Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

بکھرے موتی

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآنِ پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ ہارون الرشید کے محل کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر میں نے اس نوجوان کا سارا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے درخواست کی کہ وہ مجھے خلیفہ تک پہنچا دے۔ داروغہ نے پہلے تو مجھے جھڑک دیا، مگر پھر اپنے پاس بٹھا لیا۔ کچھ دیر بعد خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کر لیا۔خلیفہ نے فرمایا:’’کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ تم مجھ سے براہ راست بات کرنے کے بجائے رقعہ لکھ کر بھیجو؟‘‘میں نے عرض کیا:’’اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند فرمائے، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا، بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔‘‘ خلیفہ نے فرمایا:’’کون سا پیغام؟‘‘میں نے قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر ان کے سامنے رکھ دی۔
انہیں دیکھتے ہی خلیفہ نے بے چینی سے پوچھا:’’یہ چیزیں تمہیں کس نے دی ہیں؟‘‘میں نے عرض کیا:’’ایک گارا بنانے والے مزدور نے۔‘‘میری یہ بات سنتے ہی خلیفہ نے تین مرتبہ دہرایا:’’گارا بنانے والا… گارا بنانے والا… گارا بنانے والا…‘‘ پھر وہ زار و قطار رونے لگا۔ کافی دیر تک روتا رہا، پھر مجھ سے پوچھا:’’وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا:’’وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔‘‘یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر پڑااور عصر تک بےہوش رہا۔ میں حیران و پریشان وہیں موجود رہا ،جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا’’کیا تم اس کی وفات کے وقت اس کے پاس موجود تھے؟ ‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔پھر فرمایا:’’کیا اس نے تم سے کوئی وصیت بھی کی تھی؟‘‘میں نے اس نوجوان کی پوری وصیت،اس کا پیغام اور وہ تمام باتیں بیان کر دیں جو اس نے خلیفہ کے لیے کہی تھیں۔یہ سب سن کر خلیفہ کا غم اور بڑھ گیا ۔ اس نے اپنے سر سے عمامہ اتار دیا، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور روتے ہوئے کہنے لگا: ’’اے مجھے نصیحت کرنے والے! اے میرے زاہد و پارسا! اے میرے شفیق! اے میرے محسن!‘‘وہ مسلسل اس نوجوان کو یاد کر کے روتا رہا۔یہ سب دیکھ کر میری حیرت اور بڑھ گئی کہ آخر ایک عام سے مزدور کے لیے خلیفہ اس قدر غمزدہ کیوں ہے؟
رات ہوئی تو خلیفہ نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں اسے اس نوجوان کی قبر پر لے چلوں۔ میں انہیں ساتھ لے کر قبرستان پہنچا۔ خلیفہ نے اپنا چہرہ چادر میں چھپا رکھا تھا اور خاموشی سے میرے پیچھے چل رہا تھا۔جب ہم قبرستان پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’عالی جاہ! یہ اسی نوجوان کی قبر ہے۔‘‘خلیفہ فوراً قبر سے لپٹ کر رونے لگا۔ کافی دیر تک گریہ کرنے کے بعد وہ قبر کے سرہانے کھڑا ہوا اور مجھ سے کہنے لگا:’’یہ نوجوان میرا بیٹا تھا، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا۔ ایک دن یہ رقص و سرود کی محفل میں مصروف تھا کہ مکتب میں کسی بچے نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی:کیا ایمان والوں کے لیےابھی وہ وقت نہیں آیاکہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں؟ (سورۃ الحدید: 16) جوں ہی اس نے یہ آیت سنی، اللہ تعالیٰ کے خوف سے کانپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور وہ بار بار کہنے لگا:’’کیوں نہیں! کیوں نہیں!‘‘یہ کہتے ہوئے وہ محل سے نکل گیا، اور اس دن کے بعد ہمیں اس کی کوئی خبر نہ ملی، یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر سنا دی۔
اسی واقعے کے بعد حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کے پاس ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:’’حضرت! میں گناہ کرتا ہوں، مگر چھوڑ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی ہوں۔ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ میں گناہوں سے بچ جاؤں۔‘‘اللہ والوں کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو دھکے نہیں دیتے، نفرت نہیں کرتے، بلکہ محبت، شفقت اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھاتے ہیں۔حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اچھا، میں تمہیں چند باتیں بتاتا ہوں۔ اگر ان پر عمل کر سکو تو پھر گناہ کرنا۔‘‘نوجوان نے عرض کیا:’’حضرت! ضرور ارشاد فرمائیں۔‘‘آپ نے فرمایا:’’پہلی بات یہ ہے کہ جب گناہ کرو تو اللہ رب العزت کی نگاہوں سے چھپ کر کرنا۔‘‘ نوجوان نے عرض کیا:’’حضرت! یہ کیسے ممکن ہے؟ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ ‘‘ آپ نے فرمایا:’’اچھا، دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رزق کھانا چھوڑ دو۔ جب اس کا رزق نہ کھاؤ تو پھر اس کی نافرمانی بھی کر لینا۔‘‘نوجوان نے عرض کیا’’یہ بھی ممکن نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کا دیا ہوا رزق ہے۔‘‘حضرت نے فرمایا:’’اچھا، تیسری بات سنو۔ جب ملک الموت تمہاری روح قبض کرنے آئیں تو ان سے کہہ دینا کہ کچھ دیر انتظار کریں، میں پہلے سچی توبہ کر لوں۔‘‘ نوجوان نے عرض کیا:’’حضرت! وہ تو ہرگز انتظار نہیں کریں گے۔ جس سانس پر موت آنی ہے، اس کے بعد انسان ایک لمحہ بھی مہلت نہیں پا سکتا۔‘‘
آپ نے فرمایا:’’اچھا، چوتھی بات یہ ہے کہ جب تمہیں قبر میں رکھا جائے اور منکر نکیر سوال کرنے آئیں تو ان سے کہہ دینا کہ بغیر اجازت میری قبر میں کیوں آئے ہو، باہر نکل جاؤ۔ٔ‘‘نوجوان نے عرض کیا:’’حضرت! یہ بھی ممکن نہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئیں گے۔‘‘حضرت نے فرمایا:’’اچھا، آخری بات سن لو۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جانے کا حکم دے اور فرشتے تمہیں پکڑ کر لے جانے لگیں تو ڈٹ جانا اور کہہ دینا کہ میں جہنم میں نہیں جاؤں گا۔‘‘نوجوان نے عرض کیا:’’حضرت! فرشتوں کے سامنے میری کیا حیثیت ہے کہ میں انکار کر سکوں؟‘‘
یہ سن کر حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’اے دوست! جب تم ان میں سے ایک بات بھی نہیں کر سکتے تو پھر اپنے رب کی نافرمانی کیوں کرتے ہو؟‘‘یہ سن کر نوجوان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ اس نے عرض کیا:’’حضرت! مجھے بات سمجھ آ گئی۔ آج کے بعد میں اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘یہ اللہ والوں کا اندازِ تربیت تھا۔ وہ سختی اور نفرت سے نہیں، بلکہ محبت، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ دلوں کو بدل دیتے تھے، اور یہی انداز گناہگار کو توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی راہ دکھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں