Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

پورے پاکستان کے ضمیر کا سوال

کبھی کبھی ایک خبر خبر نہیں ہوتی، پوری تہذیب کے ماتھے پر لکھا ہوا ایسا نوحہ ہوتی ہے جسے پڑھتے ہوئے الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں،اعصاب شل ہو جاتے ہیں ،جسم تو کیا روح تک کی ہچکی بندھ جاتی ہے۔ صادق آباد کی اس خبر نے بھی دل پر یہی دستک دی ہے۔ ایک ماں، غربت، بھوک، بے بسی اور ناامیدی کے اندھیرے میں اپنے چار بچوں کو نہر میں پھینک دیتی ہے۔ دس سالہ علی حسن، سات سالہ طیب، چار سالہ ریحان اور دو سالہ اریان،چار ننھے وجود، جنہوں نے ابھی زندگی کی کتاب کا پہلا صفحہ بھی مکمل نہ پڑھا تھا، پانی کی بے رحم موجوں کے سپرد کر دیئے گئے۔خبر میں صرف اتنا لکھا ہے کہ ’’غربت کی وجہ سے خاتون نے یہ قدم اٹھایا۔‘‘ مگر یہ صرف ایک جملہ نہیں، ریاست، سماج، معیشت اور ہماری اجتماعی بے حسی کے خلاف فردِ جرم ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ ماں سے بڑھ کر محبت کرنے والا کوئی نہیں۔ یہی سچ ہے۔ ایک ماں اپنی بھوک برداشت کر سکتی ہے، اپنے جسم کے کپڑے بیچ سکتی ہے، اپنے زیور گروی رکھ سکتی ہے، مگر اپنے بچے کو بھوک کی تکلیف میں بلکتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ پھر کون سا درد ہوگا جو ایک ماں کو مجبور کر دے کہ وہ اپنے ہی جگر گوشوں کو پانی کی بے رحم لہروں کے حوالے کر دے؟ یقینا اس کے دل میں ممتا نہیں مری تھی، امید مر گئی تھی۔غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت وہ عذاب ہے جو انسان سے اس کی عزت، اس کا اعتماد، اس کی نیند اور آخرکار اس کی سوچنے کی صلاحیت بھی چھین لیتا ہے۔ جب کئی کئی راتیں بچے بھوکے سو جائیں، جب قرض دینے والے دروازہ کھٹکھٹائیں، جب باپ کو مزدوری نہ ملے، جب بیماری کا علاج نہ ہو، جب ہر دروازے سے دھتکار ملے، تو انسان کبھی کبھی وہ فیصلے کر بیٹھتا ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
افسوس یہ ہے کہ ہم ایسے سانحات کے بعد صرف چند دن سوگ مناتے ہیں، ٹیلی ویژن پر مباحث ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر افسوس کے پیغامات لکھے جاتے ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نہ غربت ختم ہوتی ہے، نہ بھوک، نہ بے روزگاری، نہ وہ حالات جنہوں نے ایک ماں کو قاتل بنا دیا۔یہ صرف اس عورت کا جرم نہیں، اگر جرم ہے تو اس معاشرے کا بھی ہے جس کے حکمرانوں کے عشرت کدوں کے اس پار مخلوق خدا ایک ایک لقمے کو ترس رہی ہوتی ہے ، مگر محلات کے باسیوں کی شادیوں میں کروڑوں روپے کی آتش بازی ہوتی ہے۔ یہ اس نظام کا بھی سوال ہے جہاں فلاحی منصوبوں کے دعوے بہت ہیں مگر کوئی بھوکا انسان ریاست کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتا۔قرآن مجید نے فرمایا: ’’اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔‘‘یہ آیت صرف ایک فرد کو نہیں، پورے معاشرے کو مخاطب کرتی ہے کہ ایسا نظام قائم کرو جہاں کوئی انسان رزق کے خوف سے اپنے بچوں کی زندگی سے مایوس نہ ہو۔ہمیں خود سے بھی سوال کرنا ہوگا۔ کیا ہمارے محلے میں کوئی بھوکا سوتا ہے؟ کیا کسی بیوہ کے گھر چولہا ٹھنڈا تو نہیں ہے؟ کسی یتیم کی فیس ادا ہونے سے اس کانام سکول سے خارج تو نہیں ہو گیا؟ اگر ہم اپنے اردگرد کے انسانوں سے بے خبر ہیں تو شاید ہم بھی اس سانحے کے خاموش کردار ہیں۔چار ننھے جنازے صرف ایک خاندان کے نہیں اٹھے، پوری انسانیت کے اٹھے ۔ نہر کے پانی نے صرف چار معصوم جسم نہیں نگلے، اس نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی ہڑپ کر لیا ہے ۔آج ضرورت صرف اس ماں کو سزا دینے کی نہیں، بلکہ ان حالات کا محاسبہ کرنے کی ہے جو ایک ماں کو اس مقام تک لے آئے۔ اگر کل کسی اور شہر میں کوئی اور ماں یہی قدم اٹھا لے تو یاد رکھئے ، اس کی ذمہ داری صرف اس کے کندھوں پر نہیں ہوگی، ہم سب اس بوجھ میں شریک ہوں گے کہ ہمارے خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطابؓ تو فرات کے کنارے پیاس سے مرنے والے کتے کی موت کی ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پر لینے کا عندیہ دیتے تھے۔ اس سانحے کو صرف ایک خبر نہ بننے دیں۔ اسے اپنے دل، اپنی مسجد، اپنے محلے، اپنی ریاست اور اپنی پالیسیوں کے لیے ایک سوال بنا دیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں بچوں کی ہنسی بھوک کے شور میں دب جائے، وہاں ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔چار چھوٹے تابوت آج ہم سے پوچھ رہے ہیں: ’’ہمیں نہر میں کس نے دھکیلا؟ صرف ہماری ماں نے، یا اس پورے معاشرے نے جس نے ہماری بھوک کو کبھی اپنی بھوک نہیں سمجھا؟‘‘
یہ سوال صرف صادق آباد کا نہیں، پورے پاکستان کے ضمیر کا سوال ہے۔پچیس کروڑ عوام کے ضمیر کا سوال ہے ۔اخبار کی ایک دن کی زندگی ہوتی ہے ،اگلے دن کا اخبار آنے پر پچھلے دن کی ساری خبریں ذہن سے محو ہو جاتی ہیں ،مگر جن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے وہ کسی خبر کو معمول کا سانحہ سمجھ کر بھول نہیں جاتے چار قبروں کے ساتھ پانچویں خبر ان کی ہوتی ہے ۔صادق آباد فقط پنجاب کا شہر نہیں مریم نواز کی راج دھانی کا ایک انگ ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف کے سنگھاسن کا ایک حصہ ہے،چار،ننھے بچوں کی اس ماں کی رات تو جیسے گزری ، گزری ہی ہوگی ، بتائو تم چاچا ،بھتیجی کی جان کا کیا بنے گا ؟ کہ اس کا حساب اس دنیا میں نہ سہی آخرت میں تو آخر آپ ہی کو دینا ہوگا…..؟

یہ بھی پڑھیں