(گزشتہ سے پیوستہ)
ایرانی وزیرخارجہ کاخودمختاری کابیانیہ اورتاریخی شعورسے نہایت بھرپورمعنی خیزردعمل محض ایک سفارتی، سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا۔انہوں نے نہ صرف امریکی مؤقف کوجزوی طورپرتسلیم کیابلکہ اس بات پرزوردیاکہ اصل محافظ ایران خودہے۔وہ خودکواس خطے کامحافظ اس لیے سمجھتاہے کہ اس کی تاریخ،اس کی جغرافیائی موجودگی اوراس کی ثقافتی شناخت اس آبنائے کیساتھ جڑی ہوئی ہیایران خودکو اس خطے کافطری نگہبان سمجھتاہے،جس کی جڑیں صدیوں پرمحیط سمندری روایت اورتاریخ میں پیوست ہیں۔
یہ دعویٰ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ ایران خودکوصرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تہذیبی اکائی سمجھتاہے،جس کاحق ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی دائرے میں ہونے والی ہرسرگرمی پر نظررکھے۔یہ مؤقف دراصل تاریخ،خودمختاری،وقارکے امتزاج کیایک ایسے شعورکی نمائندگی کرتاہے جس میں ریاست اپنی سرزمین کوصرف حدودکے طورپرنہیں بلکہ ایک امانت کے طورپردیکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے کردارکومحض ایک شریک کے بجائے ایک نگران کے طورپرپیش کرتاہے۔مفاہمتی یادداشتیں اکثرامیدکی کرن بن کرسامنے آتی ہیں، مگرجب ان کے پیچھے موجودنظریات میں ہم آہنگی نہ ہو تو یہ کرن جلدہی مدھم پڑجاتی ہے۔
17جون کوطے پانے والی مفاہمتی یادداشت بظاہرامن کی ایک کرن اورایک ایسے چراغ کی مانندتھی جواندھیرے میں جلایا گیاہو،مگراس کی روشنی کمزور اور غیرمستحکم تھی،جس کے اندرامیدکی کرن کے ساتھ فریبِ نظرجیسے اختلافات کی چنگاریاں پوشیدہ تھیں۔ یہ معاہدہ دراصل دومختلف نظریات کاتصادم تھاایک طرف عالمی آزادی تجارت،اوردوسری طرف علاقائی خودمختاری۔ اس میں شامل شقیں اگرچہ تعاون کی بات کرتی تھیں، مگران کے درمیان اختلاف کی خلیج بھی نمایاں تھی۔یہی حال اس معاہدے کابھی ہوا، جہاں الفاظ میں ہم آہنگی تھی مگرنیتوں میں اختلاف ۔امریکاکھلی گزرگاہ کاخواہاں تھا،جبکہ ایران کنٹرول اورفیس کے حق پراصرارکرتا رہا۔ یوں الفاظ اورحقیقت کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسے پل کی مانندثابت ہواجو دونوں کناروں کوجوڑنے کے بجائے بیچ میں معلق رہ گیا۔ یہ معاہدہ گویاایک ایسی کشتی ثابت ہواجوبظاہرمستحکم دکھائی دیتی تھی مگراس کے اندرونی تختے کمزورتھے،اورجیسے ہی حالات کا دباؤ بڑھا، اس کی کمزوری نمایاں ہوگئی۔
اختیاراورذمہ داری کاتعلق ہمیشہ سے فلسفیانہ بحث کاموضوع رہاہے۔جب کسی کوذمہ داری دی جاتی ہے تووہ اس کے ساتھ اختیاربھی چاہتاہے،اوریہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف جنم لیتاہے۔ایران نے اختیارکی فلسفیانہ جہت کے مدنظرمعاہدے کی شق نمبرپانچ کواپنے مؤقف کی بنیاداوراپنی دلیل کامحوربناتے ہوئے جس کے تحت اسے انتظامی کردارحاصل تھا،دراصل اس اصول کواجاگرکیاکہ بغیراختیارکے ذمہ داری محض ایک بوجھ بن جاتی ہے،اوریہی بوجھ تنازع کوجنم دیتاہے۔
ایران کامؤقف یہ تھاکہ اگرذمہ داری اس کی ہے تواختیاربھی اسی کاہوناچاہیے اوراس میں کوئی حیرت نہیں۔جب کسی ریاست کوذمہ داری دی جائے تووہ اختیار بھی چاہتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں تنازع جنم لیتاہے۔یہ شق دراصل ایک آئینی سوال بن گئی ،کیاذمہ داری اختیارکے بغیرمکمل ہوسکتی ہے؟یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی قانون اورعلاقائی طاقتکاتصادم واضح ہوجاتاہے۔
25اور27جون کے حملے محض حادثات نہیں تھے بلکہ اس کشیدگی کانقط عروج تھے جو کئی ہفتوں سے پنپ رہی تھی۔جون کے آخری ہفتے میں عمانی پانیوں میں جہازوں پرحملے اس کشیدگی کے ارتقاکی واضح مثال اورموجودہ جنگ کے ایک نئے مرحلے کانقط عروج بن گئے۔یہ واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ ایک تدریجی عمل کانتیجہ تھے،جس میں ہرقدم پچھلے قدم کامنطقی تسلسل تھا۔ امریکانے انہیں خلاف ورزی قراردیا،جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کادفاع کیا۔یوں الزام اورجواب کاایک ایساسلسلہ شروع ہواجس میں حقیقت دھندلا گئی اورطاقت کااظہارنمایاں ہوگیا۔ان واقعات نے نہ صرف معاہدے کی کمزوری کوظاہرکیابلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ زمینی حقیقتیں کاغذی معاہدوں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی واقعہ تنہانہیں ہوتابلکہ ہرواقعہ ایک بڑی کہانی کاحصہ ہوتاہے۔
دنیاکی معیشت ایک پیچیدہ جال ہے اور آبنائے ہرمزاس جال کامرکزی گرہ ہے۔اگرعالمی معیشت کوایک زندہ وجودسمجھاجائے توآبنائے ہرمزاس کی وہ رگ ہے جس میں توانائی کی روانی جاری رہتی ہے۔یہاں سے گزرنے والاہرقطرہ تیل، گیس کی ہرلہر،محض ایندھن نہیں بلکہ عالمی ترقی کی بنیادہے اوردنیاکے مختلف حصوں میں زندگی کی رفتارکو برقراررکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی سطح پرشدید اثرات مرتب کرتا ہے۔ دنیاکے تیل کاپانچواں حصہ اس تنگ راستے سے گزرتاہے، محض اعدادنہیں،بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔اس کاتنگ ہوناہی اس کی اہمیت کا سبب ہے،کیونکہ جہاں راستہ محدود ہو،وہاں کنٹرول کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں میں ایسازلزلہ برپاکردیتاہے جوعالمی جغرافیہ،معیشت،خطرات اورعالمی تقدیرکوکھنڈرات میں تبدیل کرسکتاہے۔
یہ آبنائے ہرمزایران،عمان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے،ایک ایسامقام جہاں زمین اورسمندرایک دوسرے کے قریب آکر عالمی تجارت کوراستہ دیتے ہیں۔یہ آبنائے ہرمزاپنی تنگی میں ایک عجیب وسعت رکھتی ہے اوریہی تنگی ہی اس کی پوشیدہ طاقت ہے، اس کی گہرائی،اس کے مخصوص راستے اسے ایک ایسا چوک پوائنٹ بنادیتے ہیں جہاں ایک چھوٹی سی رکاوٹ بھی عالمی بحران میں بدل سکتی ہے۔یہاں ہرجہازایک مخصوص راستیسیگزرتا ہے،اوریہی محدودیت اسیایک ایسا مقام بناتی ہے جہاں کنٹرول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
(جاری ہے)