(گزشتہ سے پیوستہ)
مغرب نے آزادیٔ رائے اور حکومت کی غلط پالیسی پر اسے ٹوکنے کو فرائض کے زمرہ سے نکال کر حقوق کے دائرہ میں شامل کر لیا۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ یہ ایک اختیاری امر بن گیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’حقوق‘‘ کے تصور نے اقتدار اور اپوزیشن کی صف بندی کر دی جس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔
یہ چند مثالیں یہ بات واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ مغرب نے ’’حقوق و فرائض‘‘ کو خلط ملط کر کے انسانی معاشرہ کی گاڑی کے دونوں پہیوں کا توازن بگاڑ دیا ہے جس کی وجہ سے گاڑی مسلسل لڑکھڑاتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے حقوق و فرائض میں توازن قائم کیا اور اس کا عملی نمونہ خلافت راشدہ کی صورت میں پیش کر کے دنیا کو دکھا دیا ۔
مغرب سے انسانی حقوق کے حوالہ سے دوسری بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ حقوق کے تعین کا معیار قائم کرنے میں اس کی نگاہ انسانی معاشرے کی وسیع تر ضروریات کا احاطہ نہ کر سکی۔ مغرب نے حق کے تعین میں معیار یہ پیش کیا کہ ہر شخص کو اپنی مرضی پر عمل کرنے کا حق ہے، جب تک کہ دوسرے شخص کی آزادی متاثر نہ ہو۔ اس طرح مغرب نے حق و ناحق اور جائز و ناجائز کے تعین میں شخصی مفادات و ضروریات میں ہم آہنگی یا ٹکراؤ کو بنیاد بنایا اور اس سے آگے نسل انسانی اور انسانی معاشرہ کی اجتماعی ضروریات و مفادات تک اس کی نگاہ نہ جا سکی جس کا خمیازہ مغرب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مثلاً: مرد و عورت کے اختلاط میں مغرب نے یہ تصور پیش کیا کہ جس درجہ کے اختلاط پر دونوں باہم رضامند ہوں، کسی تیسرے کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی قانون کو گرفت کرنی چاہیے۔ یہاں مغرب نے مرد اور عورت کی باہمی رضامندی تو دیکھ لی مگر پورے معاشرہ پر اس اختلاط کے اثرات کو نہ دیکھ سکا جس کے نتیجے میں کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فیملی سسٹم تباہی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ جبکہ جناب نبی اکرمؐ نے مرد و عورت کی اس باہمی رضامندی کو بھی جرم قرار دیا ہے جو معاشرے کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہو۔ اور مرد و عورت کے اختلاط اور میل جول کا ایک دائرہ قائم کر کے باقی ہر قسم کے میل جول سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ کسی بھی عمل کے جائز ہونے کے لیے صرف اس عمل کے دو فریقوں کا رضامند ہونا کافی نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے۔ اور یہی بنیاد ہے اس توازن کی جو رسول اکرمؐ نے مرد و عورت کے تعلقات کے حوالہ سے قائم فرمایا ہے۔
سود کے بارے میں مغرب نے کہا کہ جب سود لینے اور دینے والے آپس میں متفق ہیں تو کسی اور کو کیا اعتراض ہے؟ یہاں بھی مغرب نے دو افراد کی رضامندی کے محدود دائرہ کو بنیاد بنایا۔ جبکہ جناب رسالت مآبؐ نے معاشرہ پر مجموعی طور پر اس کے منفی اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ اور آج سودی معیشت نے جس طرح پوری دنیا کو چند مخصوص گروہوں کی معاشی اجارہ دارہ کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی صداقت اور جناب رسول اللہؐ کی خداداد فراست و بصیرت کی روشن اور کھلی شہادت ہے۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ہمیں آج کھلے دل و دماغ کے ساتھ انسانی حقوق کے مغربی تصور کا جائزہ لینا چاہیے اورا س کے وسیع تر پراپیگنڈہ سے مرعوب ہونے کی بجائے اس کے کھوکھلے پن کو تقابلی مطالعہ کے ساتھ سامنے لا کر اسلامی تعلیمات و احکام کو واضح کرنا چاہیے۔ تاکہ مشکلات و مصائب کے صحرا میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کی اسوۂ حسنہ کے شفاف اور خوش ذائقہ سرچشمۂ حیات کی طرف راہنمائی کی جا سکے۔
مغرب اور انسانی حقوق کے حوالہ سے گفتگو چلی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے فلسفہ کی فکری بنیادوں سے ہٹ کر اس کے واقعاتی پہلوؤں پر بھی کچھ معروضات پیش کر دی جائیں۔ بالخصوص اس تضاد اور دوعملی کے پس منظر میں جو مغرب نے عالم اسلام کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے۔ اور جس نے یہ بات پوری طرح واضح کر دی ہے کہ مغرب کے نزدیک ’’انسانی حقوق‘‘ کسی فلسفہ یا اصول کا نام نہیں بلکہ یہ محض ایک ہتھیار ہے جو اس نے مخالف اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اختیار کر رکھا ہے، ورنہ مغرب جو ووٹ، الیکشن اور بیلٹ باکس کے تقدس کا علمبردار ہے اور غیر جمہوری حکومتوں کا اپنے ساتھ برابر کی سطح پر بیٹھنا گوار انہیں کرتا، الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی انتخابی کامیابی پر آتش زیرپا کیوں ہے؟ اور اسلامک فرنٹ کی جمہوری قوت کو کچلنے کے لیے الجزائر کی غیر جمہوری حکومت کی پشت پناہی کیوں کر رہا ہے؟ اس مغرب کو وادیٔ کشمیر میں گھر گھر بہنے والا خون نظر نہیں آرہا اور نہ حوا کی بیٹیوں کی دل فگار چیخیں مغرب کے کانوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے ساتھ ہولی کھیلی جا رہی ہے مگر چونکہ مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ مغرب کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے اس لیے کشمیر کے حوالے سے مغرب کے کان اور آنکھیں بند ہیں، اور اس کے انسانی حقوق کے سارے کے سارے فلسفے مصلحتوں کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیر، بوسنیا، فلسطین اور اب چیچنیا کے خلاف روسی جارحیت کے حوالہ سے منافقانہ طرز عمل نے مغرب کے چہرے سے ’’انسانی حقوق‘‘ کا ریاکارانہ نقاب نوچ پھینکا ہے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا ہے جس کے بعد اس کے پیش کردہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا ظاہری بھرم بھی قائم رہتا نظر نہیں آرہا۔
چنانچہ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور دنیا کو منطق و استدلال کے ساتھ بتائیں کہ انسانی حقوق کا حقیقی فلسفہ اور متوازن نظام وہی ہے جو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور آج بھی انسانی معاشرہ کی فلاح و کامیابی اسی نظام کو اپنانے پر منحصر ہے۔