(گزشتہ سے پیوستہ)
ریاض اب عالمی سیاست میں کسی ایک طاقت کیساتھ مکمل وابستگی کی بجائے مختلف عالمی مراکزکے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیارکر رہا ہے۔ یہ نئی سعودی سفارت کاری کابنیادی اصول بنتاجارہا ہے، شراکت داری سب کے ساتھ،انحصارکسی ایک پرنہیں۔اسی حکمت عملی کے تحت سعودی عرب امریکاکے ساتھ سلامتی اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھاتا ہے، چین کے ساتھ اقتصادی روابط کووسعت دیتاہے اور دیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات کومتوازن رکھنے کی کوشش کرتاہے۔
روس بھی مشرقِ وسطیٰ ٰ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کررہاہے۔توانائی کے میدان میں روس اورخلیجی ممالک کے درمیان تعاون،دفاعی تعلقات اورعلاقائی سیاست میں سفارتی روابط نے ماسکوکوخطے میں ایک اہم کھلاڑی بنائے رکھاہے۔ اگرچہ روس کے وسائل امریکایاچین کے برابرنہیں، لیکن شام جیسے معاملات میں اس کاکرداریہ ثابت کرتاہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ ٰ کوعالمی سیاست کے بڑے میدان کے طورپردیکھتاہے۔ایسے ماحول میں امریکاسعودی جوہری تعاون کوواشنگٹن کے لئے صرف ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی پیغام بھی سمجھاجاسکتاہے۔یہ پیغام یہ ہے کہ امریکااب بھی خلیجی سلامتی،جدیدٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے میدان میں ایک مرکزی کرداررکھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ٰ کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں پاکستان کاذکربھی اہمیت رکھتاہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے،سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی،دفاعی،اقتصادی اوربرادرانہ تعلقات موجود ہیں، جبکہ خلیجی سلامتی کے معاملات میں اسلام آبادکاکردارکئی دہائیوں سے نمایاں رہاہے۔اگرچہ امریکاسعودی جوہری تعاون بنیادی طورپردوریاستوں کے درمیان ایک معاملہ ہے،لیکن خطے کی وسیع ترسلامتی کے تناظرمیں پاکستان ایک ایساملک ہے جس کے تجربات،سفارتی روابط اوردفاعی تعلقات کونظر اندازنہیں کیاجا سکتا۔ پاکستان کے لئے بھی یہ ایک حساس سفارتی توازن کا معاملہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنے دیرینہ دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کوبرقراررکھنا ہے ، دوسری جانب اسے عالمی عدم پھیلاؤکے اصولوں، علاقائی امن اورسلامتی کے تقاضوں کوبھی مدنظررکھنا ہے۔ پاکستان کاممکنہ کرداربراہ راست جوہری تعاون سے زیادہ سفارتی اعتمادسازی، علاقائی مکالمے اورامن کے فروغ کے حوالے سے اہم ہوسکتاہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں طاقت کے مقابلے کے امکانات موجودہوں، پاکستان اپنے تاریخی تجربے اور سفارتی تعلقات کے ذریعے ایک پل کاکرداراداکر سکتا ہے۔ خاص طورپراس لیے کہ پاکستان خودجانتا ہے کہ جوہری طاقت صرف ایک تکنیکی صلاحیت نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
جوہری تعاون کاسب سے اہم ستون صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتمادہوتاہے۔دنیابھرمیں جوہری پروگرام سخت نگرانی،شفافیت اوربین الاقوامی اصولوں سے منسلک کیے جاتے ہیں ، کیونکہ جوہری شعبے میں چھوٹی سی غلطی بھی بڑے اثرات پیداکرسکتی ہے۔اگرنگرانی کے نظام مضبوط ہوں،معلومات کاتبادلہ شفاف ہواوربین الاقوامی اداروں کاکردارمؤثررہے تو جوہری توانائی ترقی کا ایک شاندارذریعہ بن سکتی ہے لیکن اگراعتمادکا فقدان پیدا ہوجائے یایہ تصورمضبوط ہوجائے کہ جوہری ٹیکنالوجی علاقائی طاقت کے حصول کاذریعہ بن رہی ہے تو یہی منصوبہ کشیدگی کا سبب بھی بن سکتاہے۔جوہری توانائی کامستقبل دراصل صرف ری ایکٹرز،ایندھن اورٹیکنالوجی سے طے نہیں ہوگابلکہ اس سیاسی اوراخلاقی ماحول سے طے ہوگاجس میں اسے استعمال کیاجائے گا۔
امریکاسعودی جوہری تعاون ایک بنیادی سوال کودوبارہ زندہ کرتاہے،کیاہروہ چیزجو انسان حاصل کرسکتاہے،اسے حاصل کرنا ضروری بھی ہے؟یہ سوال صرف سائنس کانہیں بلکہ اخلاقیات،سیاست اورانسانی شعورکاسوال ہے۔جوہری ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔اس نے طب،زراعت،صنعت اورتوانائی کے میدانوں میں انقلاب برپاکیا۔لیکن یہی ٹیکنالوجی اس وقت خطرے کاباعث بن جاتی ہے جب اسے خوف،مقابلے اورطاقت کی سیاست اپنے تابع کرلیں۔
سعودی عرب کے لئے اصل امتحان صرف جوہری صلاحیت حاصل کرنانہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جدیدطاقت کاحقیقی معیارصرف ٹیکنالوجی کا حصول نہیں بلکہ اس کاذمہ دارانہ استعمال ہے۔ امریکاکے لئے بھی امتحان صرف اپنے اتحادی کے ساتھ تعاون نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرناہے جہاں مفادات اوراصول ایک دوسرے کے مخالف نہ بنیں۔کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ قوموں نے کتنی طاقت حاصل کی،بلکہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ انہوں نے اس طاقت کوکتنی دانش مندی سے استعمال کیا۔
امریکاسعودی عرب جوہری تعاون کامستقبل صرف معاہدے کی شرائط سے طے نہیں ہوگابلکہ اس اعتمادسے طے ہوگاجواس کے نفاذکے دوران قائم کیا جائے گا۔اس کے سامنے دو مختلف راستے موجودہیں۔ ایک راستہ وہ ہے جہاں یہ تعاون سعودی عرب کے لئے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیداکرے؛صنعتی ترقی کو فروغ دے؛سائنسی تحقیق کو مضبوط بنائے؛ مستقبل کی معیشت کے لئے نئی بنیاد فراہم کرے۔اگریہ منصوبہ شفافیت، ذمہ داری اورعالمی نگرانی کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے توسعودی عرب ایک ایسی مثال بن سکتاہے کہ قدرتی وسائل رکھنے والی ریاست کس طرح علم اورٹیکنالوجی پرمبنی جدید معیشت تشکیل دے سکتی ہے۔ لیکن دوسراراستہ وہ ہے جہاں علاقائی عدم اعتمادبڑھ جائے اوریہی منصوبہ طاقت کے مقابلے کی علامت بن جائے۔ایسی صورت میں ایران اپنی سلامتی کی پالیسی مزیدسخت کرسکتاہے؛دیگرخلیجی ممالک بھی نئی صلاحیتوں کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں؛ مشرقِ وسطیٰ ٰ میں پہلے سے موجودکشیدگی مزیدگہری ہوسکتی ہے۔اسی لیے اصل فیصلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں کرے گی،بلکہ وہ سیاسی حکمت،سفارتی بصیرت اورذمہ دارانہ قیادت کرے گی جواس ٹیکنالوجی کے گردقائم کی جائے گی۔
امریکاسعودی عرب جوہری تعاون واشنگٹن کے لئے محض ایک سفارتی کامیابی یامعاشی موقع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ توازن کاامتحان بھی ہے۔امریکاایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مضبوط بناناچاہتاہے،کیونکہ خلیجی خطے میں سعودی عرب سیاسی،معاشی اورسلامتی کے اعتبارسے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتاہے۔دوسری طرف واشنگٹن کے سامنے یہ ذمہ داری بھی موجودہے کہ وہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤکے اصولوں،شفافیت اور علاقائی استحکام کے تقاضوں کونظر اندازنہ کرے۔
(جاری ہے)