Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

جسٹس عزیز محمود ہدائی ،چیف جسٹس سے ولی کامل تک

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جن کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کو اپنی خاص قربت عطا کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس کے نفس کو دنیا کی عظمت، شہرت اور اقتدار سے آزاد کرتا ہے۔ حضرت عزیز محمود ہدائی (1541-1628) انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔ آپ سلطنتِ عثمانیہ کے ممتاز علماء، قاضی، فقیہ اور بعد میں اپنے زمانے کے عظیم اولیائے کرام میں شمار ہوئے۔ آپ نے برصہ (بورصہ)میں قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جہاں آپ عدل، دیانت اور علم کی وجہ سے نہایت بلند مقام رکھتے تھے۔حضرت عزیز محمود ہدائی کی روحانی زندگی کے آغاز سے متعلق ترک روایات میں ایک نہایت مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے، جس نے ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔
ایک شخص نے اپنی بیوی سے قسم کھائی کہ اگر وہ اس سال حج پر نہ گیا تو اس کی بیوی پر طلاق ہوگی۔ لیکن حالات ایسے پیدا ہوئے کہ حج کے قافلے روانہ ہونے میں صرف چند دن باقی رہ گئے اور اس کے لئے مکہ مکرمہ پہنچنا بظاہر ناممکن ہوگیا۔ وہ شدید پریشانی کے عالم میں حضرت شیخ محمد افتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مجبوری عرض کی۔روایت کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقرب بندے کی دعا اور روحانی عنایت سے اس شخص کو حج کی سعادت عطا فرمائی اور وہ حج ادا کرکے واپس آگیا۔جب اس کی بیوی نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ اس کے شوہر نے حج نہیں کیا، اس لیے طلاق واقع ہو چکی ہے، تو یہ مقدمہ حضرت قاضی عزیز محمود ہدائی کی عدالت میں پیش ہوا۔
حضرت ہدائی نے شوہر سے دریافت کیا:
کیا تم نے حج ادا کیا ہے؟
اس نے پورے یقین سے جواب دیا:
جی ہاں، میں حج کر آیا ہوں۔
یہ دعویٰ بظاہر حیران کن تھا۔ حضرت ہدائی نے واپس آنے والے حجاج کو طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے اس شخص کو مکہ مکرمہ میں دیکھا تھا۔ متعدد حجاج نے گواہی دی کہ انہوں نے واقعی اسے عرفات، مزدلفہ، منی، طواف اور دیگر مناسکِ حج کے دوران دیکھا تھا۔یہ گواہی سن کر حضرت عزیز محمود ہدائی حیرت میں ڈوب گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہاں کوئی ایسا روحانی راز ہے جو ان کے ظاہری علم اور عدالتی اختیار سے کہیں بلند ہے۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور حضرت شیخ محمد افتادہ کی روحانی نسبت کی برکت تھی۔حضرت عزیز محمود ہدائی فورا اپنے قاضیانہ لباس میں حضرت شیخ افتادہ کی خانقاہ پہنچے اور عرض کیا کہ مجھے بھی اپنے حلق ارادت میں شامل فرما لیجیے۔
روایت کے مطابق حضرت افتادہ نے فرمایا:
یہ درویشوں کی مجلس ہے۔ یہاں دنیاوی منصب اور ظاہری عظمت کی کوئی حیثیت نہیں۔حضرت ہدائی نے عاجزی سے دوبارہ درخواست کی۔
تب حضرت افتادہ نے فرمایا:
اگر واقعی اس راستے پر آنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے نفس کو توڑ کر آ۔انہوں نے حکم دیا کہ آپ اپنے اسی قاضیانہ لباس میں بازار جائیں، دونوں ہاتھوں میں جانور کا معدہ (اوجڑی)اٹھائیں اور بازار میں آواز لگا کر اسے فروخت کریں۔یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ایک ایسا شخص جس کے سامنے امرا، وزرا اور اہلِ اقتدار ادب سے کھڑے ہوتے تھے، آج اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عام لوگوں کے درمیان کھڑا تھا۔
بازار کے لوگ حیران رہ گئے۔ بہت سے لوگ کہنے لگے،قاضیِ اعظم شاید دیوانے ہوگئے ہیں،لیکن حقیقت میں ان کا نفس ٹوٹ رہا تھا، غرور ختم ہو رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ انہیں ولایت کے عظیم مقام کے لیے تیار کر رہا تھا۔جب وہ واپس حضرت افتادہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شیخ نے انہیں اپنے دستِ مبارک پر بیعت فرمایا۔ اسی دن حضرت عزیز محمود ہدائی نے اپنے عظیم سرکاری منصب سے استعفا دے دیا اور پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر، خدمتِ خلق اور تزکی نفس کے لیے وقف کر دی۔
چند ہی برسوں میں وہ اپنے زمانے کے عظیم ترین اولیائے کرام میں شمار ہونے لگے۔ بعد ازاں وہ استنبول کے علاقے اسکدار میں مقیم ہوئے، جہاں انہوں نے ہزاروں لوگوں کی روحانی تربیت کی۔ عثمانی سلاطین بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان سے روحانی رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ آج بھی ان کا مزار مبارک استنبول کے علاقے اسکدار میں موجود ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں زائرین حاضر ہوتے ہیں۔
مجھے حضرت عزیز محمود ہدائی کے بارے میں پہلے زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ایک مرتبہ میں استنبول میں بشکتاش کے ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ ایک ترک شخص، جس سے میری پہلے کوئی واقفیت نہ تھی، اچانک میرے پاس آیا اور کہا،آئیے، میں آپ کو ایک جگہ لے چلتا ہوں۔میں نے بلا توقف اس کی دعوت قبول کر لی،ہم باسفورس عبور کرکے اسکدار پہنچے اور ایک عظیم مزار پر حاضر ہوئے۔وہ حضرت عزیز محمود ہدائی کا مزار مبارک تھا۔وہاں دعا کرتے ہوئے میرے دل پر ایسا روحانی سکون اور باطنی اطمینان نازل ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
دعا کے بعد وہ ترک دوست خاموشی سے مجھے واپس میرے ہوٹل تک چھوڑ گیا۔ ہماری زیادہ گفتگو نہ ہو سکی، لیکن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس عظیم شخصیت کے بارے میں مزید تحقیق کروں۔بعد میں میں نے مختلف ترک تاریخی مراجع، سوانح اور روحانی روایات کا مطالعہ کیا۔ انہی تحقیقات کا خلاصہ اس مضمون میں پیش کیا گیا ہے تاکہ متلاشیانِ حق جان سکیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو اپنی قربت کے لیے منتخب فرماتا ہے تو پہلے اس کے نفس کو دنیا کی محبت سے آزاد کرتا ہے، پھر اسے ایسی عزت عطا کرتا ہے جو دنیا کے تمام عہدوں، مناصب اور شہرت سے کہیں بلند ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں