Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بارہ نشستیں،تاریخ کانامکمل باب

(گزشتہ سے پیوستہ)
جہاں جمہوری معاشروں میں احتجاج ایک حق ہے وہاں احتجاج جمہوری معاشروں کاحسن بھی ہے، مگراس کی حدودبھی ہیں۔جب یہ حدودپامال ہوں،اور اس میں تشدددرآئے تویہ حق جہاں خوداپنی ساکھ کھودیتاہے وہاں اپنے مقصدسے دورہوجاتاہے اوریہی کشمکش یہاں بھی نظرآئی۔یہی وہ مقام ہے جہاں حق اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرناناگزیر ہو جاتا ہے۔احتجاج کے حق اورتشددکے درمیان لکیر دھندلاگئی۔ ایک طرف عوامی غصہ تھا،دوسری طرف ریاستی رٹاور دونوں کے درمیان مکالمہ گم ہوگیا۔ریاستی مفادکاتصور ایک مقدس اصطلاح ہے،مگرجب اس کی تعبیرسیاسی مفادات کے تابع ہوجائے تواس کی معنویت مجروح ہوجاتی ہے۔ ہرجماعت خودکوریاستی مفادکانگہبان قرار دیتی ہے،مگر جب مفادکی تعبیرمختلف ہوجائے تووحدت کی جگہ افتراق لے لیتاہے۔اس تنازع میں بھی یہی منظرنمایاں رہا۔یہ دلیل پیش کی گئی کہ یہ مسئلہ سیاست نہیں بلکہ ریاست کاہے،مگرعملاًہرقدم سیاسی مفادات سے رنگاہوا دکھائی دیا۔
سیاسی قیادت کی چند غلطیوں نے اس مسئلے کوسلجھانے کی بجائے مزیدپیچیدہ بنادیا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض رہنماں نے خود اس بات کوتسلیم کیاکہ معاملے کودرست اندازمیں نہیں سنبھالا گیا۔ یہ اعتراف گویاایک آئینہ ہے جس میں سیاسی بے بصیرتی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔بعض رہنمائوں نے اس بات کوتسلیم کیاکہ معاملہ ’’مس ہینڈل‘‘ہوا۔یہ اعتراف گوکہ دیرسے آیا،مگراس نے حقیقت کا پردہ ضرورچاک کیا۔یہ وہ مقام تھاجہاں تدبرکی کمی نے بحران کوجنم دیا۔
مہاجرین کی ایک تاریخی حیثیت ہے اور پاکستان میں بسنے والے مہاجرین جہاں تاریخ کے امین ہیں وہاں ان کی نمائندگی، یک تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔مہاجرین کی یہ نشستیں محض سیاسی مراعات نہیں بلکہ ایک تاریخی عہدکاتسلسل ہیں۔یہ نشستیں ان لوگوں کی یادگار ہیں جنہوں نے تاریخ کے کڑے امتحان جھیلے۔ان لوگوں کی نمائندگی جوہجرت کے کرب سے گزرکریہاں پہنچے،ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اورایک قومی عہد بھی۔ مہاجرین وہ طبقہ ہیں جوتاریخ کے جبرکاشکارہو کر یہاں پہنچے۔ان کی نمائندگی کاسوال محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اورتاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ان کی نمائندگی کوکم یاختم کرنامحض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری کا سوال ہے۔سیاست میں تاخیر اکثربحران کوجنم دیتی ہے۔ اگر بروقت مذاکرات ہوتے توشاید ڈیڈلاک سے بچاجاسکتاتھا۔حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ ہرمسئلے کا ایک مناسب وقت ہوتاہے ۔ جب وہ وقت گزرجائے تو حل مشکل ہوجاتا ہے۔یہی صورتحال یہاں بھی پیدا ہوئی۔ سیاست میں تاخیر اکثربحران کوجنم دیتی ہے۔
سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پرالزام تراشی میں مصروف رہیں اورایک دوسرے پرانگلیاں اٹھاتی رہیں،مگرمسئلہ اپنی جگہ برقراررہا گویامرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی۔سیاسی میدان میں الزام تراشی ایک عام رویہ ہے،مگراس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید الجھتے ہیں۔یہ وہ کیفیت تھی جسے اہلِ دانش ’’دورِ باطل ‘‘سے تعبیرکرتے ہیں۔ ہرفریق نے ریاستی مفادکانعرہ بلندکیا، مگراس کے پسِ پردہ جماعتی ترجیحات بھی کارفرما رہیں اورہرجماعت نے خودکوریاستی مفادکا علمبردا ر قرار دیا مگر ریاستی مفادکی تعریف ہرجماعت کے نزدیک مختلف رہی، جس نے اتفاقِ رائے کومشکل بنادیا۔
ابتدائی مرحلے میں عوامی جذبات کوسنجیدگی سے نہ لیناایک بڑی کوتاہی اورغلطی ثابت ہوئی جس نے بعد میں بحران کوجنم دیا۔تاریخ گواہ ہے کہ عوامی تحریکوں کو دبایانہیں جاسکتا ، صرف سمجھاجاسکتا ہے۔ عوامی جذبات کونظراندازکرناہمیشہ مہنگاپڑتا ہے۔ فیصلوں کا مرکز جب زمینی حقیقت سے دورہوتو مسائل کی اصل نوعیت سمجھ میں نہیں آتی۔فیصلوں کامرکز اسلام آبادمیں ہونامقامی مسائل کی تفہیم میں رکاوٹ بنا۔مقامی قیادت خودکوبے اختیارمحسوس کرتی رہی۔یہی وجہ ہے کہ زمینی حقائق اکثر نظراندازہوجاتے ہیں۔عوامی تحریک کوخطرہ سمجھ کراس پرسخت ردعمل دینامسئلے کومزیدگہرا،سنگین اورپیچیدہ بنادیتاہے۔یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔جب کسی سیاسی مسئلے کوسکیورٹی کے چشمے سے دیکھاجائے تواس کاحل مزید دور ہو جاتا ہے۔یہی زاویہ اس بحران میں بھی غالب رہااورجس نے فاصلوں کوبڑھادیاہے۔
یہ تنازع آنے والے برسوں میں سیاسی منظر نامے کوبدل سکتاہے اورمستقبل کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کرے گا۔یہ تنازع مستقبل میں نئی سیاسی قوتوں کوبھی جنم دے سکتا ہے،جوروایتی سیاست سے ہٹ کرایک مختلف راستہ اختیار کریں گی اوریاد رکھیں کہ نئی قیادت کے ابھرنے اورپرانی صف بندیاں ٹوٹنے کے امکانات بھی اسی بحران کی کوکھ سے جنم لے سکتے ہیں۔
نوجوان نسل اس بحران کومحض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھتی ہے،جواس کے سیاسی شعورکو تشکیل دے رہاہے۔ریاستی طاقت اوراقدامات کے استعمال نے ایک ایسی نسل کوجنم دیا ہے جس کے اندر بے چینی اورسوالات کی کثرت ہے اوراس کے اندر بے چینی غصہ اوراضطراب موجزن ہے۔اس غصہ ، بے چینی پردانش سے قابو نہ پایاگیاتومستقبل میں مختلف صورتوں میں اپنا اظہارکرے گی۔اگرچہ فضا کشیدہ ہے،مگر مذاکرات کی امیدابھی باقی ہے۔یہی امیدکسی بھی بحران کے خاتمے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
ہربحران کاحل مکالمہ ہے،اوریہی واحدراستہ یہاں بھی دکھائی دیتاہے۔اگرچہ کمیٹی کالعدم قرار دی جاچکی ہے،مگرمذاکرات کی ایک دھندلی سی امید باقی ہے اوریہی امیدسیاست کا آخری سہارا ہوتی ہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں