کیا مغرب عربی ثقافت سے متاثر خطہ ہے ؟
میں البرٹ میمی کی کتاب The Colonised and Colonized کا وقار فیاض کا کیا ہوا اردو ترجمہ استعمار اور محکوم پڑھ رہا تھا کہ اس میں ایک جملے پر میں رک گیا کہ’’ بنیادی طور پر مغرب عربی ثقافت ‘‘
میں البرٹ میمی کی کتاب The Colonised and Colonized کا وقار فیاض کا کیا ہوا اردو ترجمہ استعمار اور محکوم پڑھ رہا تھا کہ اس میں ایک جملے پر میں رک گیا کہ’’ بنیادی طور پر مغرب عربی ثقافت ‘‘
یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ جب بھی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو میدانِ جنگ صرف ان کے درمیان محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی شعلے ارد گرد کے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں ضرور لیتے ہیں
نئے برس کا بجٹ آجانے کے بعد آمدنی اور اخراجات کے تازہ اعداد و شمار کے بعد ،فوراً آئی ایم ایف کے قرضے کا بوجھ ، ریاست کی حالت زار کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے
بعض اوقات کسی قوم کا زوال اس کی شکست خوردہ معیشت سے نہیں، اس کے زخمی ضمیر سے پہچانا جاتا ہے۔ ریاستیں غربت سے بھی نکل آتی ہیں،وحشیاناک جنگوں کے ملبے سے نکل کر دوبارہ آباد ہو جاتی ہیں، لیکن
ہر عہدکی تاریخ کاایک ایساباب ضرور ہوتا ہےجسے مرخ قلم کو اپنے لہو میں ڈبو،کے لکھتاہے، آہوں سے رقم کرتا ہے۔ اس باب کے اوراق پر تاریخ کی روشنائی نہیں، انسان کے خوابوں کا لہو بکھرا ہوتا ہے۔ سلطنتیں جب
کچھ لوگ اپنے عہد میں محض ادیب نہیں ہوتے، وہ ایک تہذیبی رویہ، ایک اخلاقی روایت اور ایک زندہ احساس کا نام ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی محفل کو روشن کرتی ہے، ان کی گفتگو دلوں میں روشنی اتارتی ہے،
کسی بھی مہذب معاشرے میں جرم، جرم ہوتا ہے۔ جر کی کوئی سیاسی جماعت ہوتی ہے، نہ کوئی نظریاتی شناخت، اور نہ ہی کوئی انتخابی منشور۔ لیکن جب ایک معاشرہ اس مقام پر پہنچ جائے جہاں ہر جرم کو سیاسی
کالام کے ایک ریسٹورنٹ کے ٹیرس پر بیٹھا ہوں۔ سامنے دریائے سوات اپنے پورے جلال کے ساتھ چٹانوں سے ٹکراتا ہوا یوں گزر رہا ہے جیسے صدیوں کی کوئی بے قرار داستان اپنے تمام راز پانی کے سپرد کر رہی
دانشور ،صحافی اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی تصنیفThe Zardari Presidency صدر آصف علی زرداری کے دورِ صدارت (2008-2013) کے اندرونی احوال، سیاسی فیصلوں، آئینی اصلاحات، ریاستی چیلنجز اور جمہوری ارتقاء کو قریب سے بیان کرتی ہے۔ مصنف اس
پانی فقط ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب و معاشرت ، معیشت، زراعت اور کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔ دریا جہاں تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں، وہیں ان کے پانی پر تنازعات ریاستوں