بارہ نشستیں،تاریخ کانامکمل باب
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توکچھ ابواب محض واقعات کی ترتیب نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی شعور،اجتماعی یادداشت اورقومی شناخت کی تشکیل کے بنیادی ستون بن جاتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں فیصلے صرف حال کے لئے
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توکچھ ابواب محض واقعات کی ترتیب نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی شعور،اجتماعی یادداشت اورقومی شناخت کی تشکیل کے بنیادی ستون بن جاتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں فیصلے صرف حال کے لئے
دنیاکی تاریخ میں کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جواپنی نمودسے نہیں بلکہ اپنی عدمِ نمود سے پہچانی جاتی ہیں۔سمندرہمیشہ سے طاقت، خاموشی اوررازداری کا استعارہ رہاہے۔اس کی گہرائیوں میں وہ قوت پوشیدہ ہے جوبظاہرخاموش مگرحقیقت میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔
(گزشتہ سے ییوستہ) جب بندوقیں خاموش ہوتی ہیں تو زبانیں بولنے لگتی ہیں، اور کبھی کبھی یہ زبانیں بندوقوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی قیادت کے بیانات اس تناؤکومزیدواضح کرتے ہیں۔ایک طرف سخت الفاظ کااستعمال اوردوسری جانب جوابی دعوے
زمانہ جب اپنے قدم روک لیتاہے اورتاریخ سانس تھام کرکسی موڑپرٹھہرجاتی ہے،تو وہاں صرف واقعات نہیں جنم لیتے بلکہ تقدیروں کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔دنیاکے نقشے پرچند خطے ایسے بھی ہیں جہاں سکوت بھی چیخ بن کرگونجتاہے اورحرکت کاہرلمحہ اپنے
اقوام کی تاریخ محض واقعات کی گرد نہیں ہوتی بلکہ وہ زمان ومکان کے سینے پرلکھی ہوئی ایک زندہ دستاویزہوتی ہے،ایسی دستاویز جس میں سیاست کے نشیب وفراز،جغرافیے کی سنگلاخی،اورتہذیبوں کی کشمکش ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوجاتی ہیں جیسے
(گزشتہ سے پیوستہ) برطانوی حکام نے وقتافوقتامختلف سرحدی لکیریں تجویزکیں مگر چین نے کبھی ان کوتسلیم نہیں کیاکیونکہ ان میں سے کوئی بھی چین کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے ذریعے طے نہ ہوسکی۔یہی وجہ تھی کہ چین نے ان تمام
(گزشتہ سے پیوستہ) ایک بڑے معاہدے کی راہ اس ریگستان کی مانند ہے جہاں دورسے پانی نظرآتاہے مگرقریب جاکر وہ محض سراب ثابت ہوتاہے۔پہلاہدف جنگ بندی کوقائم رکھناہے،مگراعتمادکی کمی اورباہمی شکوک اس راہ کو کٹھن بنادیتے ہیں۔پہلاقدم جنگ بندی کوبرقرار
تاریخ عالم کے کے اوراق جب خونچکاں سطروں سے رقم ہوتے ہیں توان میں صرف واقعات نہیں،تہذیبوں کے مقدراوراقوام کے عزائم بھی ثبت ہوجاتے ہیں اوربعض ادوار تو ایسے ہوتے ہیں جب زمانہ خوداپنے بوجھ تلے کراہتامحسوس ہوتاہے۔ایسے میں واقعات
(گزشتہ سے پیوستہ) زمینی حقیقت یہ ہے کہ اختلافات کی نوعیت محض لفظی نہیں بلکہ عملی نتائج رکھتی ہے مگرسیاسی مبصرین کے مطابق یہ اختلافات محض گھریلونوعیت کے نہیں بلکہ اس کے پیچھے خاص طورپرلبنان اورایران کے حوالے سے اسٹریٹجک
اکیسویں صدی کے افق پرجب تاریخ اپنی نئی کروٹ بدل رہی ہے،توطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی سرگوشیاں بھی اب محض رسمی نہیں رہیںوہ تقدیروں کے فیصلے سنانے لگی ہیں ۔واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کرتل ابیب کے جنگی کمرہ