Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

سانحے سے بڑا سانحہ

بعض اوقات کسی قوم کا زوال اس کی شکست خوردہ معیشت سے نہیں، اس کے زخمی ضمیر سے پہچانا جاتا ہے۔ ریاستیں غربت سے بھی نکل آتی ہیں،وحشیاناک جنگوں کے ملبے سے نکل کر دوبارہ آباد ہو جاتی ہیں، لیکن جب ایک معاشرہ اپنے دکھ کو تماشا اور اپنے زخم کو تفریح بنا لے تو اس کے بعد تعمیر نو کے سارے نقشے بے معنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ میں کئی روز سے اسی اذیت میں مبتلا ہوں کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا واقعی ہم تہذیبی اعتبار سے اتنے بانجھ ہو چکے ہیں کہ ہمارے ہاں سانحے سے زیادہ اس کی تشہیر اہم ہو گئی ہے؟کبھی خبر کا مقصد آگاہی ہوتا تھا، اب خبر کا مقصد توجہ حاصل کرنا ہے۔ کبھی قلم مظلوم کے گرد حصار کھینچتا تھا، اب بعض قلم اسی حصار میں دراڑ ڈالنے لگے ہیں۔ پہلے دکھ بانٹا جاتا تھا، اب دکھ نشر کیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی محض صحافت کی تبدیلی نہیں، یہ ہمارے اجتماعی مزاج کی تبدیلی ہے۔چند روز پہلے پیش آنے والے ایک نہایت افسوس ناک واقعے کے بعد جو منظر سامنے آیا، اس نے خود اس سانحے سے زیادہ دل زخمی کیا۔ ایک طرف ایسے لوگ تھے جو انصاف، قانون اور احتساب کی بات کر رہے تھے، اور دوسری طرف وہ لوگ تھے جو اس واقعے کو اس انداز میں بیان کر رہے تھے جیسے کسی ناول کا سنسنی خیز باب لکھ رہے ہوں۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس ہجوم میں صرف ناتجربہ کار لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ایسے قلم بھی شامل تھے جنہیں برسوں سے سنجیدگی، متانت اور فکری وقار کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔میں سوچتا ہوں، کیا ہمارے الفاظ کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ کیا ہر وہ بات جو ہمارے علم میں آ جائے، اسے پوری دنیا تک پہنچا دینا بھی فرض ہے؟ کیا ہر واقعہ اپنی تمام جزئیات کے ساتھ بیان کیا جانا ضروری ہے؟ اور اگر اس بیان سے کسی بے گناہ انسان کی عزت، نفسیات اور مستقبل مجروح ہوتا ہو تو کیا قلم پھر بھی بے قصور رہتا ہے؟مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا ہے کہ ظلم صرف وہ نہیں جو مجرم کرتا ہے۔ ظلم وہ بھی ہے جو معاشرہ بعد میں کرتا ہے۔
بعض اوقات ایک حادثہ چند لمحوں میں گزر جاتا ہے مگر لوگوں کی زبانیں برسوں تک اس کی بازگشت کو زندہ رکھتی ہیں۔ یوں اصل مجرم سے زیادہ معاشرہ سزا دینے لگتا ہے، اور جسے سب سے زیادہ تحفظ ملنا چاہیے تھا، وہی سب سے زیادہ بے پردہ کر دیا جاتا ہے۔ہم نے شاید تہذیب کا مفہوم ہی بدل دیا ہے۔ تہذیب صرف اچھے لباس، اعلیٰ عمارتوں یا بلند و بالا تعلیمی اداروں کا نام نہیں۔ تہذیب اس لمحے پہچانی جاتی ہے جب کسی کمزور کی عزت ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم اسے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کریں۔ اگر ہم یہ امتحان ہار جائیں تو ہماری تمام ترقی محض ظاہری آرائش رہ جاتی ہے۔یہ بھی عجیب المیہ ہے کہ ہم طاقتور پر تنقید کرتے کرتے کمزور کو روند دیتے ہیں۔ اگر کسی صاحبِ اختیار کے کسی قریبی یا دور کے تعلق دار پر الزام ہے یا کسی معاملے میں تحقیقات جاری ہیں تو سوال ضرور اٹھائیے، احتساب ضرور مانگیے، مگر اس انداز سے کہ انصاف کا مطالبہ برقرار رہے اور متاثرہ افراد کی حرمت بھی محفوظ رہے۔ ورنہ ہم ظلم کے خلاف لڑتے لڑتے خود ظلم کے ایک نئے چہرے میں ڈھل جاتے ہیں۔سوشل میڈیا نے ہر شخص کو منبر عطا کر دیا ہے، مگر منبر کے ساتھ منبر کی ذمہ داری نہیں آئی۔ ہر شخص بول رہا ہے، مگر کم لوگ سوچ رہے ہیں۔ ہر شخص لکھ رہا ہے، مگر کم لوگ اپنے الفاظ کے انجام سے واقف ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ لفظ بھی گولی کی طرح ہوتے ہیں؛ ایک بار نکل جائیں تو واپس نہیں آتے، اور بعض زخم عمر بھر نہیں بھرتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ خاموشی اختیار کر لی جائے۔ خاموش معاشرے بھی زندہ نہیں رہتے۔ مگر گفتگو اور شور میں، صحافت اور سنسنی میں، احتساب اور تماشے میں ایک باریک مگر نہایت اہم لکیر ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس لکیر کو مٹا رہے ہیں۔میرا دکھ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہر نیا سانحہ ہمیں پہلے سے زیادہ بے حس ثابت کر رہا ہے۔
ہم ہر بار چند دن شور مچاتے ہیں، چند دن کردار کشی کرتے ہیں، چند دن فیصلے سناتے ہیں، پھر اگلے تماشے کی طرف چل پڑتے ہیں۔ پیچھے رہ جاتے ہیں چند ایسے انسان جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل چکی ہوتی ہیں۔میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ہماری ماں کی تربیت، ہمارے اساتذہ کی نصیحتیں، ہمارے دین کی اخلاقی تعلیمات اور ہماری صدیوں پرانی تہذیبی روایت بھی ہمیں یہ نہ سکھا سکیں کہ مظلوم کی پردہ پوشی کیسے کی جاتی ہے، تو پھر ہم نے آخر سیکھا کیا ہے؟قلم کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ وہ سچ بھی لکھے اور انسان کو بھی بچائے۔ سچ لکھنا آسان ہے، ذمہ داری کے ساتھ سچ لکھنا مشکل ہے۔ یہی مشکل اصل امتحان ہے، اور یہی امتحان آج ہمارا اہلِ قلم پوری دیانت سے نہیں دے پا رہا۔مجھے خوف اس بات کا نہیں کہ ہمارے شہروں میں عمارتیں کم ہو جائیں گی یا ہماری معیشت کبھی بحران کا شکار ہو جائے گی۔ مجھے خوف اس دن سے ہے جب ہماری آنے والی نسلیں یہ سمجھنے لگیں گی کہ کسی انسان کی عزت بھی ایک خبر ہے، کسی خاندان کا کرب بھی ایک پوسٹ ہے اور کسی مظلوم کی خاموشی بھی تبصروں کی خوراک ہے۔ اس دن ہم واقعی تہذیبی اعتبار سے مفلس ہو جائیں گے۔
آج ضرورت قانون سے پہلے ضمیر کی بحالی کی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ خبر کیسے وائرل کی جاتی ہے؛ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ کسی زخمی دل کے گرد خاموشی کی چادر کیسے تانی جاتی ہے۔ کیونکہ ہر سچ بول دینا حکمت نہیں ہوتا، اور ہر حقیقت کو مشتہر کر دینا دیانت نہیں ہوتی۔تاریخ نے ہمیشہ ان معاشروں کو عزت دی ہے جنہوں نے اپنے کمزور لوگوں کی عزت بچائی اور تاریخ نے ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کیا جنہوں نے اپنے ہی زخموں کی نمائش کو فن سمجھ لیا۔مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس ڈھلوان سے واپس لوٹ سکیں گے یا نہیں، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس دن ہمارے قلم کو کسی مظلوم کی آبرو سے زیادہ اپنی شہرت عزیز ہو جائے، اس دن سانحہ کسی ایک گھر میں نہیں، پوری تہذیب میں جنم لے چکا ہوتا ہے۔ اور ایسے سانحے صدیوں تک قوموں کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں