اکیسویں صدی کی مسلم دنیاکاسب سےبڑا المیہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ خداداد وسائل کو بروئےکارنہ لانے کی مسلسل ناکامی ہے۔ ایک مکمل اورجامع نظریۂ حیات،وسیع اور نوجوان انسانی سرمایہ، بےشمارقدرتی وسائل،شاندارتہذیبی ورثہ اوردینِ اسلام کی صورت میں ایک ہمہ گیر اخلاقی وسماجی نظام۔ یہ سب کچھ موجود ہے۔ اس کے باوجود قیادت کمزور،متردد اور فیصلہ سازی کی جرات سے محروم نظر آتی ہے۔ یوں بیانیہ بلند آہنگ رہا مگر عملی اقدامات کمزور پڑگئے، اور یہی تضاد امت کی اجتماعی قوت کو بتدریج منتشر کرتا چلا گیا۔ یہ صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری و عملی زوال کی علامت ہے۔
غزہ کاحالیہ بحران اس کمزوری کو پوری شدت کے ساتھ آشکار کرتا ہے۔ مسلم عوام نے درد،غصے اوریکجہتی کا بھرپوراظہارکیا؛ دنیا بھر میں احتجاج ہوئے،سوشل میڈیاپرآوازیں بلند ہوئیں،اوردلوں میں ایک مشترکہ کرب محسوس کیا گیا مگر ریاستی سطح پر ردعمل منتشر، غیر مربوط اور اکثر بےاثر رہا۔ بیانات میں سختی تھی مگر اقدامات میں نرمی، زبان میں غیرت تھی مگر پالیسی میں مصلحت غالب رہی۔ اس واضح تضاد نے نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد کو مجروح کیا بلکہ عالمی سطح پربھی یہ تاثر دیا کہ مسلم دنیا جذباتی تو ہے مگر فیصلہ کن قوت سے محروم ہے۔
خلیجی ریاستیں تیزی سے جدیدیت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں ایک اصولی سوال کو جنم دیتی ہیں کہ کیامعاشی مفادات کوترجیح دے کر امت کےاجتماعی دردکو نظراندازکیاجاسکتاہے؟ ترکی کی سیاست بھی اسی داخلی کشمکش کا شکار ہےایک طرف عوامی جذبات کی پرزور نمائندگی اوردوسری طرف اسرائیل کے ساتھ معاشی روابط کا تسلسل۔ یوں اصول اورمفاد کےدرمیان ایک نازک توازن قائم رکھنے کی جدوجہد مسلسل جاری ہے، جو بسا اوقات تضاد کا روپ دھار لیتی ہے۔
سعودی عرب کے پاس مذہبی مرکزیت، بےپناہ مالی وسائل اورعلاقائی اثرو رسوخ کی قوت موجود ہےمگر اس کےکئی فیصلے تنقیدی نگاہ کے متقاضی ہیں۔ یمن کی طویل جنگ، توانائی کی عالمی سیاست میں محتاط کرداراورخطے میں بدلتی ہوئی ترجیحات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ داخلی و خارجی دباؤ کس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی مثال اس سے بھی زیادہ نازک اور پیچیدہ ہے۔ ایک نظریاتی ریاست ہونے کے باوجود اس کی عملی سمت اپنےہی دعووں سےدورہوتی گئی۔ معیشت قرضوں کے سہارے چلتی رہی، سیاسی نظام عدم استحکام کا شکار رہا اورخارجہ پالیسی اکثر بیرونی دباؤ کے زیراثر تشکیل پاتی رہی۔ نتیجتاً نظریہ اورعمل کےدرمیان ایک وسیع اورگہری خلیج پیداہوگئی جس نے ریاستی شناخت کو بھی متاثر کیا۔
