دنیا کی سیاست میں بعض الفاظ اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت، مذہبی آزادی اور انصاف بھی انہی الفاظ میں شامل ہیں۔ طاقت ور اقوام جب ان اصطلاحات کو استعمال کرتی ہیں تو اکثر ان کا مقصد مظلوم انسان کی داد رسی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسانی حقوق کی بہت سی بین الاقوامی رپورٹس انصاف کے ترازو سے زیادہ سیاسی مفادات کے پلڑے میں تولی جاتی ہیں۔ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ برائے 2025 تا 2023 بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔بظاہر یہ رپورٹ پاکستان کی جانب سے 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے مرتب کی گئی، مگر دکھائی یہ دیتا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے خلاف ایک مخصوص تاثر پیدا کرنا ہے۔ رپورٹ میں زمینی حقائق سے زیادہ مخصوص ایجنڈے کی حامل این جی اوز کے بیانات کو اہمیت دی گئی ہے، جبکہ ریاستی اقدامات، آئینی اصلاحات اور عملی پیش رفت کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا ہے یا انتہائی معمولی حیثیت دی گئی ہے۔پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے انسانی حقوق، مزدوروں کے تحفظ، ماحولیات، خواتین کی فلاح، عدالتی اصلاحات اور مذہبی آزادی کے شعبوں میں مسلسل قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی طرح پاکستان میں بھی کمزوریاں موجود ہیں، لیکن کمزوریوں کو پوری ریاست کی شناخت بنا دینا بد دیانتی بلکہ منافقانہ طرز عمل کی بد ترین مثال ہے ۔
رپورٹ کا سب سے نمایاں حصہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان واقعی وہ ملک ہے جس کی تصویر اس رپورٹ میں پیش کی گئی ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کی تقریباً97 فیصد آبادی مسلمان ہے، مگر اس کے باوجود عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذہبی برادریاں اپنی عبادات، مذہبی رسومات اور تہوار آزادی سے مناتی ہیں۔ ملک بھر میں ہزاروں گرجا گھر، سیکڑوں مندر اور درجنوں گوردوارے موجود ہیں۔ آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہ تعمیر کرنے اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نمائندگی موجود ہے، سرکاری ملازمتوں میں ان کے لیے کوٹہ مقرر ہے، جبکہ مذہبی تہواروں کے موقع پر ریاست خود ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرتی ہے۔یہ سب حقائق یورپی یونین کی رپورٹ میں کہیں نمایاں دکھائی نہیں دیتے۔اس کے برعکس اگر خود یورپ کا طرز عمل دیکھا جائے تو تصویر یکسر مختلف ہے۔ وہی یورپ جو دنیا کو مذہبی آزادی کا درس دیتا ہے، اس کے متعدد ممالک میں مسلمان خواتین کو اپنے مذہبی لباس کے ساتھ زندگی گزارنے کی آزادی حاصل نہیں۔ فرانس میں حجاب، نقاب اور عبایا پر پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ کئی دوسرے یورپی ممالک میں بھی چہرہ ڈھانپنے والے لباس کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی مسلمان خاتون اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق لباس پہننا چاہے تو اسے قانون کی دیوار سے ٹکرا دیا جاتا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک طرف دوسروں کو مذہبی آزادی کا سبق پڑھایا جائے اور دوسری طرف اپنے ہی ملکوں میں مذہبی شناخت کو جرم بنا دیا جائے؟یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں بلکہ انصاف کے عالمی تصور کا ہے۔
توہین آمیز خاکے ،قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات، مساجد پر حملے، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور مذہبی تعصب مغربی دنیا میں معمول بن چکا ہے، اس کے باوجود پاکستان جیسے ملک کو مذہبی رواداری کا درس دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جاتی ۔یہ دوہرا معیار ہی دراصل اس پوری رپورٹ کی بنیادہے۔رپورٹ کا دوسرا کمزور پہلو اس کے ذرائع ہیں۔ کسی بھی ملک کے بارے میں فیصلہ مخصوص ایجنڈے کہ حامل مشکو ک این جی اوز کی رپورٹس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی ذمہ دارانہ جائزے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اداروں، عدالتی فیصلوں، پارلیمانی قانون سازی اور زمینی حقائق کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ بدقسمتی سے یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔
اگر جنوبی ایشیا کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو سوالات اور بھی سنگین ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد، مذہبی نفرت، عبادت گاہوں پر حملے اور ہجومی قتل کے بے شمار واقعات عالمی سطح پر رپورٹ ہو چکے ہیں۔ خود امریکی ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود یورپی یونین کی زبان وہاں نرم اور پاکستان کے معاملے میں غیر معمولی سخت کیوں ہو جاتی ہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ انصاف ہمیشہ ایک ہی ترازو سے کیا جاتا ہے۔ اگر ترازو بدل جائے تو پھر انصاف نہیں، سیاست رہ جاتی ہے۔پاکستان پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہی ملک گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑرہا ہے۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، مگر اس کے باوجود ریاست نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ ان قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اگر صرف خامیاں تلاش کی جائیں تو یہ انصاف نہیں ۔
پاکستان کو بھی اب دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے بجائے حقائق کی زبان میں جواب دینا ہوگا۔ دنیا کے سامنے اپنے آئینی نظام، عدالتی فیصلوں، اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، سماجی اصلاحات اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ خاموشی ہمیشہ سچ کی محافظ نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ جھوٹ کو طاقت بھی دے دیتی ہے۔اگر یورپی یونین واقعی انسانی حقوق کی علمبردار بننا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ اسلام دشمنی، مذہبی امتیاز، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور مذہبی آزادی پر پابندیاں بھی انسانی حقوق کے ہی مسائل ہیں۔ جب تک ان مسائل پر وہی معیار اختیار نہیں کیا جاتا جو دوسروں کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، اس وقت تک ایسی رپورٹس دنیا کی عدالت میں غیر جانب دار دستاویز نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھی جاتی رہیں گی۔انسانی حقوق کا حقیقی احترام اسی وقت ممکن ہے جب انصاف کا ترازو ہر ملک، ہر قوم اور ہر مذہب کے لیے یکساں ہو۔ بصورت دیگر، ایسی رپورٹس سچ کی آواز نہیں بلکہ طاقت کی بازگشت سمجھی جائیں گی۔