تاریخ میں بعض شخصیات اپنی عمر سے نہیں بلکہ اپنے اثرات سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ چند برس زندہ رہتی ہیں مگر کئی نسلوں کے شعور پر حکمرانی کرتی ہیں۔ برہان مظفر وانی بھی انہی کرداروں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی مختصر زندگی میں ایک ایسی شناخت قائم کی جو ایک دہائی گزرنے کے باوجود نہ صرف زندہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔آج برہان وانی کی شہادت کو دس برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک بیس بائیس سالہ نوجوان نے ایسی کون سی بات کی تھی جس نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کو اس قدر پریشان کر دیا تھا؟ آخر کیوں ان کی شہادت کے بعد پوری وادی احتجاج کی لپیٹ میں آگئی؟ کیوں لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے؟ اور کیوں ایک دہائی گزرنے کے باوجود ان کا نام کشمیر کی نئی نسل کے حافظے سے محو نہیں ہو سکا؟اس کی وجہ محض ایک فرد کی مقبولیت نہیں تھی بلکہ وہ ایک کیفیت، ایک احساس اور ایک اجتماعی نفسیات کے ترجمان بن چکے تھے۔ برہان وانی اس نسل کی آواز تھے جس نے اپنی آنکھیں فوجی ناکوں، تلاشیوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور خوف کے ماحول میں کھولیں۔ ان کا بچپن اور لڑکپن ایک ایسے ماحول میں گزرا جہاں بندوق، بکتر بند گاڑیاں اور محاصرے روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل کا ردعمل بھی روایتی نہیں ہو سکتا تھا۔برہان وانی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے دور کی زبان کو سمجھا۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اکیسویں صدی میں صرف میدان اور مورچے ہی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ اطلاعات، بیانیہ اور ابلاغ بھی اپنی جگہ ایک طاقت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو اپنی بات پہنچانے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ ایک نئی حکمت عملی تھی جس نے کشمیر کے مسئلے کو ایک نئی نسل کے سامنے ایک نئے انداز میں پیش کیا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برہان وانی نے کشمیر کی مزاحمتی سیاست کو ڈیجیٹل دور میں داخل کیا۔
ان سے پہلے تصاویر اور ویڈیوز شاذ و نادر ہی سامنے آتی تھیں، مگر برہان نے ایک بند دنیا کو عالمی منظرنامے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کی تصاویر، ویڈیوز اور پیغامات نہ صرف وادی میں بلکہ دنیا بھر میں کشمیری نوجوانوں تک پہنچنے لگے۔ اس تبدیلی نے روایتی بیانیوں کو بھی متاثر کیا اور نئی بحثوں کو جنم دیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی طاقت صرف اس کے کارکنوں یا قیادت سے نہیں بلکہ اس عوامی تائید سے پیدا ہوتی ہے جو اسے حاصل ہوتی ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سامنے آنے والے عوامی ردعمل نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک سیکورٹی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور انسانی مسئلہ بھی ہے، جسے صرف طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ دس برسوں کے دوران کشمیر میں بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔ سیاسی ڈھانچہ بدلا، آئینی حیثیت تبدیل ہوئی، نئے قوانین متعارف ہوئے، ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور سیکورٹی اقدامات میں اضافہ کیا گیا، مگر اس سب کے باوجود یہ سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا طاقت کے استعمال سے کسی سیاسی مسئلے کا مستقل حل ممکن ہے؟دنیا کی تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ الجزائر سے لے کر شمالی آئرلینڈ اور مشرقی تیمور تک، سیاسی تنازعات کا پائیدار حل بالآخر سیاسی عمل، مذاکرات اور عوامی خواہشات کو تسلیم کرنے کے ذریعے ہی سامنے آیا۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے لیکن دلوں اور ذہنوں پر حکومت نہیں کر سکتی۔کشمیر کے مسئلے کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ خطہ صرف جغرافیہ کا نام نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی امیدوں، خوابوں اور احساسات کا مجموعہ ہے۔ جب تک ان احساسات کو سمجھنے اور سننے کی کوشش نہیں کی جائے گی، اس وقت تک پائیدار امن کا حصول مشکل رہے گا۔برہان وانی کی شخصیت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقہ کار پر مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک نسل پر گہرے اثرات مرتب کیے اور وہ ایک سیاسی اور سماجی علامت کی حیثیت اختیار کر گئے۔ تاریخ میں ایسی شخصیات اکثر جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں مگر ان کے گرد بننے والی علامتیں اور تصورات طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں ۔ آج ان کی دسویں برسی کے موقع پر شاید سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا جنوبی ایشیا ایک اور دہائی بھی اسی کشیدگی، عدم اعتماد اور تصادم کے ماحول میں گزارنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ یا پھر وقت آ گیا ہے کہ مسئلے کے تمام فریق طاقت کے بجائے سیاسی بصیرت، حقیقت پسندی اور مذاکرات کے راستے کو اختیار کریں۔خطے کا مستقبل امن، استحکام اور اقتصادی تعاون سے وابستہ ہے، جبکہ مسلسل کشیدگی کا نقصان بالآخر عام لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
کشمیر کے نوجوان بھی اسی طرح امن، تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں جیسے دنیا کے کسی اور خطے کے نوجوان ہوتے ہیں۔برہان وانی کی زندگی اور موت سے قطع نظر، ان کا نام ایک حقیقت کی یاد دہانی کراتا رہے گا کہ جب تک کشمیر کی آزادی کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل نہیں کیا جائے گا ، برہان وانی جیسے کردار منظر عام پر آتے رہیں گے اور نئی نسلوں کے شعور اور شناخت کا حصہ بنتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیات ختم ہو جاتی ہیں مگر ان سے جڑے سوالات باقی رہتے ہیں، اور تاریخ بالآخر انہی سوالات کے جوابات تلاش کرتی ہے۔شاید اسی لیے برہان وانی ایک فرد سے بڑھ کر ایک علامت بن چکے ہیں۔ علامتیں دفن نہیں ہوتیں، وہ اپنے عہد کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں، بحث کا موضوع بنتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے حافظے میں اپنی جگہ برقرار رکھتی ہیں۔