کسی بھی مہذب معاشرے میں جرم، جرم ہوتا ہے۔ جر کی کوئی سیاسی جماعت ہوتی ہے، نہ کوئی نظریاتی شناخت، اور نہ ہی کوئی انتخابی منشور۔ لیکن جب ایک معاشرہ اس مقام پر پہنچ جائے جہاں ہر جرم کو سیاسی چشمے سے دیکھا جانے لگے، ہر سانحہ اقتدار اور اپوزیشن کی جنگ کا ایندھن بن جائے اور ہر متاثرہ فرد محض ایک بیانئے کا حصہ بن کر رہ جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ پورے سماجی،تہذیبی اور اخلاقی نظام کا ہے۔حالیہ دنوں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے بعض واقعات نے ملک بھر میں تشویش کی شدید پیدا کی۔ ان واقعات کی حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ عدالتوں اور تفتیشی اداروں نے کرنا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی ان معاملات کو سیاسی ہتھیار بنا کر پیش کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ ایک فریق نے انہیں حکومت کی مکمل ناکامی قرار دیا، تو دوسرے نے انہیں ملک کو بدنام کرنے کی سازش کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی۔ اس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کو پہنچا اور یہ تاثرپوریشدت کے ساتھ ابھرا کہ انصاف بے بس اور بے کس ہے ۔یہ رویہ ہمارے اجتماعی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے ہر سانحے کو اپنے سیاسی مفاد کی عینک سے دیکھنا مستقل رویہ بنا لیا ہے۔ اگر متاثرہ شخص ہمارے سیاسی نظرئیے کے قریب ہو تو اس کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور اگر مخالف بیانئے سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے کردار، نیت یا دعوے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔کسی بھی ملک کا عدالتی نظام عوام کے اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ہر مقدمہ عدالت کے بجائے ٹیلی ویژن اسکرینوں، سوشل میڈیا اور سیاسی جلسوں میں طے ہونے لگے تو عدالتیں کمزور نہیں بلکہ پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے۔
انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہئے۔ جب ہر فیصلہ سیاسی عینک سے دیکھا جائے تو عدالتوں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کا نظامِ انصاف برسوں سے بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ مقدمات کے فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر، ناقص تفتیش، فرانزک سہولیات کی کمی، گواہوں کا عدم تحفظ اور طاقتور و کمزور کے لئے مختلف عملی روئیے ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کمزوریوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقدمہ لازما ًکسی سازش کا نتیجہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر شہری کو بروقت اور منصفانہ انصاف مل سکے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہماری سیاست نے اداروں کی اصلاح کے بجائے اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنے کو ایک حکمتِ عملی بنا لیا ہے۔ جب بھی کوئی مقدمہ سیاسی مفادات سے ٹکراتا ہے، عدالتوں، پولیس، پراسیکیوشن اور دیگر اداروں پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ اس عمل سے وقتی سیاسی فائدہ تو شاید حاصل ہو جائے، لیکن طویل مدت میں اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے مقدمات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، خصوصاً جب متاثرہ افراد غیر ملکی ہوں۔ دنیا کسی ایک مقدمے سے پورے ملک کا انصاف نہیں جانچتی، بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ ریاست نے شکایت پر کیا ردِعمل دیا، تفتیش کتنی شفاف تھی، متاثرہ افراد کے حقوق کا کس حد تک تحفظ کیا گیا، اور عدالتی عمل کتنا غیر جانبدار تھا۔ یہی چیز کسی بھی ملک کی ساکھ کا اصل پیمانہ بنتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں سنسنی خیزی نے صحافت کے ایک حصے کو بھی متاثر کیا ہے۔ خبر کی تصدیق سے پہلے تجزئیے، تفتیش سے پہلے فیصلے اور عدالت سے پہلے سزائیں سنانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر چند منٹوں میں ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور جذبات سامنے آ جاتے ہیں۔ اس شور میں نہ متاثرہ فرد محفوظ رہتا ہے اور نہ ہی انصاف کا تقاضا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ہر مقدمے میں تین بنیادی اصولوں کو مقدم رکھا جائے: متاثرہ فرد کے وقار کا احترام، ملزم کے قانونی حقوق کا تحفظ، اور آزاد و شفاف عدالتی کارروائی۔ یہی اصول انصاف کی بنیاد ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی نظرانداز کیا جائے تو انصاف کا توازن بگڑ جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہم کب تک ہر قومی مسائل کو سیاسی جنگ کا میدان بناتے رہیں گے؟ معیشت ہو، تعلیم ہو، صحت ہو، دہشت گردی ہو یا جرائم، ہر موضوع کو سیاسی وفاداری کی کسوٹی پر پرکھنے کا رجحان ہمارے اجتماعی شعور کو کمزور کر رہا ہے۔ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب قومی مفادات کو جماعتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اداروں کی ساکھ نعروں سے نہیں بلکہ اصلاحات سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر پولیس کو جدید تفتیشی وسائل، پراسیکیوشن کو پیشہ ورانہ آزادی، عدالتوں کو ضروری وسائل اور گواہوں کو مثر تحفظ فراہم کیا جائے تو نہ صرف انصاف بہتر ہوگا بلکہ سیاسی قیاس آرائیاں بھی کم ہوں گی۔آج پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ انصاف پر اعتماد کی بحالی ہے۔ یہ اعتماد صرف حکومت یا عدالتیں اکیلے بحال نہیں کر سکتیں بلکہ سیاست دانوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہریوں سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ہر الزام کو عدالت کے سپرد کرنا، ہر مقدمے کو قانون کے مطابق چلنے دینا اور ہر فیصلے کو ثبوت کی بنیاد پر پرکھنا ہی ایک مہذب جادہ ریاست ہوتا ہے۔اگر ہم نے ہر جرم کو سیاسی تماشہ بنانے کی روش ترک نہ کی تو نقصان کسی ایک حکومت یا جماعت کا نہیں ہوگا بلکہ پورے سماج کا ہوگا۔ ریاستیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے شہری انصاف سے پہلے سیاست پر یقین کرنے لگیں۔ انصاف کی کرسی پر سیاست کو بٹھا دینا کسی بھی قوم کے لئے خطرناک علامت ہے۔ملک کو آج ایسے بیانئے کی ضرورت ہے جو سیاسی فائدے کے بجائے آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی کو مقدم رکھے۔ اگر کسی واقعے میں جرم ثابت ہوتا ہے تو مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے، اور اگر الزام ثابت نہیں ہوتا تو بے گناہ کو قانون کے مطابق انصاف ملنا چاہیے۔ یہی اصول ایک مہذب، باوقار اور آئینی ریاست کی بنیاد ہے ۔ اس کے علاوہ ہر راستہ ہمیں مزید تقسیم، بداعتمادی اور انتشار کی طرف لے جاتا ہے۔