اتحادکے پردے میں اختلاف
کیاہم اس دورِآشوب میں ایک نئی سفارتی کشمکش کے ابھرتے نقوش نہیں دیکھ رہے،جہاں الفاظ تلواروں کی طرح چمک رہے ہیں اور بیانات بارودکی طرح پھٹ رہے ہیں؟کیا حالیہ ایام میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان تلخی کی لہریں ابھرتی
کیاہم اس دورِآشوب میں ایک نئی سفارتی کشمکش کے ابھرتے نقوش نہیں دیکھ رہے،جہاں الفاظ تلواروں کی طرح چمک رہے ہیں اور بیانات بارودکی طرح پھٹ رہے ہیں؟کیا حالیہ ایام میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان تلخی کی لہریں ابھرتی
(گزشتہ سے پیوستہ) تہذیبی رشتوں کی بات کرنااب محض ایک رسمی جملہ رہ گیاہے۔تہذیبی جغرافیہ وقت کی دھول سے محفوظ رہتاہے،مگرسیاسی جغرافیہ مفادات کی آندھی میں بدلتا رہتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف مفادکی زبان بولی جاتی
(گزشتہ سے پیوستہ) قرآن کی تعلیمات ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کادرس دیتی ہیں،مگریہاں خاموشی اختیارکی گئیاوریہی خاموشی سب سے بلند صدابن گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان ، ایران تعلقات کی وہ قدیم ریشمی ڈور،جوصدیوں سے قائم تھی،اب
تہران میں سابق ایرانی رہبراعلیٰ کی آخری رسومات میں انڈیاکی جانب سے نچلی سطح کاوفدبھیجنے کے کیامعنی ہیں؟تہران کی فضاان دنوں ایک عجب کیفیت سے دوچارہے گویاوقت اپنی رفتارسست کرکے ایک عہد کے اختتام پرماتم کناں ہو۔تہران کی سرزمین اس
(گزشتہ سےپیوستہ) اس کہانی کاایک دوسرارخ بھی ہے بھارت کے اندراس پالیسی پرتنقید کا،تشویش کااور سوالات کاسلسلہ جاری ہے۔بھارت کے اندر اور باہریہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اوراس تعلق پربحث جاری ہے۔ دانشوروں اورسابق سفارت کاروں کا ایک حلقہ اس
(گزشتہ سےپیوستہ) اکتوبر2023ء کے واقعات نے اس تعلق کوایک نئی معنویت عطاکی۔جب خطہ ایک بارپھر جنگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط نمایاں تھی،مگربھارت کی جانب سے فوری حمایت نے اس بات کوواضح کردیاکہ یہ تعلق محض رسمی نہیں
بین الاقوامی سیاست کی بساط پراس وقت جونقشہ ابھررہاہے،وہ کسی خاموش طوفان کی مانندہے ،بظاہرسکون،مگرباطن میں ارتعاش۔ عالمی سیاست کی تاریخ میں بعض ادوارایسے آتے ہیں جب قوت کے توازن میں خاموش مگرفیصلہ کن تبدیلیاں رونماہوتی ہیں۔موجودہ زمانہ بھی انہی
(گزشتہ سے پیوستہ) اسرائیل کیلئے2015ء کاجوہری معاہدہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسازخم ہے جس کی ٹیس آج بھی اس کی پالیسیوں میں محسوس ہوتی ہیں۔اس وقت نیتن یاہونے امریکی صدر اوباما کے خلاف کھلے عام محاذآرائی اختیارکی تھی۔امریکی
زمانہ اپنے سینے میں کتنے ہی ان کہے رازدفن رکھتاہے،مگرکبھی کبھی تاریخ کادروازہ اس طرح کھلتاہے کہ اندرکی ہرسرگوشی طوفان بن کرباہرآتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے باروداوربیانیے کے امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے،مگرموجودہ مرحلہ اس روایت سے
حالیہ عالمی منظرنامہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف علاقائی سیاست کا میدان نہیں رہابلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کامرکزبن چکاہے۔اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرعالمی سیاست کامرکزبن کرابھرا ہے۔ یہ مطالعہ