Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

بھارتی جمہوریت کامکروہ چہرہ

بھارت برسوں سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا آیا ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مسلسل متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ آزاد اور غیر جانبدار اداروں، شفاف انتخابی عمل، شہری آزادیوں، آئینی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جب ریاستی ادارے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں، ووٹروں کی فہرستیں متنازع بن جائیں، مخالف آوازوں کو کمزور کیا جائے اور نسلی و مذہبی تشدد معمول بن جائے تو پھر جمہوریت صرف ایک نعرہ رہ جاتی ہے، حقیقت نہیں۔
نریندر مودی حکومت پر آج سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو شکست دینے کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے بجائے انتخابی عمل ہی کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے نام پر شروع کی گئی مہم شدید تنقید کی زد میں ہے۔ معروف بین الاقوامی جریدہ “دی جاپان ٹائمز” واضح طور پر لکھ چکا ہے کہ مودی حکومت اقتدار کے تسلسل کے لیے عوام کی رائے پر نہیں بلکہ اپنی پسند کے ووٹرز کی تشکیل پر انحصار کر رہی ہے۔یہ کوئی معمولی الزام نہیں۔ اگر انتخابی فہرستوں میں کروڑوں افراد کے نام خارج کیے جا رہے ہوں تو سوال صرف انتخابی بے ضابطگی کا نہیں بلکہ آئین کے اس بنیادی حق کا ہے جو ہر شہری کو ووٹ دینے کی صورت میں حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک نو ریاستوں میں تقریباً ساڑھے چھ کروڑ ووٹرز انتخابی فہرستوں سے نکالے جا چکے ہیں جبکہ یہ تعداد دس کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ جدید بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی بحران ہے۔معروف سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اب ووٹروں کو بدلنے کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ ریاستی قوانین، سرکاری مشینری اور اداروں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی سیاسی ماہر جائلز ورنیئر بھی اسے بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی قرار دے چکے ہیں۔ جب آزاد مبصرین، سیاسی تجزیہ کار اور بین الاقوامی ذرائع ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہوں تو ان خدشات کو محض سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ووٹ کا حق ختم ہونے کے بعد بعض علاقوں میں شہری سرکاری سہولتوں سے بھی محروم ہونے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی شناخت اب شہری حقوق سے بھی جڑتی جا رہی ہے۔ اگر کسی شہری کو سیاسی بنیادوں پر انتخابی فہرست سے نکالا جائے اور اس کے بعد اس کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوں تو یہ جمہوری نہیں بلکہ آمرانہ طرز حکمرانی کی علامت بن جاتا ہے۔کانگریس کے سابق ترجمان سنجے جھا کا یہ کہنا بے بنیاد نہیں لگتا کہ الیکشن کمیشن، بیوروکریسی اور دیگر ریاستی ادارے اپنی غیر جانبداری کھو چکے ہیں۔ جمہوریت میں ادارے حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہوتے ہیں۔ جب ان پر سیاسی وفاداری کے الزامات لگنے لگیں تو عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب منی پور مسلسل جل رہا ہے۔ ایک سال نہیں بلکہ طویل عرصے سے یہ ریاست نسلی کشیدگی، قتل و غارت، آتش زنی اور نقل مکانی کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ دنوں ضلع کامجونگ میں دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا جہاں متعدد دیہات کو نشانہ بنایا گیا، گھروں کو آگ لگائی گئی اور مختلف قبائل ایک بار پھر خونریز تصادم میں الجھ گئے۔ کوکی برادری کے گاؤں فائمول کے پندرہ گھر مکمل طور پر جل گئے جبکہ ناگا برادری کی بستیاں بھی حملوں کی زد میں آئیں۔یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ آخر ریاستی مشینری کہاں ہے؟ اگر دو برس سے زائد عرصے میں بھی ایک ریاست میں امن قائم نہیں ہو سکا تو پھر حکومت کی کامیابی کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منی پور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری نقل مکانی اور مسلسل تشدد کو مودی حکومت کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔ پروفیسر اجائیلیو نیومائی کے مطابق موجودہ بحران نوے کی دہائی کی خانہ جنگی سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔یہ صورتحال صرف امن و امان کی ناکامی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ جب ریاست سیاسی نعروں اور انتخابی مہمات میں مصروف ہو جبکہ شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے ہوں تو حکومت کی ذمہ داری پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں بھی اسی تصویر کا حصہ ہیں۔ مغربی بنگال میں ہندوتوا بلوائیوں کی جانب سے ایک زیر تعمیر چرچ کو مسمار کرنا، صلیبوں کو توڑنا اور مذہبی نعرے لگانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی عدم برداشت اب انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہی۔ ایسے واقعات نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے؟
اسی دوران ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سیاست اب “ووٹ چوری، سیٹ چوری اور چندہ چوری” تک محدود ہو چکی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔بھارت آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی ایک مضبوط جمہوری ریاست بننا چاہتا ہے یا صرف جمہوریت کا دعویٰ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی اور انصاف کی غیر جانبدار فراہمی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب یہ ستون کمزور ہونے لگیں تو پھر سب سے بڑی جمہوریت بھی اپنے ہی دعووں کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں