اگر آپ نجی محفلوں، سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ہر طرف سیاسی موضوعات غالب دکھائی دیں گے۔ سیاست دانوں کے کرتوت اور کارناموں پر گرما گرم بحث ہوگی۔ ہر شخص اپنے سیاسی قبلے اور قائد کو درست اور مخالف کو غلط ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا نظر آئے گا۔ چند منٹ کی گفتگو ہی نہ صرف افراد کی سیاسی وابستگی آشکار کر دیتی ہے بلکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی فکری تقسیم بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی بحث سننے کو ملے جس میں ریاستی اداروں یا مقتدرہ کا ذکر نہ آئے۔ ملکی تاریخ اور حالیہ سیاسی حالات نے ریاست اور سیاست کو اس طرح ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے کہ اب ان کا تذکرہ اکثر ساتھ ہی ہوتا ہے۔ کوئی اس پر تنقید کرتا ہے، کوئی دفاع، جبکہ ایک بڑا طبقہ خاموشی سے حالات پر مطمئن یا مضطرب دکھائی دیتا ہے۔اگر اس صورت حال کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو اس کے اندر گراوٹ، خلیج، بے حسی اور ہجوم کی نفسیات کے خطرناک آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ سیاسی تعصب اور نفرت کی مسلسل برستی بارش معاشرے کو کمزور اور تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم اپنی ذاتی، سماجی اور قومی ذمہ داریوں سے بتدریج غافل ہوتے جا رہے ہیں۔سیاست کا جنون اس قدر ہمارے ذہنوں اور نفسیات پر حاوی ہو چکا ہے کہ گویا کسی اور موضوع کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ اس کا سب سے منفی اثر نئی نسل کی تربیت پر پڑا ہے۔ جن سماجی ذمہ داریوں، اخلاقی رویوں، مذہبی اقدار، باہمی احترام اور قومی ہم آہنگی کو ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے تھا، وہ سیاسی اختلافات کی طغیانی میں کہیں دب کر رہ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں نظم و ضبط، تہذیب، برداشت اور قومی یکجہتی کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے؟قانون کی سختی، ریاستی اختیار اور انتظامی اقدامات وقتی طور پر امن و استحکام کو یقینی بنا سکتے ہیں، لیکن معاشرے کے اندر موجود نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔ آگ پر پانی ڈالنے سے شعلے وقتی طور پر بجھ تو سکتے ہیں، مگر راکھ کے نیچے دبی چنگاری پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ معمولی سی اشتعال انگیزی یا سیاسی کشیدگی بھی اسے دوبارہ بھڑکا سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاسی، معاشرتی، معاشی، مذہبی اور اخلاقی مسائل کی جڑ تک پہنچیں، ان کی شدت کو سمجھیں اور ان کے ازالے کے لیے جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کریں۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بگڑتی ہوئی معاشرت کو درست کرنا صرف ریاست کی ذمہ داری ہے؟ کیا سماج کا کوئی کردار نہیں؟ ان سوالات کے جواب کے لیے پہلے ریاست اور سماج کے فرائض اور اختیارات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ہمیں یہ ادراک ہو جائے کہ ریاست کا دائرۂ کار کیا ہے اور سماج کی ذمہ داریاں کیا ہیں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو سکتی ہیں۔فرد، خاندان، محلہ، گاؤں، شہر اور پھر پورا ملک مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ جب ان تمام اکائیوں کو خاندانی، سماجی، مذہبی روایات اور ریاستی قوانین کی ڈوری میں پرو کر حقوق و فرائض کا پابند بنایا جاتا ہے تو ایک منظم قوم وجود میں آتی ہے۔ انہی اصولوں کی پابندی قوموں کو مہذب بناتی ہے، جبکہ ان سے غفلت ہجوم کو جنم دیتی ہے۔ افسوس کہ آج ہم اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ایک اچھی قوم کے لیے اچھے شہری ضروری ہیں، لیکن ایک اچھا شہری بننے سے پہلے ایک اچھا انسان بننا لازم ہے۔ میری دانست میں اچھا انسان بنانے کی ذمہ داری سماج کی ہے، جس میں والدین، خاندان اور معاشرہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ اچھا شہری بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، جو تعلیم، قانون کی عملداری اور قومی نظم و ضبط کے ذریعے انجام دی جاتی ہے۔ والدین اور خاندان بچے کی کردار سازی کرتے ہیں، جبکہ ریاست اور تعلیمی ادارے اس کی علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ اسے ذمہ دار شہری بنانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔افسوس کہ ہم نے اپنی بہت سی سماجی ذمہ داریاں بھی ریاست کے کھاتے میں ڈال دی ہیں۔ بچوں کی ابتدائی تربیت والدین کے بجائے آیا، اسکول اور موبائل فون کے حوالے کر دی گئی ہے۔ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور، جو کبھی خاندان کی پہچان تھے، اب محض نصابی سرگرمی بن کر رہ گئے ہیںایک وقت تھا جب بازاری دودھ پلانے پر اعتراض کیا جاتا تھا، مگر آج حالات اس سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ نومولود بچہ آنکھ کھولتے ہی موبائل اور ٹیبلٹ کی اسکرین کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔ ماں اپنی ممتا بھری گود میں بچے کو بہلانے کے بجائے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتی ہے۔ نتیجتاً بچہ والدین کی قربت، شفقت اور رہنمائی سے بتدریج محروم ہوتا جاتا ہے۔ وہ والدین کے ساتھ جذباتی تعلق استوار کرنے کے بجائے اسکرین کے ساتھ مانوس ہو جاتا ہے۔ یہی نسل آگے چل کر سوشل میڈیا کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہے، جہاں جھوٹی معلومات، نفرت انگیز مہمات اور سیاسی انتہا پسندی اسے آسانی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیںہمیں آنے والی نسلوں کو فطری ماحول، ماں کی گود، مضبوط خاندانی نظام اور مثبت معاشرتی اقدار واپس دینا ہوں گی۔ انہیں ملکی تاریخ، قومی عروج و زوال اور قومی کارناموں سے غیر جانبدارانہ انداز میں آگاہ کرنا ہوگا۔ اخلاق، برداشت، دیانت، احترام اور قومی ذمہ داری جیسے موضوعات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔اگر ہمیں ایک مضبوط، مہذب اور متحد قوم بننا ہے تو ریاست کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، مگر سماج کو بھی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قومیں صرف قوانین سے نہیں بنتیں، بلکہ کردار، تربیت، خاندانی اقدار اور اجتماعی شعور سے تشکیل پاتی ہیں۔ آئیں، سیاست سے آگے بڑھ کر اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور آنے والی نسلوں کی کردار سازی کے لیے قومی سطح پر ایک ایسی اجتماعی کوشش کا آغاز کریں جو ہمارے معاشرے کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور اخلاق کی طرف لے جائے۔