کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتوں یا جدید شاہراہوں میں نہیں بلکہ اس کے انسانی سرمائے میں پوشیدہ ہوتا ہے اور انسانی سرمائے میں بھی نوجوان سب سے قیمتی اثاثہ تصور کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت، تحقیق، ہنر مندی اور قیادت سازی کو قومی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، جس کے نتیجے میں انہوں نے معاشی استحکام، صنعتی ترقی، سائنسی برتری اور عالمی وقار حاصل کیا۔ پاکستان بھی ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر جدید تعلیم، عملی مہارت، مثبت سوچ، اخلاقی اقدار اور قومی جذبے سے آراستہ ہوں تو پاکستان کے لیے یہ آبادی ایک عظیم نعمت اور ترقی کی ضمانت ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر انہیں معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع میسر نہ آئیں تو یہی صلاحیت ایک سنگین سماجی اور معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لئے آج کے دور میں نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا کافی نہیں بلکہ انہیں ایسا ہنر دینا ناگزیر ہے جو انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے، ملکی معیشت میں حصہ ڈالنے، عالمی منڈی میں مسابقت کرنے اور خود روزگار پیدا کرنے کے قابل بنا سکے۔ اکیسویں صدی علم، ٹیکنالوجی، اختراع اور مہارت کی صدی ہے جہاں کامیابی کا معیار صرف اسناد نہیں بلکہ عملی صلاحیت، مسلسل سیکھنے کا جذبہ، تخلیقی سوچ، ڈیجیٹل مہارت، کاروباری ذہن اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسکل ڈویلپمنٹ کو معاشی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان جامعات اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کو مناسب روزگار میسر نہیں آتا کیونکہ تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ صنعتوں کو ایک قسم کی مہارت درکار ہوتی ہے جبکہ تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ اکثر عملی تجربے سے محروم ہوتے ہیں۔ یہی عدم مطابقت بے روزگاری، مایوسی اور صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے نوجوانوں کو قومی ترقی کا محور بنانے کے لیے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے متعدد اقدامات کیے ہیں جن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو تعلیم، مہارت، روزگار، کاروبار، کھیل، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، قیادت اور اختراع کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے اور اگر ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت دی جائے تو وہ ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لئے آسان شرائط پر کاروباری قرضے، اعلیٰ تعلیم کے مواقع، لیپ ٹاپ اسکیم، انٹرن شپ پروگرام، ڈیجیٹل اسکلز، کھیلوں کے فروغ، کیریئر کونسلنگ اور مختلف تربیتی منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی نہ رہیں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والے اور دوسروں کو روزگار فراہم کرنے والے بن سکیں۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، کلاڈ کمپیوٹنگ، فری لانسنگ اور گرین ٹیکنالوجی جیسے شعبے دنیا کی معیشت کا رخ متعین کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور اگر انہیں عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے فری لانسرز پہلے ہی دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار کئے جاتے ہیں اور لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں، مگر یہ کامیابی اس وقت مزید بڑھے گی جب جدید مہارتوں کی تربیت کو قومی سطح پر فروغ دیا جائے، جامعات اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وان لیس للِا ِنسانِ اِلا ما سعی‘‘ یعنی انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہی آیت نوجوانوں کے لئے محنت، جدوجہد اور مسلسل سیکھنے کا واضح پیغام دیتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہوئے انہیں بلند پروازی، خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد کا درس دیا۔ ان کے نزدیک نوجوان صرف مستقبل کے وارث نہیں بلکہ حال کے معمار بھی ہیں، بشرطیکہ ان کے اندر علم، کردار اور عمل کی قوت موجود ہو۔ یہی وہ فکر ہے جسے آج کی قومی پالیسیوں میں عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے مختلف اقدامات اسی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو آسان شرائط پر کاروباری قرضوں کی فراہمی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے منسلک کرنا، لیپ ٹاپ اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام، انٹرن شپ کے مواقع، کھیلوں کے فروغ، نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی اور باصلاحیت طلبہ کے لئے سہولیات ایسے اقدامات ہیں جو اگر موثر انداز میں جاری رہیں تو پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی معیار کا انسانی سرمایہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی پروگرام کی کامیابی صرف پالیسی بنانے سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے شفاف نفاذ، مساوی رسائی، مسلسل نگرانی اور میرٹ پر عمل درآمد سے وابستہ ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں، لڑکوں اور لڑکیوں اور تمام صوبوں کے نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ قومی ترقی کا سفر متوازن انداز میں آگے بڑھ سکے۔ خواتین نوجوانوں کی ہنر مندی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ معاشی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ نہ کیا جائے۔ آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، دستکاری، ای کامرس، صحت، تعلیم، زرعی ویلیو چین اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار خواتین کے لئے بے شمار امکانات رکھتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب تربیت، مالی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ قومی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے زرعی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، سولر انرجی، واٹر مینجمنٹ اور چھوٹے کاروبار کی تربیت دی جائے تو دیہی معیشت میں نئی روح پھونکی جا سکتی ہے۔
آج کا نوجوان صرف سرکاری ملازمت کا امیدوار نہیں بلکہ ایک موجد، محقق، صنعت کار، فری لانسر، زرعی ماہر، ڈیجیٹل پروفیشنل اور عالمی شہری بھی بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے درست سمت، معیاری تربیت اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہنر کو ڈگری پر فوقیت نہیں بلکہ اس کا اہم ساتھی سمجھا جائے، تعلیمی نظام کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، ہر ضلع میں جدید اسکل سینٹر قائم کیے جائیں، صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط شراکت داری پیدا کی جائے، نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، گرین اکانومی، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے اور پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کو محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ قومی تعمیر و ترقی کی مستقل حکمت عملی بنایا جائے۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اپنی نوجوان قوت کو حقیقی قومی طاقت میں تبدیل کر کے ترقی، خوشحالی، خود انحصاری اور عالمی وقار کی نئی تاریخ رقم کرے گا۔