مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کے ان چند انقلابی مظاہر میں سے ایک ہے جنہوں نے مختصر عرصے میں دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔ آج کمپیوٹر کتابیں لکھ رہے ہیں، موسیقی ترتیب دے رہے ہیں، بیماریوں کی تشخیص کر رہے ہیں، زبانوں کا ترجمہ کر رہے ہیں، گاڑیاں چلا رہے ہیں اور سائنس دانوں کو ایسے انکشافات تک پہنچا رہے ہیں جن کے لئے کبھی برسوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ اس حیرت انگیز ترقی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا ایک دن مصنوعی ذہانت انسان سے بھی برتر ہو جائے گی؟ کیا وہ شعور، روح یا انسانی مقام حاصل کر سکتی ہے؟یہ صرف سائنسی سوالات نہیں بلکہ انسان کی حقیقت، اس کے مقصدِ تخلیق اور اس کے مقام سے متعلق سوالات ہیں۔ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم ایک ابدی حقیقت سے آغاز کرتے ہیں: اللہ تعالی ہی واحد خالق ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ قرآن کریم اعلان کرتا ہے:
انسان نے جو کچھ دریافت کیا ہے، خواہ وہ پہیہ ہو، بجلی، خلائی سائنس، کوانٹم کمپیوٹنگ یا مصنوعی ذہانت، وہ سب اسی محدود علم کا ایک حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے انسان کے لئے ظاہر فرمایا۔ اس لئے سائنس اللہ تعالیٰ کی حریف نہیں بلکہ اس کی حکمت کی ایک جھلک ہے۔ ہر نئی دریافت ہمیں اس حقیقت کا مزید احساس دلاتی ہے کہ خالق کا علم لامحدود ہے جبکہ انسان کا علم نہایت محدود۔
آج کی ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ ذہانت اور شعور کو ایک ہی چیز سمجھنے لگے ہیں۔ ایک کمپیوٹر انسان سے کہیں زیادہ تیزی سے حساب کر سکتا ہے، شطرنج میں عالمی چیمپئن کو شکست دے سکتا ہے، لاکھوں طبی ریکارڈ چند منٹوں میں جانچ سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی موجودگی کا شعور نہیں رکھتا۔ وہ حساب کرتا ہے مگر غور و فکر نہیں کرتا، معلومات پر عمل کرتا ہے مگر ایمان نہیں لاتا، پیش گوئی کرتا ہے مگر اپنے وجود کا ادراک نہیں رکھتا۔قرآنِ کریم انسان کی اصل فضیلت کو صرف عقل نہیں بلکہ الٰہی امانت قرار دیتا ہے۔
یہ امانت اخلاقی ذمہ داری، اختیار، جواب دہی، حق و باطل میں امتیاز اور اپنے رب کو پہچان کر اس کی عبادت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ شرف کسی مشین کو نہیں دیا گیا۔(سورہ الاحزاب: 72)
انسان اور مشین کے درمیان سب سے بڑا فرق بھی ذہانت نہیں بلکہ روح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، انہیں بہترین صورت عطا کی، پھر ان میں اپنی پیدا کی ہوئی روح پھونکی۔
اس سے مراد یہ نہیں کہ روح اللہ تعالیٰ کا جز ہے، بلکہ یہ اس روح کی عظمت اور شرف کا بیان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت دے کر انسان کو عطا فرمایا۔ یہی روح انسان کو اخلاق، محبت، ایمان، احساس، توبہ، امید، دعا اور بندگی عطا کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نہ کوئی لیبارٹری بنا سکتی ہے اور نہ کوئی مشین پیدا کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت زبان کی نقل کر سکتی ہے مگر وحی حاصل نہیں کر سکتی۔ وہ اخلاقیات پر گفتگو کر سکتی ہے مگر تقویٰ اختیار نہیں کر سکتی۔ وہ دعائیں لکھ سکتی ہے مگر خود دعا نہیں کر سکتی۔ وہ جنت کا نقشہ بیان کر سکتی ہے مگر اس میں داخل ہونے کی امید نہیں رکھ سکتی۔ وہ توبہ کا مفہوم سمجھا سکتی ہے مگر خود توبہ نہیں کر سکتی۔یہ حدود صرف ٹیکنالوجی کی کمزوری نہیں بلکہ خالقِ کائنات کے مقرر کردہ امتیازات ہیں۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عظیم ایجاد خیر اور شر دونوں کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔ آگ کھانا بھی پکاتی ہے اور شہر بھی جلا دیتی ہے۔ بجلی ہسپتال بھی روشن کرتی ہے اور جنگی ہتھیار بھی چلاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اسی اصول کے تابع ہے۔ یہ بیماریوں کے علاج، تعلیم کے فروغ، انصاف کی تیز تر فراہمی، ماحول کے تحفظ، زراعت، صنعت اور انسانی خدمت میں بے مثال کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اگر اخلاق سے محروم ہاتھوں میں چلی جائے تو جھوٹ، ظلم، نگرانی، فریب اور تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔اس لئے اصل خطرہ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ اخلاق سے خالی انسان ہے۔
قرآن کریم بار بار تکبر سے خبردار کرتا ہے۔ علم اگر تواضع سے خالی ہو تو خطرناک بن جاتا ہے، طاقت اگر اخلاق سے محروم ہو تو فساد پیدا کرتی ہے، اور ٹیکنالوجی اگر الٰہی ہدایت سے جدا ہو جائے تو انسانیت کے لئے آزمائش بن جاتی ہے۔
(جاری ہے)