ریاستیں صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب عوامی بے چینی، سیاسی بے حسی اور انتظامی کمزوری ایک ہی مقام پر جمع ہو جائیں تو بحران جنم لیتے ہیں، اور اگر بروقت دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو یہی بحران تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال بھی محض چند مطالبات یا احتجاجی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی محرومیوں، سیاسی غفلت اور فیصلہ سازی کے فقدان کی عکاس ہے۔افسوس یہ ہے کہ جس سرزمین کو امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کی علامت ہونا چاہیے تھا، وہاں آج بے یقینی، اضطراب اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جذبات کے بجائے عقل، نعروں کے بجائے تدبر اور تصادم کے بجائے مکالمے کی ضرورت ہے۔ یہ لمحہ الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کا متقاضی ہے، کیونکہ نقصان کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری ریاست اور اس کے عوام کا ہوتا ہے۔نہیں جناب نہیں، آزاد جموں کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کسی ایک پاکستانی کو بھی قبول نہیں، پرامن تحریک کو پرتشدد بنانا کسی فریق کے حق میں بہتر نہیں ہوا کرتا ،کشمیر کے عام لوگوں کو فورسز کے مد مقابل کھڑا کرنے والے نہ کشمیریوں کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں اور نہ پاکستانیوں کے، مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کے مطابق ہوا کرتے ہیں، ہر مطالبے کی فوری منظوری کے لئے لٹھ اٹھا کے کھڑا ہو جانا اور عوام کو دبائو کے لئے استعمال کرنا یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہوا کرتا، عوامی تحریکوں کو تشدد کی راہ پر ڈالنے والے اپنی قوم کو آنسوں اور لاشوں کے سوا کچھ نہیں دیا کرتے، مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور موجودہ بحران کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔صرف وزیراعظم فیصل راٹھور ہی نہیں، بلکہ آزاد کشمیر کی پوری سیاسی قیادت، کشمیری عوام کے جذبات کی نمائندگی کرنے میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے، سوال یہ ہے کشمیریوں کے ووٹوں سے اسمبلی کے رکن بننے والے، کشمیر میں وزیراعظم اور وزیر مشیر کے عہدے انجوائے کرنے والے، اسلام اباد کے گرد و نواح میں بنگلے خرید کر کیا کرتے رہتے ہیں، یہ وزارتیں کشمیر میں حاصل کرتے ہیں، اور بنگلے اسلام آباد میں بناتے ہیں، میرے پاس کشمیر کی حکومتوں میں رہنے والے وزراء اور وزرائے اعظم کی پوری لسٹ موجود ہے کہ جن کے بنگلے بحریہ ٹائون اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جب کشمیر کے ہر دور کے حکمران ، حکمرانی کشمیری عوام پہ کریں گے، پروٹوکول کشمیری عوام کے نام پر لیں گے، لیکن ان کی محرومیاں دور کرنے کی بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھیں گے، تو پھر کوئی میر یاکوئی سردار ان کی محرومیوں کو سیڑھی بنا کر ان کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا جو بھی خفیہ ایجنڈا پورا کرے،تو شکوہ کیسا؟
حالات اس نہج تک نہیں پہنچنے چاہئیں تھے، جہاں ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان تصادم کی فضا پیدا ہو۔ اگر کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات درست ہیں تو صورتحال انتہائی تشویش ناک ،المناک اور خوفناک ہے،فورسز ہوں یا عام شہری، سب ہمارے اپنے لوگ ہیں۔جہاں ریاستی ذمہ داری یہ تھی کہ معاملات کو بروقت سیاسی حکمت عملی، مذاکرات اور تدبر سے حل کیا جاتا، وہاں ایکشن کمیٹی کے قائدین کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ بھی معاملات کو صبر وتحمل اور حکمت و تدبر سے حل کروانے کی کوشش کرتے،اپنے لوگوں کو فورسز کے مد مقابل کھڑا کر کے خود ویڈیو پیغامات کے ذریعے بیرون ممالک میں مقیم اوورسیز کشمیریوں کو مدد کے لئے پکارتے چلے جانا حماقت کے سوا کچھ نہیں ، افسوس کہ خون خرابہ، جانی نقصان اور گولیوں کی تڑ تڑ آہٹ آزاد کشمیر کے گلی کوچوں تک آن پہنچی ،سوال یہ ہے کہ کیاموجودہ حالات کی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل راٹھور مستعفی ہو نے کے لئے تیار ہیں؟ آزاد کشمیر کو اس بحران سے نکالنے کے لئے ذمہ دار، موثر اور عوامی اعتماد رکھنے والی قیادت کہاں سے آئے گی؟آزاد کشمیر کے حالیہ حالات محض ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک اجتماعی سبق ہیں، جس سے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، عوامی نمائندوں اور احتجاجی قیادت سب کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے، احتجاج اور مطالبات کا حق تسلیم شدہ حقیقت ہے، لیکن اس حق کے استعمال کے دوران ذمہ داری، تدبر اور قومی مفاد کو بھی پیش نظر رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ جب معاملات مذاکرات کی میز پر حل ہونے کے بجائے سڑکوں پر طاقت کے اظہار کی شکل اختیار کر لیں تو نقصان کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت برسوں سے عوامی مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کی طرف خاطر خواہ توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔
عوامی محرومیوں، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے ایسے حالات پیدا کئے جن سے مختلف عناصر نے اپنے اپنے مقاصد کے لئے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اگر عوام کو بروقت ریلیف ملتا، ان کی آواز ایوانوں میں موثر انداز میں سنی جاتی اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جاتا تو شاید صورتحال اس نہج تک نہ پہنچتی۔اسی طرح احتجاجی قیادت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ایسے راستوں کا انتخاب کرے جو تصادم کے بجائے مفاہمت اور استحکام کی طرف لے جائیں۔ جذباتی نعروں اور وقتی دبا سے وقتی کامیابیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن دیرپا حل ہمیشہ حکمت، برداشت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوتے ہیں۔ عوام کو ریاستی اداروں کے سامنے لا کھڑا کرنا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق اپنی اپنی غلطیوں کا ادراک کریں، ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور آزاد کشمیر کے عوام کے بہتر مستقبل کو ذاتی، سیاسی اور گروہی مفادات پر ترجیح دیں۔ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی، سیاسی قیادت کی جوابدہی اور مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔آزاد کشمیر کے عوام امن، ترقی اور عزتِ نفس کے حق دار ہیں۔ ان کے مسائل کو سیاسی مفادات کا ایندھن بنانے کے بجائے ان کے مستقل حل کی طرف بڑھنا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ بصورتِ دیگر تاریخ ایک بار پھر یہی سوال دہرائے گی کہ جب حالات بگڑ رہے تھے تو ذمہ دار لوگ کہاں تھے اور انہوں نے اپنا کردار کیوں ادا نہ کیا؟