Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

کس منہ سے آئے ہو؟

تہران میں سابق ایرانی رہبراعلیٰ کی آخری رسومات میں انڈیاکی جانب سے نچلی سطح کاوفدبھیجنے کے کیامعنی ہیں؟تہران کی فضاان دنوں ایک عجب کیفیت سے دوچارہے گویاوقت اپنی رفتارسست کرکے ایک عہد کے اختتام پرماتم کناں ہو۔تہران کی سرزمین اس وقت ایک ایسے لمحہ تاریخ سے گزررہی ہے جس میں آنسوبھی خاموش ہیں اورصدائیں بھی بوجھل۔ تہران کی فضامیں بچھاہواسوگ محض ایک رہنماکی رحلت کا نہیں، بلکہ عالمی ضمیرکی آزمائش کامنظرنامہ ہے۔ ایران کے سابق رہبر ِاعلیٰ آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی آخری رسومات نہ صرف ایک قومی سانحہ ہیں بلکہ ایک تہذیبی اورسیاسی عہد کی علامتی تدفین بھی۔ایسے میں ہندوستان کی جانب سے نچلی سطح کے وفد کی روانگی محض ایک سفارتی اقدام نہیں بلکہ ایک معنی خیزاشارہ ہے ایسا اشارہ جس کی بازگشت بین الاقوامی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔
اے اہلِ نظر!ذراٹھہرواورتہران کی اس فضا کومحسوس کروجہاں تاریخ آنسوؤں میں بھیگ رہی ہے اورامت کی نبض ایک عظیم رہبر کے فراق میں دھڑک رہی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں کرداروں کی پہچان ہوتی ہے،جہاں دوستی اورمنافقت کے پردے چاک ہوتے ہیں!اور ایسے میں ہندوستان کانچلی سطح کاوفد؟یہ تعزیت نہیں،یہ سردمہری کااعلان ہے!یہ وہ لمحہ ہے جہاں خاموشی بھی بولتی ہیاورآج یہ خاموشی چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ وفاداریاں بدل چکی ہیں۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رحلت محض ایک شخصیت کارخصت ہونانہیں بلکہ ایک فکری عہد،ایک نظریاتی قلعہ اورایک روحانی مرکزکاڈھل جاناہے۔ ایسے موقع پرکسی بھی ریاست کاردعمل محض رسمی نہیں ہوتابلکہ اس کے باطن میں اس کی سفارتی ترجیحات، اخلاقی قدریں اورنظریاتی وابستگیاں عیاں ہوتی ہیں۔ایسے موقع پر ہندوستان کانچلی سطح کاوفدبھیجناکسی سفارتی نزاکت کا نہیں بلکہ ایک شعوری سردمہری کااظہارہے۔گویاایک خاموش جملہ ہے ،ایساجملہ جس میں لفظ کم اورمعنی زیادہ ہیں۔یہ اقدام بظاہرتعزیت ہے مگر درحقیقت فاصلے کا اظہار بھی۔یہ اقدام تعزیت کے پردے میں چھپی ہوئی سیاسی بے حسی ہے گویاایک عظیم سانحے کومحض ایک رسمی فائل نوٹ میں سمیٹ دیاگیا ہو۔سوال یہ نہیں کہ وفدآیا،بلکہ سوال یہ ہے کہ کون نہیں آیااورکیوں نہیں آیا۔
یہ سات دن،اے سامعین!صرف سوگ کے نہیں بلکہ عالمی ضمیرکے امتحان کے دن ہیں یہ امت کے شعورکی کسوٹی ہیں!دنیاکے حکمران سرجھکائے کھڑے ہیں۔دنیابھرسے سربراہان کااجتماع ایک طرح سے اس حقیقت کااعتراف ہے کہ رہبرِاعلیٰ ایک عالمی روحانی وسیاسی علامت تھے مگرکچھ ایسے بھی ہیں جواپنی نگاہیں چرارہے ہیں۔ایران میں سات روزہ سوگ کی یہ تقریبات جہاں عالمی قیادت کے اجتماع کامنظرپیش کریں گی،وہیں ہندوستانی وزارتِ خارجہ کایہ اعلان کہ بہارکے گورنرسید عطاحسنین اوروزیر مملکت برائے امور خارجہ پبِترامارگریٹاشرکت کریں گے،ایک جانبدار سفار تی توازن کی عکاسی کرتاہے۔
