مقدساتِ دین،ناموسِ رسالتﷺ اور بےلگام میڈیا
صحافت کی بنیاد سچائی، اعلیٰ کردار اورسماجی ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ عوامی شعور کی تشکیل اور معاشرتی سمت کے تعین میں بھی کلیدی کردار
صحافت کی بنیاد سچائی، اعلیٰ کردار اورسماجی ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ عوامی شعور کی تشکیل اور معاشرتی سمت کے تعین میں بھی کلیدی کردار
جولائی 1995 میں بوسنیا کے شہر سریبرینیتسا میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک قتلِ عام نہیں تھا بلکہ انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا سیاہ دھبہ تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ ہزاروں بوسنیائی مسلمان مردوں
امامِ عالی مقام سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی وہ تابندہ، لازوال اور ابدی شخصیت ہیں جن کا نام آتے ہی دل عقیدت سے جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور روحوں میں حق
آزاد جموں و کشمیر کی وہ سرزمین، جو اپنی فطری خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور مہمان نواز لوگوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کے لقب سے یاد کی جاتی ہے، آج ایک مرتبہ پھر ایسے
میدانِ عرفات کی پاکیزہ اورنورانی فضاؤں میں آج سےچودہ صدیاں قبل گونجنے والے وہ مبارک کلمات محض ایک تاریخی خطاب نہ تھےبلکہ وہ ایک ایسی ہمہ گیر صدائے ہدایت تھے جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر
انسان دنیا میں بے شمار سفر کرتا ہے۔ کچھ سفر روزگار اور معاش کے لیے ہوتے ہیں، کچھ علم کے حصول کے لیے، کچھ سیاحت اور تفریح کے لیے تو کچھ صرف ضرورت اور مجبوری کے تحت۔ مگر چند ایک
برطانیہ اس وقت ایک ایسے تاریخی اور فکری موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلیاں بیک وقت نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بریگزٹ کے بعد قوم پرستی محض ایک وقتی ردعمل نہیں رہی بلکہ ایک منظم
دنیا کامیابی کی پیمائش آج کل شہرت، مقبولیت، سوشل میڈیا کے فالوورز، وائرل پوسٹس، عوامی داد و تحسین اور عوامی توجہ سے کرتی ہے۔ جس کا نام زیادہ لیا جائے۔ جس کی تصویر زیادہ گردش کرے۔ جس کی بات زیادہ
اکیسویں صدی کی مسلم دنیاکاسب سےبڑا المیہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ خداداد وسائل کو بروئےکارنہ لانے کی مسلسل ناکامی ہے۔ ایک مکمل اورجامع نظریۂ حیات،وسیع اور نوجوان انسانی سرمایہ، بےشمارقدرتی وسائل،شاندارتہذیبی ورثہ اوردینِ اسلام کی صورت میں ایک ہمہ
اعتماد انسانی معاشرت کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر زندگی کے تمام رشتے، تعلقات اور ادارے قائم ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جو انسانوں کے درمیان اطمینان، محبت اور باہمی تعاون پیدا کرتی ہے۔ جب یہ ستون کمزور ہو