گزشتہ ہفتے کے دوران دو متنازعہ بیانات سامنے آئے۔ پہلا بیان جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کا ہے جبکہ دوسرا متنازعہ بیان بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ نورین نیازی کا ہے جو انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔ ان بیانوں نے ملک کے طول و عرض میں ہلچل مچائی ہے۔ ذہن میں اٹھنے والا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ان بیانات پر کوئی رائے اور ردعمل دینے کی ضرورت ہے؟ اس سے جڑا ہوا دوسرا سوال ہے کہ ان بیانات پر آنے والے ردعمل کو کس حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ آئیے مولانا فضل الرحمن کے بیان اور اس پر آنے والے ردعمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں میری ہمیشہ سے رائے ہے کہ وہ عصر حاضر کے ان سیاسی اکابرین میں شامل ہیں جو معاملات اور مسائل کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں کی جانے والی گفتگو کو درست پیرائے میں کہنے پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے ایک جلسہ عام میں جو زبان استعمال ہوئی اس میں جذبات کی شدت دکھائی دی، اس کے پیچھے کیا محرکات تھے ان پر سے ابھی پردہ نہیں اٹھا لیکن یہ صاف سمجھ آرہا تھا کہ پس پردہ ضرور کوئی بات ہوئی ہے جس کا مولانا ردعمل دے رہے ہیں۔ میں نے مولانا کی تقریر کے مختلف کلپس سنے، پھر پوری تقریر سنی مجھے یوں لگا کہ ردعمل دینے والوں نے ذرا جلدی کی۔ مولانا کے جس بیان پر تنقید ہوئی اس کو سیاق و سباق میں دیکھ لیا جاتا تو ردعمل میں بونگیاں نہ ماری جاتیں۔ مولانا کی تقریر کا سیاق و سباق سمجھنے کی ضرورت تھی جسے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ مولانا کا خطاب ایک انتخابی جلسے سے تھا۔ اپنی تقریر نے مولانا صاحب نے مختلف معاملات پر بات کی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور کمزور پڑتی حکومتی رٹ پر بھی سوال اٹھایا، یہ ساری باتیں غلط نہ تھیں اور نہ ہی کوئی درد دل رکھنے والا محب وطن پاکستانی مولانا صاحب کی معروضات کو خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ ٹھہرا سکتا ہے۔
مولانا صاحب نے جب حکمرانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پہاڑوں پر وہ دندنا رہے ہیں اور آپ کہاں ہیں؟ تو کیا انہوں نے غلط کہا کہ ایک طرف ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے لیکن دوسری طرف ایک شخص وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھا عیاشی کر رہا ہے جبکہ دوسرا ایوان صدر کے مزے لوٹ رہا ہے؟ اپنے خطاب میں مولانا نے جو درست باتیں کہیں اس پر تحسین کی ضرورت ہے نا کہ خواہ مخواہ تنقید کی۔ مولانا نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ہم پاکستان کو ایک خوشحال ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ریاست پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے بارے میں مولانا کی اچھی رائے کا اظہار ہے۔ مولانا نے کہا کہ پارلیمنٹ بے توقیر ہے، عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور انتخابی نتائج تبدیل کئے گئے ہیں، اس میں انہوں نے کیا غلط کہا ہے، کیا 2024 ء کے انتخابات میں یہ سب کچھ نہیں کیا گیا؟ مولانا صاحب نے کہا کہ ہر کسی کا ایک دائرہ ہے جس سے اسے باہر نہیں جانا چاہئیے، مولانا نے کیا یہ غلط کہا ہے کہ فوج کا بھی ایک دائرہ ہے، فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، کیا مولانا نے غلط کہا کہ اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو کیونکہ ملک اجڑ رہا ہے۔ یہ باتیں مولانا نے درد دل کیساتھ کیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئیے۔ اب آئیے ان باتوں کی طرف جو مولانا نے غلط کیں۔ مولانا کی غلط باتیں…جہاں تک مولانا کے ان جملوں کا تعلق ہے جو شہید سپاہیوں کے حوالے سے انہوں نے بولے ہیں تو اس پر اوروں کی طرح مجھے بھی اعتراض ہے۔ میں نے مولانا کی پوری تقریر سنی ہے اور مجھے اس کا ادراک ہے کہ مولانا نے یہ جملے سویلین اور فوجی شہداء کے تقابل میں ادا کئے ہیں لیکن ان جملوں سے پاک فوج کے شہداء کی توہین کا پہلو نکلتا ہے جو بطور پاکستانی کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ایک اور پہلو انداز بیان کا بھی ہے۔ مولانا نے یہ تقابل کیا ہی کیوں ہے؟ یہ ’’تیرے جوان‘‘اور’’اپنے پیاروں‘‘ والا طرز تخاطب بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے، اس انداز سے تفریق پر مبنی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن قومی اکابرین میں شامل ہیں، ان کے منہ سے تیرے میرے والی باتیں سن کر بڑا عجیب لگا۔ مولانا کو اپنی سوچ سے رجوع کرنا چاہئیے۔ مولانا نے جوانوں کے تنخواہ لینے اور شہید ہونے کے حوالے سے جو بات کہی درحقیقت وہ اس کے جواب میں تھی کہ انہیں قبائلی لشکر بنانے کا کہا گیا ہے۔ مولانا نے اس مطالبے کا برا کیوں منایا؟ کالعدم تنظیموں کے افراد مقامی آبادی سے ہیں چنانچہ ان کا مقابلہ مقامی سطح پر ہی لشکر بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ یہ دفاع وطن کا تقاضا ہے اور بحیثیت پاکستانی ہمارے اوپر فرض بھی ہے۔
مولانا ہو یا کوئی اور اس فرض کی ادائیگی سے پہلو تہی کیسے کر سکتا ہے؟ فوجی قیادت کی جانب سے اگر اس طرح کا مطالبہ سامنے آیا تھا تو اس کے جواب میں مولانا کو یہ کہنا زیب نہیں دیتا تھا کہ ہم کیوں لشکر بنائیں اور یہ کہ تمہارے فوجیوں کو تو لڑنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ یہ کہنا محض پاک فوج کے جوانوں اور شہدا ء کی توہین ہی نہیں بلکہ قومی دفاع کے معاملے سے بڑی الذمہ ہونا بھی ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے جب ساری قوم نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان بنایا تو اب اس ذمہ داری کی ادائیگی سے کوئی انکار کیسے کر سکتا ہے۔ قومی دفاع کے لئے ہر کسی کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ مولانا اگر فوجی کارروائی سے اختلاف رکھتے ہیں تو اس کا کھل کر اظہار کریں، یوں اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا اور یہ بات کرنا کہ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، ایک قومی لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔ یہ وقت ہے کہ وہ خود سے آکر اپنے بیان کی تسلی بخش وضاحت دیں اور ان غلط فہمیوں کو دور کریں جو ان کے بیانات سے پیدا ہو گئی ہیں۔ دریں حالات سب سے اچھا تبصرہ حسن نثار کا ہے جن کے بقول مولانا کے بیان سے صرف نظر کر کہ آگے بڑھا جا سکتا تھا جلسہ گاہ میں سیاستدان جوش خطابت میں کئی باتیں کر جاتے ہیں، یوں ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پکڑ لینا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔
حرف آخر…مولانا ان اہل سیاست میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ قومی مفاد کو سمجھا ہے اور اپنے کا حصے کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں شامل نہیں ہیں جو حکومت وقت کا حصہ ہوں تو ٹھیک ورنہ ہر قیمت پر مخالفت کو اپنا شعار سمجھتے ہیں۔ مولانا صاحب ایشوز کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں اور ہر معاملے کو اس کے درست تناظر میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ ان کی جانب سے قومی سلامتی کے معاملے پر لا تعلقی پر مبنی رویہ اختیار کرنا اگر انکی ذات کے حوالے سے قابل اعتراض ہے تو دوسری جانب یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ مولانا صاحب اس کیفیت میں کیسے پہنچے اور کیونکر اس منفی سوچ میں مبتلا ہوئے۔