Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

ڈاکٹر ماہ نور اور تیزاب گردی

انسانی معاشرہ قانون، اخلاقیات اور باہمی احترام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، لیکن جب نفرت، انتقام اور ذاتی خواہشات انسان کے شعور پر غالب آ جائیں تو ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ تیزاب گردی بھی انہی سنگین جرائم میں سے ایک ہے جو کسی انسان کے جسم ہی نہیں بلکہ اس کی شخصیت، خوابوں اور مستقبل پر بھی کاری ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایک ایسا سفاکانہ عمل ہے جس کے اثرات محض جسمانی زخموں تک محدود نہیں رہتے بلکہ متاثرہ فرد زندگی بھر ذہنی، جذباتی اور سماجی اذیت کا سامنا کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں خواتین بالخصوص پیشہ ورانہ شعبوں سے وابستہ خواتین روزانہ بے شمار چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے دن رات خدمات انجام دیتا ہے، مگر افسوس کہ انہیں اکثر ایسے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے فرائض کی انجام دہی کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔ ایک محفوظ اور باوقار کام کا ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن جب ایک خاتون ڈاکٹر اپنے ہی کام کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بن جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اجتماعی ذمہ داریاں کہاں کھڑی ہیں۔کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا تیزاب گردی کا افسوسناک واقعہ محض ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ہمارے سماجی رویوں، حفاظتی انتظامات اور انصاف کے نظام پر بھی کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اس سانحے نے نہ صرف طبی برادری بلکہ پورے ملک کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم محض وقتی مذمت پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان اسباب کا بھی جائزہ لیں جو اس قسم کے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کی ترقی یا عمارتوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور متاثرہ افراد کو کتنا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم تشدد، انتقام اور نفرت کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کریں، خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسے جرائم کے سدباب کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات اختیار کریں تاکہ مستقبل میں کسی اور ڈاکٹر ماہ نور کو اس اذیت ناک تجربے سے نہ گزرنا پڑے۔ ملزم ہلاک ہو چکا ہے۔ لیکن کیا کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے؟ان سوالوں کاجواب ابھی باقی ہے۔ایک سرکاری ہسپتال کے اندر ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا؟ سیکیورٹی کہاں تھی؟ ایک خاتون ڈاکٹر کو اس ماحول میں کام کرتے ہوئے کس قسم کا تحفظ حاصل تھا؟ اور اگر خطرات موجود تھے تو ان سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟ خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ہیلتھ ورکرز روزانہ کن حالات میں کام کرتی ہیں۔ وہ رات کی ڈیوٹیاں دیتی ہیں، ایمرجنسی وارڈز میں خدمات انجام دیتی ہیں، ہسپتال کے سٹاف، مریضوں اور ان کے لواحقین کے دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، مگر اکثر ان کی حفاظت، آرام اور عزت کو ترجیح نہیں دی جاتی۔کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ کی جانب سے تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے، بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور معاشرتی اقدار پر بھی ایک ضرب کاری ہے۔ اس سفاکانہ حملے میں ڈاکٹر ماہ نور کا چہرہ اور جسم کا تقریباً پچاس فیصد حصہ متاثر ہوا، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔ اگرچہ ملزم بعد ازاں پولیس مقابلے میں مارا گیا، لیکن اس کی یہ درندگی ایک ایسا زخم چھوڑ گئی ہے جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔تاہم ان کا مارا جانا بھی شاید اس کے پیچھے سازش کو دفنانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہو،تیزاب پھینکنا ان جرائم میں سے ہے جنہیں محض جرم نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف بزدلانہ جنگ کہا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ ایسے افعال کو قبول نہیں کر سکتا۔ جب ایک شخص اپنی ذاتی خواہشات، نفرت یا انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے کسی انسان کے چہرے اور جسم کو ہمیشہ کے لیے مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی انسانیت کو بھی دفن کر دیتا ہے۔ ایسے واقعات پر انسانیت شرما جاتی ہے، ضمیر کانپ اٹھتا ہے اور معاشرے کے ہر باشعور فرد کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔اس اندوہناک واقعے کے فوراً بعد ہسپتال کے ایک مرد ٹیکنیشن نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کے لیے دوڑ لگائی۔ تیزاب کے اثرات اور دھوئیں کی وجہ سے اس کے اپنے ہاتھ اور ٹانگیں بھی جھلس گئیں۔ ابتدائی افراتفری میں بعض لوگوں نے غلط فہمی کے باعث اسے حملہ آور کا ساتھی سمجھ لیا، لیکن بعد میں ہسپتال انتظامیہ اور پولیس نے واضح کیا کہ وہ حملہ آور نہیں بلکہ ایک بہادر اور انسان دوست ملازم تھا جو زخمی ڈاکٹر کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ایسے موقع پر ہمیں صرف مجرم کی مذمت ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی قدر کرنی چاہیے جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ کرنے والا شخص نفرت اور سفاکی کی علامت تھا، جبکہ زخمی ہونے کے باوجود مدد کے لیے آگے بڑھنے والا ٹیکنیشن انسانیت، ہمدردی اور ایثار کی روشن مثال ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ ایسے جرائم کے خلاف متحد ہو، قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت ترین کارروائی کریں، اور نوجوان نسل کو یہ شعور دیا جائے کہ اختلاف، ناکامی یا جذباتی ردعمل کبھی بھی تشدد اور درندگی کا جواز نہیں بن سکتے۔ تیزاب گردی جیسے جرائم کی بھرپور حوصلہ شکنی اور مجرموں کے لیے عبرتناک سزائیں ہی ایسے سانحات کی روک تھام کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں.ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا تیزاب گردی کا المناک حملہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک کڑا امتحان اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے واقعات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ جب تک قانون کی بالادستی، مؤثر حفاظتی نظام اور معاشرتی شعور کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا، تب تک تشدد اور انتقام جیسے رجحانات مختلف شکلوں میں سامنے آتے رہیں گے۔ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے شہریوں، خصوصاً خواتین اور خدمتِ خلق کے شعبوں سے وابستہ افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرے اور ان کے وقار کو ہر قیمت پر یقینی بنائے۔یہ واقعہ اس امر کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہسپتال صرف علاج گاہیں نہیں بلکہ امید، اعتماد اور انسانیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر، جو دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی صلاحیتیں اور وقت وقف کر رہی ہو، اپنی ہی جائے کار پر غیر محفوظ محسوس کرے تو یہ پورے نظام کے لیے ایک تشویش ناک اشارہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طبی اداروں میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات، ہراسانی اور تشدد کے خلاف واضح پالیسیوں اور فوری ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ طبی عملہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔اس سانحے کا ایک روشن پہلو وہ انسان دوست جذبہ بھی ہے جو ہسپتال کے اُس ملازم کی صورت میں سامنے آیا جس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر زخمی ڈاکٹر کی مدد کی۔ ایسے کردار اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرے میں ہمدردی، ایثار اور انسانیت کی شمع ابھی روشن ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہیں فروغ دے کر ہم نفرت، تشدد اور خود غرضی کے اندھیروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف افسوس اور مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومتی حلقے، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور عام شہری سب اپنی اپنی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ نوجوان نسل کو برداشت، احترامِ انسانیت اور اختلاف رائے کے مہذب اصولوں سے روشناس کرایا جائے تاکہ تشدد کے بجائے مکالمے اور قانون کا راستہ اختیار کرنے کی روایت مضبوط ہو۔ڈاکٹر ماہ نور کا واقعہ ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک اجتماعی پیغام ہے۔ اگر ہم نے اس سانحے سے سبق حاصل کیا اور معاشرتی اصلاح کی جانب سنجیدہ قدم اٹھائے تو شاید یہ دردناک واقعہ مستقبل میں بے شمار زندگیوں کو محفوظ بنانے کا سبب بن جائے۔ یہی اس سانحے سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا سبق اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں