سوشل میڈیا!بچوں پر پابندیاں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے زندگی کے تقریبا ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ان پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی، رابطوں کی آسانی اور اظہارِ رائے کے بے
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے زندگی کے تقریبا ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ان پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی، رابطوں کی آسانی اور اظہارِ رائے کے بے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیلوں کی سماعت کے مرحلے پر مجرمان کے ذہنی مریض ہونے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد
(گزشتہ سے پیوستہ) سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر نوجوان ایک داعی بھی ہے اور ایک ذمہ دار شہری بھی۔ جو کچھ ہم لکھتے، شیئر کرتے یا آگے پہنچاتے ہیں اس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے
آج کا دور معلومات کی فراوانی کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے سے خبر، رائے، نظریہ یا فکر ہمارے موبائل فون کی اسکرین پر موجود ہوتی ہے۔ اس تیز رفتار زمانے میں جہاں علم کے
26ذی الحجہ، 23ہجری کو حضرت عمررضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے لئے مسجد نبوی تشریف لائے۔ صفیں درست کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک مجوسی غلام ابو لولو فیروز چھری لے کر اچانک آگے بڑھا اور حضرت عمر
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ پاکیزہ اور برگزیدہ لوگ ہیں کہ جنہیں رسول اکرم ۖ کی صحبت کا شرف حاصل ہے، جن کے ذریعہ سے اسلام کا تعارف کرایاگیا اور رسول عربی ۖ کی سیرت طیبہ اور سنت
سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے، لندن ہائی کمیشن کے سامنے، یا راولا کوٹ میں، پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زبان درازی کرنے والے کشمیریوں کے خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتے، لیکن ان چند بے لگام بد زبانوں کو
ریاستیں صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب عوامی بے چینی، سیاسی بے حسی اور انتظامی کمزوری ایک ہی مقام پر جمع ہو جائیں تو بحران جنم
انسانی معاشرہ قانون، اخلاقیات اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، لیکن جب نفرت، انتقام اور ذاتی خواہشات انسان کے شعور پر غالب آ جائیں تو ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف ایک فرد بلکہ
دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا زندگی صرف تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، آسائشیں جمع کرنے