بظاہریہ اقدام تہذیبی روابط کی پاسداری ہے،مگراس کے پسِ پردہ سیاسی مصلحتوں کاایک پیچیدہ جال بھی محسوس ہوتاہے۔ہندوستان کا وفد آیا ضرور ہے، مگراس کی قامت چھوٹی ہے ، اس کاپیغام مدھم ہے! کیایہ وہی ملک ہے جوتہذیبوں کاامین کہلاتاتھا؟یااب یہ مفادات کااسیر ہوچکاہے؟ دنیابھرکے رہنماجب تہران کا رخ کررہے ہیں،تومودی کامحدود نمائندہ وفدایک کھلا تضادبن کرابھرتاہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے ’’تہذیبی روابط‘‘کی دہائی دینادراصل ایک سفارتی پردہ داری ہے،جس کے پیچھے مفادات ومنافقت کی بے نقاب سیاست کھڑی ہے۔
ہندوستانی وفدکی شرکت کواگر تہذیبی روابط کا تسلسل کہاجائے توبھی اس میں ایک احتیاط کا پہلو نمایاں ہے گویاتعلق باقی بھی رکھا جائے اورفاصلے بھی برقرار رہیں۔ اسلامی تناظرمیں تعزیت محض رسم نہیں بلکہ اخوتِ ایمانی کاتقاضاہے،اوریہی وہ میزان ہے جس پر ایسے اقدامات تولے جاتے ہیں۔اسلامی دنیااس رویے کومحض رسمی شرکت نہیں بلکہ تعلقات کی درجہ بندی کے طورپردیکھ رہی ہے اوریہ درجہ بندی ہندوستان کیلئے کوئی اعزازنہیں بلکہ باعثِ ندامت تصورکی جارہی ہے جس کی مکمل ذمہ دارمودی کی پالیسیاں ہیں۔
اگردعوت تھی اورتم نہ آئے تویہ انکارہے! اور اگر دعوت نہ تھی تویہ تمہاری تنہائی کااعلان ہے!اے اہلِ اقتدار!تاریخ تم سے سوال کرے گی کہ تم کہاں تھے جب ایک عظیم روح کو سپردِ خاک کیاجارہاتھا؟ تمہاری کرسی نے تمہیں روک لیایاتمہاری ترجیحات نے تمہیں بے حس بنادیا؟دونوں صورتوں میں نتیجہ ہندوستان کے حق میں نہیں جاتا۔دعوت کاہونایانہ ہونااپنی جگہ،مگرعدم شرکت خودایک سیاسی بیان ہے۔مودی کانہ جانا اور نمائندہ وفدکابھیجنااس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ نئی دہلی نیاپنے سفارتی وزن کواس موقع پرمکمل طورپراستعمال نہیں کیا
تاہم مودی کی عدم شرکت اوراس کے بجائے ایک نمائندہ وفدکی روانگی،سفارتی لغت میں ایک نرم انکارکے مترادف سمجھی جارہی ہے۔وزیراعظم کانہ جانا دراصل ایک سیاسی فیصلہ ہے ،ایسافیصلہ جوعالمی منظر نامے پر یہ پیغام دیتاہے کہ نئی دہلی نے تہران سے فاصلہ اختیارکرلیاہے۔اپوزیشن کی شرکت اس خلاکوپرنہیں کرتی،بلکہ اسے مزیدنمایاں کرتی ہے۔ کانگریس قیادت، بشمول ملکارجن کھرگے اورسلمان خورشید،کی ممکنہ شرکت اس موقع کومزیدسیاسی رنگ دے رہی ہے گویاداخلی سیاست اورخارجی سفارت ایک ہی صفحے پررقم ہو رہے ہوں۔کانگریسی قیادت کی ممکنہ شرکت داخلی سیاست کے اس پہلوکواجاگر کرتی ہے،جہاں قومی بیانیہ ایک نہیں رہتابلکہ کئی آوازوں میں بٹ جاتاہے۔
یہاں تصویرمکمل طورپرواضح ہوجاتی ہے۔ ہندوستان نے عملًااپنے آپ کواس محورمیں کھڑاکرلیا ہے جہاں طاقت،اصولوں پرغالب آجاتی ہے۔ ایران پرحملوں کے وقت خاموشی اختیارکرنامحض سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ جب ظلم کے مقابل خاموشی اختیارکی جائے تووہ خاموشی خودظلم کاحصہ بن جاتی ہے۔حالیہ عالمی تناظر میں، خصوصا ًایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستان کاجھکامغربی بلاک کی جانب واضح دکھائی دیتاہے اوراس کے ایران سے تعلقات کوکمزور کرتا دکھائی دیتاہے۔اسلامی دنیامیں یہ تاثرگہراہورہاہے کہ طاقت کے سامنے اصول پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں