ہے۔
نکاسی آب کا ناقص نظام، برساتی نالوں پر قبضے، بے ہنگم شہری پھیلا اور بڑھتی ہوئی دیہی آبادیوں پر مسلسل بے توجہی ہر بارش کو ایک سانحہ بنا دیتی ہے۔ اگر ترقی صرف اشتہارات میں ہو اور زمین پر نہ ہو تو بارش چند گھنٹوں میں تمام دعووں کو بہا لے جاتی ہے۔سرائیکی وسیب آج بھی ریاست سے کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کرتا۔ اسے صرف اتنا چاہیے کہ اس کے بچے محفوظ رہیں، اس کے کسان کی فصل سلامت رہے، اس کی جھونپڑی قائم رہے، اس کی گلی پانی میں نہ ڈوبے اور اس کے دکھ صرف اعداد و شمار نہ بنیں۔ملتان آج لتھڑا ہوا ہے، مگر اصل داغ اس شہر پر نہیں، ان دعوئوں پر ہے جو ہر سال ترقی کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ اگر آج بھی اس وسیب کی پکار نہ سنی گئی تو کل آنے والا سیلاب صرف مٹی کے گھروندے نہیں بہالے جائے گا، بلکہ محروم لوگوں کے ریاست پر بچے کھچے اعتماد کو بھی اپنے ساتھ لے جائے گا۔کیونکہ پانی جب حد سے گزر جائے تو صرف راستے نہیں ڈبوتا بلکہ حکمرانوں کا اعتبار بھی ڈبو دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں