(گزشتہ سےپیوستہ)
اکتوبر2023ء کے واقعات نے اس تعلق کوایک نئی معنویت عطاکی۔جب خطہ ایک بارپھر جنگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط نمایاں تھی،مگربھارت کی جانب سے فوری حمایت نے اس بات کوواضح کردیاکہ یہ تعلق محض رسمی نہیں بلکہ گہرا اور دیرپاہے۔اس تعلق کی بنیادیں صرف جذباتی یانظریاتی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی گہری پیوست ہیں ۔ یہ تعلق محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اپنی جڑیں پھیلاچکا ہے۔ دفاعی تعاون،انٹیلی جنس شیئرنگ، خفیہ معلومات کاتبادلہ،جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اربوں ڈالرز کی اسلحہ تجارت یہ سب اس رشتے کو ایک مضبوط اقتصادی وعسکری شراکت داری میں تبدیل کرچکے ہیں اورایک مضبوط زنجیرمیں پرو دیا ہے۔گویایہ دو ریاستیں ایک دوسرے کے آئینے میں اپنی طاقت کاعکس دیکھ رہی ہوں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے نہ صرف دوست بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت بھی بن چکے ہیں۔دفاعی میدان میں یہ شراکت داری کاتعلق ایک ایسے بندھن میں ڈھل چکاہے جسے محض سفارتی بیان بازی سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔
اگرتاریخ کے دریچوں سے جھانکاجائے تویہ تبدیلی اوربھی معنی خیزمحسوس ہوتی ہے۔تاریخ کامطالعہ اس تبدیلی کومزیدمعنی خیزبنادیتا ہے۔وہ بھارت جوکبھی فلسطین کاوکیل تھا،اس کے حق میں عالمی فورمزپر آواز بلندکرتاتھا،آج نہ صرف اسی مسئلے پرخاموشی اختیارکر چکاہے بلکہ آج اسی عدالت میں اسرائیل کاہم نوابن بیٹھاہے۔ 1947ء میں جس نے تقسیم فلسطین کی مخالفت کی تھی،وہی آج اسرائیل سے بغلگیرہوکرنہتے فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک ہے۔یہ تبدیلی محض پالیسی نہیں بلکہ فکرکی تبدیلی کااعلان ہے گویایہ تبدیلی ایک تدریجی عمل کانتیجہ ہے جس نے وقت کے ساتھ ایک نئے شرمناک بیانیے کوجنم دیا۔یہ خاموشی محض سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ منافقت کاوہ مشترکہ رشتہ ہے،جس میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔
کارگل کامعرکہ اس تعلق کی تاریخ میں ایک اہم موڑثابت ہوا،اوراس تعلق کی بنیادوں کومضبوط کرنے میں اپناکرداراداکیا۔اس جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے بھارت کو فراہم کی جانے والی مددنے اسے واضح طورپرپاکستان کی دشمنی میں صفِ اول میں کھڑا کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا ایک ایسارشتہ قائم ہواجو آنے والے برسوں میں مزیدمستحکم ہوتاگیا۔جب بھارت پر عالمی پابندیوں کے سائے گہرے تھے اوردنیابھرمیں کسی بھی ملک سے مددکی توقع نہیں تھی،اسرائیل نے خاموشی سے اس کی مددکی۔ یہ وہ لمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی ایک ایسی بنیادرکھ دی جووقت کے ساتھ مضبوط ترہوتی گئی۔اسرائیل نے بھارت کواسلحہ فراہم کرکے ایک ایساقرض چڑھایاجس کی ادائیگی آج تک جاری ہے۔ تاریخ کبھی خالی صفحہ نہیں ہوتی،اس کے حاشیوں میں لکھے گئے واقعات بھی بڑے فیصلوں کی بنیادبنتے ہیں۔
مودی کے اقتدار میں آنے کے بعدیہ تعلق کھل کرسامنے آیااوربعد میں یہ تعلق ایک نئی جہت اختیار کر گیا ۔ 2017ء میں اسرائیل کے دورے اوراعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے اس شراکت داری کونہ صرف تقویت دی بلکہ اسے عوامی سطح پربھی اجاگرکیا۔یہ دورہ محض سفارت نہیں بلکہ ایک علامتی پیش قدمی تھی۔گویا دونوں رہنماایک دوسرے میں اپناعکس دیکھ رہے ہوں، ایک ایساعکس جس میں طاقت، قومیت اور مرکزیت کی جھلک نمایاں ہو۔ اسرائیل کادورہ صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علامتی اعلان تھاکہ بھارت اب اپنی خارجہ پالیسی کے نئے خطوط متعین کرچکاہے۔یہ ایک ایسامرحلہ تھاجہاں سفارت کاری نے علامتی حیثیت اختیارکرلی۔اس کے بعد ہونے والے اعلیٰ سطحی تبادلوں نے اس تعلق کوعوامی سطح پربھی اجاگرکیا۔ اوریوں آج مودی کے دورمیں یہ تعلق ایک نئے عروج کوپہنچ چکاہے۔
اس تعلق اورشراکت داری کادائرہ محض دفاع تک محدودنہیں رہابلکہ معیشت،زراعت،سائنس اور ثقافت تک پھیل چکاہے۔اسرائیلی مہارت اوربھارتی وسائل کاامتزاج ایک ایسے اشتراک کوجنم دے رہاہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مہارتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں،جو دونوں ممالک کے لئے سودمندثابت ہو رہا ہے۔یہ تعاون ایک وسیع تراقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہورہاہے مگراس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہاہے کہ کیایہ ترقی اخلاقی توازن کے بغیرممکن ہے اورکیایہ ترقی اصولوں کی قربانی کے بغیرممکن ہے؟
لیکن اس کہانی کاایک دوسرارخ بھی ہے بھارت کے اندراس پالیسی پرتنقید کا،تشویش کااور سوالات کاسلسلہ جاری ہے۔بھارت کے اندر اورباہریہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اوراس تعلق پربحث جاری ہے۔ دانشوروں اورسابق سفارت کاروں کا ایک حلقہ اس بات پرتشویش کا اظہارکر رہاہے کہ یہ قربت بھارت کی روایتی غیر جانبداری کومتاثر کر رہی ہے۔کیایہ قربت فلسطینی مؤقف سے انحراف نہیں؟کیایہ دوستی اخلاقی اصولوں کی قیمت پرقائم نہیں؟ان کے نزدیک فلسطینی مؤقف سے دوری نہ صرف اخلاقی بلکہ سفارتی نقصان کاباعث بھی بن سکتی ہے اورایک ایسے خلاکو جنم دے رہی ہے جس سے مشرقِ وسطی میں بھارت بھی اسرائیل کی طرح نفرت کی نگاہوں کامرکزبن چکاہے اوراس کی ساکھ اب ایک ایسے منافق کے طورپرسامنے آرہی ہے جومنہ میں رام رام اوربغل میں چھری لئے ہوئے ہے۔
(جاری ہے)