توازنِ خوف
(گزشتہ سےپیوستہ) براہموس،جوروسی وبھارتی اشتراک کانتیجہ ہے،پہلے ہی اپنی رفتاراورمہارت کے باعث عالمی سطح پرمعروف ہے لیکن فتح تھری کا اس کے ساتھ موازنہ دراصل اس برتری کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی میدان میں محض پیروکارنہیں بلکہ ایک
(گزشتہ سےپیوستہ) براہموس،جوروسی وبھارتی اشتراک کانتیجہ ہے،پہلے ہی اپنی رفتاراورمہارت کے باعث عالمی سطح پرمعروف ہے لیکن فتح تھری کا اس کے ساتھ موازنہ دراصل اس برتری کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی میدان میں محض پیروکارنہیں بلکہ ایک
تاریخِ حرب وضرب کی دبیزکتاب جب بھی ورق درورق کھولی جائے،اوراس کامطالعہ محض واقعات کے اندراج کے طورپرنہ کیاجائے تواس کے اوراق کے پسِ پردہ کارفرمافکری روایات،تہذیبی محرکات اورعلمی ارتقاکی ایک ہی صدا،ایک ہی حقیقت ابھرکرروزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی
(گزشتہ سے پیوستہ) دونوں ممالک کے کامیابی کے دعوے دراصل اس نفسیاتی جنگ اورجدید جنگی حکمت عملی کاحصہ ہیں جسے اطلاعاتی جنگ کہاجاتا ہے جوجدیدجنگوں میں کلیدی کرداراداکرتے ہیں اور عسکری محاذسے زیادہ اہمیت اختیارکرچکے ہیں۔پاکستان کایہ دعویٰ کہ اس
جنوبی ایشیاء ایک ایساخطہ ہے جہاں تاریخ، سیاست اورتہذیب ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ کسی ایک عنصرکونظراندازکرنا ممکن نہیں۔تاریخ کے اوراق جب کبھی پلٹے جاتے ہیں توان میں جنگ وجدل، کشاکش اوراقتدارکی رسہ کشی کے ایسے نقوش
(گزشتہ سے پیوستہ) ماضی کے مشترکہ دفاعی معاہدے اکثر کاغذی ثابت ہوئے۔عرب لیگ کے دفاعی معاہدے ہوں یا دیگرعلاقائی کوششیں ان میں ادارہ جاتی قوت اورسیاسی عزم کی کمی رہی۔سب سے بڑاچیلنج ماضی کےوہ دفاعی معاہدےہیں جوکبھی عملی شکل اختیارنہ
(گزشتہ سے پیوستہ) ماضی کے کئی دفاعی معاہدے عملی صورت اختیار نہ کرسکے۔عرب دنیاکی داخلی کشمکش اور باہمی بداعتمادی اس کی بڑی وجہ رہی۔ اگریہ اتحادبھی محض اعلامیہ رہاتوانجام مختلف نہ ہوگا۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے
(گزشتہ سے پیوستہ) اسلامی نیٹوکی تجویزکی سیاسی معنویت،قیادت کابیانیہ اورپاکستان بطورایٹمی قوت کے ذمہ دارانہ کردارایک انتہائی اہم ذمہ داری کا بوجھ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔پاکستان کواپنی ایٹمی صلاحیت کوڈیٹرنس (بازدار
تاریخ کے بعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب زمانہ خودسوال بن کراقوام کے دروازے پردستک دیتا ہے۔ امتوں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اورجغرافیے کی سرحدیں لرزنے لگتی ہیں۔عالمِ اسلام
(گزشتہ سے پیوستہ) سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں،ایران، اسرائیل ، شام،عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق ’’نیوابراہیم اکارڈز‘‘ ایک
(گزشتہ سے پیوستہ) یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرٹرمپ ایران معاہدہ کوابراہیمی معاہدات کے ساتھ کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟یہ دراصل ایک بڑی تصویرکا حصہ ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کوایک نئے سیاسی نظام میں ڈھالنے کی کوشش