کسی بھی قوم کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل شناخت اس کے کردار، اخلاق، انصاف، دیانت داری اور باہمی احترام سے ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کمزور پڑنے لگیں، حق و باطل کا فرق مٹنے لگے، جھوٹ کو سچ اور ظلم کو طاقت کا نام دیا جانے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ معاشرہ ترقی کے بجائے زوال کی طرف سفر کر رہا ہے۔ آج اگر ہم اپنے وطنِ عزیز پاکستان پر نگاہ ڈالیں تو بے شمار ایسی معاشرتی برائیاں دکھائی دیتی ہیں جو ہماری قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ کرپشن، رشوت، مہنگائی، جھوٹ، منافقت، گالم گلوچ، بغض و حسد، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، والدین کی نافرمانی، بڑوں کا احترام ختم ہونا، انصاف کی کمزوری، تعلیمی انحطاط، بے روزگاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، سفارش اور اقرباء پروری جیسے ناسور ہماری جڑوں کو کمزور کر رہے ہیں۔پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا تاکہ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق انصاف، مساوات اور اخوت پر مبنی معاشرہ قائم ہو سکے، مگر افسوس کہ ہم نے اس مقصد کو فراموش کر دیا۔ ہم نے اپنی اصلاح کے بجائے دوسروں کی خامیاں تلاش کرنا اپنا شعار بنا لیا۔ ہر شخص دوسرے کو قصوروار ٹھہراتا ہے مگر اپنے کردار کا احتساب کرنے کے لئے تیار نہیں۔کرپشن آج ہمارے معاشرے کا سب سے خطرناک مرض بن چکی ہے۔ یہ صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ جب میرٹ کی جگہ سفارش، دیانت کی جگہ بدعنوانی اور حق کی جگہ طاقت کا راج ہو تو قومیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ اندر ہی اندر کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ کرپشن صرف قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف کے نظام اور ریاست کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتی ہے۔ جس معاشرے میں ایماندار شخص کو بے وقوف اور بدعنوان کو کامیاب سمجھا جانے لگے وہاں اخلاقی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح رشوت خوری ایک ایسی لعنت ہے جس نے انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ معمولی سے کام کے لیے بھی سفارش یا رشوت کی توقع کی جاتی ہے۔
اسلام نے رشوت دینے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے، مگر افسوس کہ آج اسے مجبوری، تحفہ یا رسم کا نام دے کر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب حق پیسے کے عوض فروخت ہونے لگے تو مظلوم کی فریاد بے اثر ہو جاتی ہے۔مہنگائی بھی ہمارے معاشرے میں بے چینی، اضطراب اور جرائم میں اضافے کا ایک بڑا سبب بن چکی ہے۔ جب ایک مزدور دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، تعلیم اور علاج فراہم نہ کر سکے تو اس کے دل میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ اگرچہ مہنگائی کے کچھ اسباب عالمی بھی ہوتے ہیں، لیکن ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ اور مصنوعی قلت پیدا کرنا ہماری اپنی اخلاقی کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک مسلمان تاجر کا فرض ہے کہ وہ آسانی پیدا کرے، نہ کہ دوسروں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری گفتگو سے بھی شائستگی رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے گالم گلوچ، کردار کشی اور نفرت آمیز زبان عام ہوتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں علم اور رابطے کے بے شمار مواقع فراہم کئے، وہیں اسے جھوٹ، افواہوں، بدزبانی اور ایک دوسرے کی تضحیک کا ذریعہ بھی بنا دیا گیا۔ چند لمحوں کی شہرت کے لیے لوگوں کی عزت اچھالی جاتی ہے، بغیر تحقیق کے خبریں پھیلائی جاتی ہیں اور دوسروں کی نجی زندگی کو تماشا بنایا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے معاشرے میں بغض، حسد اور انا نے بھی محبت، اخوت اور بھائی چارے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے ہم اسے برداشت نہیں کر پاتے۔ ایک دوسرے کو آگے بڑھانے کے بجائے نیچے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حسد دلوں کو بیمار کرتا اور معاشروں کو تقسیم کرتا ہے۔ اسلام نے اخوت، ایثار اور خیرخواہی کا درس دیا ہے، مگر ہم نے مقابلہ آرائی کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔اسی اخلاقی زوال کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بڑے چھوٹے کی تمیز آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا احترام، جو ہماری تہذیب کا حسن تھا، اب پہلے جیسا دکھائی نہیں دیتا۔ آزادیِ اظہار کے نام پر بدتمیزی، بے ادبی اور خود پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔ حالانکہ جس قوم میں بزرگوں کی عزت ختم ہو جائے وہاں تجربہ، حکمت اور تہذیب بھی دم توڑنے لگتی ہے۔آج ہمارا تعلیمی نظام بھی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ڈگریوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے مگر کردار سازی کا عمل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا باکردار انسان تیار کرنا ہے جو اپنے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے باعث رحمت بنے۔ جب تعلیمی اداروں میں دیانت، سچائی، برداشت، خدمتِ خلق اور اخلاقیات کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہاں سے علم تو نکل سکتا ہے، مگر حکمت نہیں۔ نقل، جعلی اسناد، سفارش کے ذریعے داخلے اور امتحانات میں بے ایمانی جیسے رویے نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کامیابی کا راستہ محنت سے نہیں بلکہ شارٹ کٹ سے گزرتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے روزگاری بھی نوجوانوں میں بے چینی، اضطراب اور مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان برسوں تک ملازمت کے لئے دربدر پھرتا ہے اور ہر جگہ میرٹ کے بجائے سفارش یا رشوت کا سامنا کرتا ہے تو اس کے حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ اسی مایوسی میں جرائم، منشیات یا غیر قانونی ذرائع آمدن کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اگر ریاست میرٹ کو یقینی بنائے، صنعت و تجارت کو فروغ دے اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے پر توجہ دے تو یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتے ہیں۔منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ایک خطرناک سماجی مسئلہ ہے۔
(جاری ہے)