Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

نئے اتحاد۔۔۔۔پرانے خدشات

(گزشتہ سےپیوستہ)
اس کہانی کاایک دوسرارخ بھی ہے بھارت کے اندراس پالیسی پرتنقید کا،تشویش کااور سوالات کاسلسلہ جاری ہے۔بھارت کے اندر اور باہریہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اوراس تعلق پربحث جاری ہے۔ دانشوروں اورسابق سفارت کاروں کا ایک حلقہ اس بات پرتشویش کا اظہارکر رہاہے کہ یہ قربت بھارت کی روایتی غیر جانبداری کومتاثر کر رہی ہے۔کیایہ قربت فلسطینی مؤقف سے انحراف نہیں؟کیایہ دوستی اخلاقی اصولوں کی قیمت پرقائم نہیں؟ان کے نزدیک فلسطینی مؤقف سے دوری نہ صرف اخلاقی بلکہ سفارتی نقصان کاباعث بھی بن سکتی ہے اورایک ایسے خلاکو جنم دے رہی ہے جس سے مشرقِ وسطی میں بھارت بھی اسرائیل کی طرح نفرت کی نگاہوں کامرکزبن چکاہے اوراس کی ساکھ اب ایک ایسے منافق کے طورپرسامنے آرہی ہے جومنہ میں رام رام اوربغل میں چھری لئے ہوئے ہے۔
اپوزیشن کی آوازیں بھی اس معاملے پرخاموش نہیں رہیں۔انہوں نے حکومت کی پالیسی کوذاتی تعلقات کاشاخسانہ قراردیاہے،اوریہ سوال اٹھایاہے کہ کیاقومی مفادکوذاتی ہم آہنگی پرقربان کیاجارہاہے؟یہ سوالات ابھی فضامیں معلق اورجواب کے منتظرہیں اوروقت ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ کے نزدیک یہ ایک نئی جیو پولیٹیکل صف بندی ہے،جبکہ دیگراسے ایک خطرناک رجحان قراردیتے ہیں جوعالمی توازن کوایسامتاثرکر سکتا ہے جس کی بھاری قیمت بھارتی عوام کوادا کرنی پڑے گی۔اس وقت لاکھوں بھارتی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں روزگارکے سلسلے میں موجودہیں اورخدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں مودی کی ان منافقانہ پالیسیوں کا خمیازہ ان بھارتی شہریوں کوبھگتناپڑے گا۔
عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ایک خطرناک رجحان ہے جودنیاکو مزیدتقسیم کرسکتا ہے۔ اسرائیل کے لئے بھارت کی حمایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب وہ عالمی تنہائی کاسامناکررہاہے،اس لیے یہ تعلق اس کے لئے ایک سہارا بن گیاہے۔ثقافتی میدان میں بھی اس ہم آہنگی کے آثارنمایاں ہیں ۔ فلموں اور ڈراموں میں مشترکہ بیانیہ پیش کیاجارہا ہے،جس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہدکا تصورپیش کرکے ایک خاص زاویے سے دکھایا جاتا ہے۔ اس عوامی بیانیے میں ایک خاص نظریاتی رنگ جھلکتا ہے۔یہ بیانیہ عوامی ذہن سازی میں اہم کرداراداکر رہاہے۔یہ بیانیہ عوامی رائے کوتشکیل دینے میں اہم کردار اداکررہاہے۔
اقتصادی تعاون نے بھی اس رشتے کومزید گہرااورنئی جہت دی ہے۔بندرگاہوں،توانائی کے منصوبوں اورتجارتی معاہدوں میں اشتراک نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب ترکردیاہے۔یہ تعلق اب محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی مجبوری بھی بنتاجارہاہے اوریہ تعلق اب صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکاہے۔تاہم،اس تمام ترقربت کے باوجود ایک اہم سوال باقی ہے اورایک شدید خلابھی محسوس ہوتاہے وہ ہے اخلاقی توازن اورذمہ داری کا فقدان۔عالمی سطح پرانسانی حقوق کی پامالی پرخاموشی ایک ایساسوال ہے جوباربار سر اٹھاتاہے جسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔یہ خاموشی خود ایک پیغام رکھتی ہے۔کیامفادات کی سیاست میں اصول ہمیشہ پسِ پشت چلے جاتے ہیں؟
ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت کامحتاط رویہ بھی اسی تناظرمیں دیکھاجارہا ہے۔ایک ایساملک جودونوں فریقین سے اچھے تعلقات رکھتاتھا،اس بحران میں فعال کردارادا کرنے سے گریزاں رہااورکوئی نمایاں کردارادانہ کرسکا۔یہ خاموشی خودایک بیان بن گئی۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اصولوں پر نہیں بلکہ مفادات کے پیچیدہ جال پر استوارہے۔اس تمام منظرنامے میں یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اتحادیوں اور مخالفین کی تقسیم نہیں رہی بلکہ نظریاتی ہم آہنگی اور مفادات کے امتزاج کاایک پیچیدہ جال بن چکی ہے۔بھارت اور اسرائیل کاتعلق اسی جال کی ایک نمایاں مثال ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ تعلق وقت کی آزمائش پرپورااترے گا؟یابدلتے حالات اسے ایک نئی سمت میں لے جائیں گے؟تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کوئی بھی اتحاددائمی نہیں ہوتا،بلکہ حالات کے ساتھ اس کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔عالمی سیاست کی بساط پریہ شطرنج ابھی جاری ہے۔مودی اور نیتن یاہوکی دوستی وقتی فائدوں کی ضمانت توبن سکتی ہے، مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ دیر سے مگردوٹوک ہوتاہے۔ وقت کی عدالت میں نہ صرف پالیسیوں بلکہ نیتوں کابھی محاسبہ ہوتاہے۔
آخرمیں یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دونظریات کااتصال ہے، ایک ایسااتصال جودنیاکونہ صرف نئے سوالات اور نئے خدشات کی دہلیزپرلاکھڑاکرتا ہے بلکہ دنیاکی تباہی کی طرف بھی لیجا سکتاہے۔یہ کہنابجاہوگا کہ یہ داستان محض دو ممالک کی نہیں بلکہ ایک ایسے دورکی ہے جہاں اصول اورمفاد کے درمیان کشمکش جاری ہے۔یہی کشمکش آنے والے زمانوں کی سیاست کارخ متعین کرے گی،اورشاید یہی اس عہد کا سب سے بڑا سبق بھی ہے کہ پرامن دنیاکوبچانے کے لئے اس شیطانی الحاق کوجڑسے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
یہ داستان ابھی مکمل نہیں، بلکہ تاریخ کے قلم کو ان دو سیاہ کرداروں کے لئے مزید سیاہی درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں