کشمیری قوم: وفا، قربانی اور انصاف کی پکار
آزاد جموں و کشمیر کی وہ سرزمین، جو اپنی فطری خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور مہمان نواز لوگوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کے لقب سے یاد کی جاتی ہے، آج ایک مرتبہ پھر ایسے
آزاد جموں و کشمیر کی وہ سرزمین، جو اپنی فطری خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور مہمان نواز لوگوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کے لقب سے یاد کی جاتی ہے، آج ایک مرتبہ پھر ایسے
میدانِ عرفات کی پاکیزہ اورنورانی فضاؤں میں آج سےچودہ صدیاں قبل گونجنے والے وہ مبارک کلمات محض ایک تاریخی خطاب نہ تھےبلکہ وہ ایک ایسی ہمہ گیر صدائے ہدایت تھے جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر
انسان دنیا میں بے شمار سفر کرتا ہے۔ کچھ سفر روزگار اور معاش کے لیے ہوتے ہیں، کچھ علم کے حصول کے لیے، کچھ سیاحت اور تفریح کے لیے تو کچھ صرف ضرورت اور مجبوری کے تحت۔ مگر چند ایک
برطانیہ اس وقت ایک ایسے تاریخی اور فکری موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلیاں بیک وقت نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بریگزٹ کے بعد قوم پرستی محض ایک وقتی ردعمل نہیں رہی بلکہ ایک منظم
دنیا کامیابی کی پیمائش آج کل شہرت، مقبولیت، سوشل میڈیا کے فالوورز، وائرل پوسٹس، عوامی داد و تحسین اور عوامی توجہ سے کرتی ہے۔ جس کا نام زیادہ لیا جائے۔ جس کی تصویر زیادہ گردش کرے۔ جس کی بات زیادہ
اکیسویں صدی کی مسلم دنیاکاسب سےبڑا المیہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ خداداد وسائل کو بروئےکارنہ لانے کی مسلسل ناکامی ہے۔ ایک مکمل اورجامع نظریۂ حیات،وسیع اور نوجوان انسانی سرمایہ، بےشمارقدرتی وسائل،شاندارتہذیبی ورثہ اوردینِ اسلام کی صورت میں ایک ہمہ
اعتماد انسانی معاشرت کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر زندگی کے تمام رشتے، تعلقات اور ادارے قائم ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جو انسانوں کے درمیان اطمینان، محبت اور باہمی تعاون پیدا کرتی ہے۔ جب یہ ستون کمزور ہو
عالمی سیاست کی بساط ہمیشہ تغیر و تبدل کا شکار رہی ہے مگر موجودہ دور میں اس کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں
عالمی سیاست کے اس بے رحم دور میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف بنیامین نیتن یاہو، ولادیمیرپیوٹن، شی جن پنگ اورڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ہیں جو اپنے قومی مفادات اوراپنے ایجنڈے کو پوری بےباکی کے ساتھ دنیا
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور جسمانی زندگی کے ہر پہلو کو فطری اور متوازن انداز میں سنوارتا ہے۔ اسلام محض چند رسوم و عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک جامع نظامِ حیات