ملائیشیاء اورانڈونیشیاء نےایک نسبتاًمتوازن راستہ اختیارکیا جہاں ترقی، ادارہ سازی اور مذہبی شناخت کے درمیان ایک ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ ان ممالک نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ جدیدریاستی نظم اور مذہبی اقدار ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ ایران کا انقلاب ایک بڑی نظریاتی بیداری کا مظہر تھامگر معاشی پابندیوں، عالمی دباؤ اورداخلی سختیوں نےاس کی رفتار کومحدود کردیا۔ ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہےکہ محض نظریہ کافی نہیں ہوتا؛مضبوط ادارے،شفاف حکمرانی، متوازن معیشت اور فعال عوامی شراکت اس کے لیے ناگزیر ہیں۔ اگر نظریہ اداروں میں ڈھل کر عملی نظام نہ بنے تو وہ محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے، کوئی پائیدار ڈھانچہ تشکیل نہیں دے پاتا۔
مسلم دنیاکا اصل بحران بیرونی نہیں بلکہ بنیادی طور پرداخلی نوعیت کا ہےفکری ابہام، تنظیمی کمزوری اور قیادت کی بےسمتی اس کے نمایاں پہلو ہیں۔ انتخابی سیاست میں دین کا استعمال اوراقتدار حاصل کرنےکے بعد مصلحتوں کے سامنے جھک جانا عوامی اعتماد کو بری طرح متاثرکرتا ہے۔ تعلیمی نظام نے بھی مغربی تصورات کو بغیر تنقیدی تجزیے کے قبول کیا،جس کے نتیجے میں ایک ایسا فکری و تعلیمی ڈھانچہ وجود میں آیا جو نہ مکمل اسلامی رہا اور نہ ہی خالص مغربی۔ اس فکری انتشار نے نئی نسل کو شناخت کے بحران سے دوچار کر دیا اور قیادت کو نظریاتی ہم آہنگی سے محروم کر دیا۔
دنیا آج بھی ایک ایسے متوازن نظام کی تلاش میں ہےجو انسانی وقار، معاشی انصاف اور اخلاقی اقدارکویکجاکرسکے۔ سرمایہ داری اپنےداخلی تضادات کے ساتھ کھڑی ہے،اشتراکیت تاریخ کےبوجھ تلےدب چکی ہےجبکہ لبرل جمہوریت بھی کئی معاشروں میں سنجیدہ سوالات کاسامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اسلامی اصول اگر سنجیدگی،حکمت اور تدریج کے ساتھ نافذکیے جائیں تو وہ ایک بااخلاق، منصفانہ اور انسان دوست متبادل پیش کر سکتے ہیں مگر افسوس کہ یہ امکانات اب تک بیانیےاورخطابات تک محدود رہےاور ایک مربوط نظام کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ ریاستِ مدینہ کا ماڈل اسی لیے آج بھی ایک زندہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہےجہاں قانون کی برابری،حکمران کی جواب دہی،معاشی انصاف اور اخلاقی نظم ایک مربوط نظام کی صورت میں موجودتھے۔ اصل قوت وسائل میں نہیں بلکہ اصولوں کی ہم آہنگی اور ان کے عملی نفاذ میں مضمر تھی۔
بالآخر مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ ارادے کا ہے۔ جب تعلیم بامقصد ہو،معیشت دیانت اور شفافیت پر قائم ہو، قانون بلاامتیاز انصاف فراہم کرے، میڈیا شعور و آگہی کو فروغ دے اور قیادت حقیقی معنوں میں جواب دہ ہو،تبھی ایک پائیدار اور بامعنی تبدیلی ممکن ہے۔ قومیں محض وسائل کے بل پر نہیں بلکہ پختہ ارادوں، واضح سمت اوراجتماعی شعور کےذریعے اٹھتی ہیں۔ ممکن ہے آنے والا مؤرخ اس دور کو مسلمانوں کی بےعملی اور بےحسی کا زمانہ قرار دے،مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب قومیں اپنی کمزوریوں کو پہچان لیں اور اصلاح کا عزم کر لیں تو احیا کے دروازے بند نہیں رہتے بلکہ نئی قوت کے ساتھ کھلتے ہیں۔