Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

مقدساتِ دین،ناموسِ رسالتﷺ اور بےلگام میڈیا

صحافت کی بنیاد سچائی، اعلیٰ کردار اورسماجی ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ عوامی شعور کی تشکیل اور معاشرتی سمت کے تعین میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ میڈیا ہر خبر اور رائے میں دیانت، توازن اور احتیاط کو ملحوظ رکھے کیونکہ اس کی معمولی سی لغزش بھی وسیع پیمانےپرفکری انتشار اور سماجی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔ خصوصاً جب معاملہ مذہبی مقدسات، انبیائے کرام علیہم السلام کی عزت و توقیر اور اسلامی شعائر کے احترام کا ہو تو میڈیا کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس دائرے میں کسی بھی قسم کی بےاحتیاطی یا غیرذمہ دارانہ پیشکش نہ صرف عوامی جذبات کو مجروح کر سکتی ہے بلکہ معاشرے میں اضطراب اور تقسیم کا باعث بھی بن سکتی ہےلہٰذا ایک باشعور اور ذمہ دار میڈیا کے لیےلازم ہے کہ وہ ان حساس معاملات میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت کا مظاہرہ کرے۔
جیو نیوز اور جیو انٹرٹینمنٹ سےجڑےحالیہ واقعات نے ادارہ جاتی بےاحتیاطی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صحافت کی بنیاد اعتماد اور احتیاط پر ہے اور جب کوئی ادارہ محض ریٹنگ کی دوڑ میں مذہبی و سماجی حساسیت کو نظرانداز کرتا ہے تو نقصان صرف اُس کی اپنی ساکھ کا نہیں بلکہ پورے میڈیا کے اعتبار کا ہوتا ہے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر یہ بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ میڈیا کی آزادی اور مذہب کے احترام کے درمیان کی لکیر کہاں کھینچی جانی چاہیے۔
سب سے پہلےجیونیوز کےپروگرام سفرِعشق کا معاملہ سامنے آیاجو محرم الحرام کے مقدس موقع پر نشر ہوا۔ اس پروگرام میں مذہبی شخصیات کی تصاویر کا خاکہ نما مواد نشر کیا گیا جو مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کرنے والا تھا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نےاس مواد کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قرار دیتےہوئےجیو نیوز کا نشریاتی لائسنس پندرہ دن کے لیے معطل کر دیا۔ جیو نیوز نےبعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواد غلطی سے نشر ہو گیا تھا، اسے فوری طور پر ہٹا دیاگیا اورذمہ دار ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی۔ تاہم اس اعتراف کےباوجودیہ ایک ناقابلِ دفاع ادارتی غلطی تھی۔ محرم الحرام کے بابرکت مہینے میں اس بے احتیاطی نے پورے معاشرے میں اضطراب پیدا کیا۔ ایک قومی سطح کا چینل جب ایسا مواد نشر کرتا ہے تو اس کا اثر محدود حلقے تک نہیں رہتا بلکہ پورے سماجی ماحول کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے “ضبط” کی قسط نمبر 20 میں بھی ایک انتہائی متنازعہ سین سامنے آیا۔ اس سین میں اداکارہ سارہ اعجازخان غصے کی حالت میں ایک اسلامیات کی کتاب اٹھاکر زمین پر پھینکتی دکھائی گئی۔ سب سے تشویش ناک بات یہ تھی کہ اس کتاب کے سرورق پر روضہ رسول ﷺ یعنی مسجد نبوی ﷺ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ڈرامے کے سیٹ اور پروڈکشن کو احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے ناظرین کا یہ کہنا بالکل جائز ہےکہ کسی بھی دوسری عام کتاب کا استعمال کیاجاسکتا تھا مگر اسلامیات کی کتاب جو قرآن و حدیث سے متعلق تعلیمات پر مشتمل ہوتی ہے اور مسجد نبوی کی تصویر والے کور کے ساتھ کو اس طرح پھینکنے کی منظرکشی کیوں کی گئی۔ یہ سین سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور عوام میں شدید بےچینی پھیل گئی۔ بعد ازاں اس قسط کو یوٹیوب سے ہٹا دیاگیا مگر پہلے ہی نقصان ہو چکا تھا اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھ گیا کہ جیو گروپ مذہبی حساسیت کے معاملے میں بار بار غفلت برت رہا ہے۔ ڈراموں میں ایسے سینز لاکھوں گھروں میں دیکھےجاتے ہیں۔ لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو آپ ﷺ کے ادب و احترام کا درس دیتا ہے۔ مسجد نبوی ﷺ کی تعظیم اور اس سے منسوب کسی بھی چیز کا احترام مسلمان کے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ ایسی کتاب کو، جو دینی علوم سکھانے والی ہو، غصے میں پھینکنے کی منظرکشی نہ صرف ناظرین کے جذبات مجروح کرتی ہے بلکہ نوجوان نسل پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک ڈرامائی سین نہیں بلکہ مجموعی طور پر میڈیا کی ذمہ داری کا سوال اٹھاتا ہے۔
میڈیا اداروں،خاص طور پرجیو جیسےبڑے گروپ سےیہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف ریٹنگزیاجرات اظہار کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ لاکھوں ناظرین کے دینی جذبات کا خیال رکھیں۔ خبر پروگرام ہو یا ڈراما سیریل، دونوں جگہوں پر حساس مواد کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ پروڈیوسرز اور ایڈیٹرز کوچاہیے کہ مذہبی ماہرین سے مشورہ کریں اورایسے مناظر دکھانے سے اجتناب کریں جو اشتعال کا باعث بن سکیں۔ میڈیا کی آزادی کا مطلب ہرگز مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں۔ ہر اظہار رائے کی اخلاقی، سماجی اور قانونی حدود ہوتی ہیں۔ اگر ایک میڈیا ہاؤس بار بار ایسی لغزشیں کرے تو اس کی ساکھ پر سوالات اٹھنا فطری عمل ہے۔یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ناموسِ رسالت ﷺ اور اسلامی شعائر کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔ جیو گروپ سمیت تمام میڈیا اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اداراتی نظام کو مزید مستحکم بنائیں، عملے کی تربیت کو مؤثر کریں، حساس مواد کی اشاعت سے قبل کڑی جانچ پڑتال کے نظام کو یقینی بنائیں اور ہر حال میں مذہبی حساسیت کا احترام مقدم رکھیں۔ ایسے پروگرام نشر کریں جو دینی حمیت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق، بردباری اور ادب کا پرچار کریں۔ مسلم میڈیا چینلز حقیقی معنوں میں اس امت کے نمائندہ بنیں جس کے نبی ﷺ نے حسنِ اخلاق، رحمت اور حکمت کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں۔ معاشرے میں امن، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیں، اور میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں۔ ایسے واقعات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ جواب دہی اور اظہار کے ساتھ ادب لازم و ملزوم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں