آزاد کشمیر!ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت
ریاستیں صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب عوامی بے چینی، سیاسی بے حسی اور انتظامی کمزوری ایک ہی مقام پر جمع ہو جائیں تو بحران جنم
ریاستیں صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب عوامی بے چینی، سیاسی بے حسی اور انتظامی کمزوری ایک ہی مقام پر جمع ہو جائیں تو بحران جنم
انسانی معاشرہ قانون، اخلاقیات اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، لیکن جب نفرت، انتقام اور ذاتی خواہشات انسان کے شعور پر غالب آ جائیں تو ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف ایک فرد بلکہ
دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا زندگی صرف تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، آسائشیں جمع کرنے
موسمِ گرما اپنی پوری شدت کے ساتھ اثر انداز ہو چکا ہے۔ سورج کی تیزدھوپ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور روزمرہ معمولات میں پیش آنےوالی مشکلات اس موسم کو ایک آزمائش بنادیتی ہیں۔ بظاہریہ موسم صرف جسمانی تھکن
(گزشتہ سے پیوستہ) حضور اقدسﷺ نے فرمایا بے شک وہ عرض کرنے لگے اپنا دست مبارک مجھے پکڑا دیجئے تاکہ میں آپ کے دست مبارک پر ایک عہد کروں حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تو انہوں نے
گلگت کے جلسوں سے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کی صدائیں آ رہی ہیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوری سیاست ابھی تک 9سالہ پرانے کٹے کے کھونٹے سے ہی بندھی ہوئی ہے،اس لئے ’’سیاہ ست‘‘ کے موضوع پر وقت ضائع کرنے
(گزشتہ سے پیوستہ) بغض عثمان رضی اللہ عنہ کا انجام :سنن ترمذی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کے باب میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کی نمازِ جنازہ اس لیے چھوڑ دی کہ وہ
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں شامل، اور دامادِ رسول ﷺ ہونے کا اعزاز پانے والے
خطبہ حج الوداع کی بڑی خاص اہمیت ہے،یہ نسل انسانی کے حقوق کا بنیادی منشور ہے، یہ خطبہ ہمارے لئے مشعل راہ بلکہ ہماری زندگی بدلنے اور دین کا نچوڑ ہے،جس میں آقائے نامدارﷺہر طرح کے معاملات و مسائل کو
نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر پہلو سے کامل، جامع اور بے مثال ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی پوری انسانیت کے لئے ایک کامل نمونہ اور راہِ ہدایت ہے۔ دنیا کی تمام الہامی کتابوں میں، حتیٰ کہ ہندو مت