نورین خاں نیازی کے انڈین میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو کی بازگشت اب پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔انٹرویو کا جو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے،اس میں نورین خاں نیازی آپریشن سندور کے حوالے سے متنازع گفتگو کر رہی ہیں جس پر انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)میں پیشی کا بھی سامنا ہے۔جاری طلبی نوٹس نورین خاں نیازی کی بیرون ملک موجودگی کے باعث براہ راست موصول نہیں کرایا جا سکا۔تاہم کسی فیملی ممبر کی جانب سے طلبی نوٹس کی وصولی کی اطلاعات ہیں۔نورین خاں نیازی بانی پی ٹی آئی کی بہن،جبکہ علیمہ خاں کے بعد سب سے زیادہ خبروں میں رہنے والی خاتون ہیں۔ان کی وجہ شہرت 9 مئی کے مقدمات میں ملوث بیرسٹر حسام نیازی کی والدہ ہونا بھی ہے۔معروف سیاسی تجزیہ کار اور ایک نجی میڈیا ہائوس کے صدر حفیظ اللہ خاں نیازی کی اہلیہ ہونے کے حوالے سے بھی انہیں جانا جاتا ہے۔تاہم پارٹی سیاست میں براہ راست کوئی پارٹی عہدہ نہیں رکھتیں۔کہا جاتا ہے سوشل میڈیا پر ان کے متنازع انٹرویو کا جو کلپ وائرل ہوا،وہ ایک پرانا انٹرویو ہے۔مبینہ طور پر جس میں معرکہ حق اور ریاستی اداروں کے حوالے سے انہوں نے متنازع گفتگو کی۔اس انٹرویو کو انڈین میڈیا نے بڑی پذیرائی بخشی۔اسے بار بار اپنے چینلز پر دکھایا اور چلایا جب کہ بھارتی اخبارات نے جلی حروف سے اس متنازع انٹرویو کے متن کو اپنے صفحہ اول پر شائع کیا۔
سوشل میڈیا پر مذکورہ انٹرویو کے وائرل ہوتے ہی پاکستان کے طول و عرض میں ایک شور مچ گیا۔ہر مکتبہ فکر میں اس کا ذکر ہونے لگا۔عوام الناس نے انٹرویو کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔بادی النظر میں نورین نیازی کا یہ انٹرویو ملکی سلامتی کے اداروں اور ملکی بقاء کے خلاف ہے۔جس پر ایف آئی اے کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھی حرکت میں آنا پڑا۔ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے فوری طلبی کا نوٹس انہیں بھجوا دیا۔دوسری جانب نورین خاں نیازی کے اس متنازع انٹرویو کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے مسترد کر دیا ہے۔چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا کہ نورین خاں نیازی نے انٹرویو میں جو کہا وہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔پارٹی کی باضابطہ پالیسی کا حصہ نہیں۔بیرسٹر گوہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خاں کی بہنیں پارٹی میں نہیں ہیں اور نہ کوئی عہدہ ان کے پاس ہے۔لہٰذا ان کے انٹرویو یا بیان کو پارٹی موقف نہ سمجھا جائے۔ بیرسٹر گوہر کے اس موقف نے جس نئی بحث کو جنم دیا ہے،وہ یہ ہے کہ آیا پارٹی میں کوئی گروپ بندی ہے اور کیا واقعی بانی کی بہن نورین خاں نیازی پارٹی ڈسپلن اور ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ان کا مذکورہ انٹرویو یا بیان پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو کیا نورین نیازی کے خلاف پارٹی کوئی کارروائی کرے گی یا کر سکتی ہے۔دیکھنا اب یہ ہے کہ نورین خاں نیازی اور دیگر دونوں بہنیں پارٹی کا حصہ نہیں،تو شاید ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکے۔نورین خاں دوسری بہنوں علیمہ اور ڈاکٹر عظمی خاں کے ہمراہ جب سے اڈیالہ کے باہر نظر آنا شروع ہوئی ہیں،بھرپور میڈیا کوریج کے باعث ان کا نام پورے ملک میں گونجنے لگا ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے نورین خاں نیازی کے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ایسا بیان یا انٹرویو کوئی محب وطن پاکستانی نہیں دے سکتا۔نورین خاں نیازی نے اپنے اس انٹرویو میں معرکہ حق کو نریندر مودی کے ساتھ پاکستان کی ملی بھگت کا شاخسانہ قرار دیا اور بالکل جعلی کہا۔موقف اختیار کیا کہ پاکستانی فوج میں وہ دم نہیں کہ عسکری لحاظ سے ایک طاقت ور ملک (بھارت)کے سامنے کھڑی ہو۔ نورین نیازی کے اس متنازع اور غیر سنجیدہ بیان پر اسٹیبلشمنٹ سمیت حکومت اور عوام میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔غیر جانبدار مبصرین کی نظر میں اس وقت جب پی ٹی آئی بہت زیادہ مشکل میں ہے،نورین نیازی کو ایسے بیان یا انٹرویو سے گریز کرنا چاہیئے تھا۔ایسا متنازع اور غیر سنجیدہ بیان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے جس کے بہت ہی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے انہیں طلبی کا نوٹس ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ بہت ہی غیر معمولی ہے۔چونکہ انٹرویو کی وڈیو اور تمام تر آڈیو ریکارڈنگ سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پاس ہے، لہٰذا نورین خاں نیازی اس سے منحرف نہیں ہو سکتیں کہ معرکہ حق کے حوالے سے ان کا یہ بیان اور خیالات نہیں تھے۔اخباری بیان پر تو انحراف ہو سکتا ہے کہ ایسا بیان نہیں دیا اور اسے توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا ہے مگر اپنی ہی آڈیو سے کوئی کیسے منحرف ہو سکتا ہے۔نورین نیازی کے خلاف اب کارروائی جلد متوقع ہے۔اگلی پیشی پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے روبرو پیش ہوئیں اور تفتیشی عمل آگے بڑھا تو سوال جواب کے سیشن میں ہی سارا عقدہ کھل جائے گا۔انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ معرکہ حق کے متعلق جو کہا لفظ بہ لفظ درست اور آڈیو کے مطابق ہے۔محسوس اب ایسے ہوتا ہے کہ بھائی اور بیٹے بیرسٹر حسام نیازی کی طرح خود بھی مستقبل قریب میں اب جیل جانے والی ہیں۔ان کی سزا کا فیصلہ تو عدالت نے ہی کرنا ہے لیکن جتنے بھی شواہد اب تک سامنے آئے ہیں اور جو کہانی طشت از بام ہو رہی ہے اس میں وہ بچتی نظر نہیں آتیں۔مذکورہ انٹرویو جوش جذبات میں دیا یا غصے کی حالت میں،کہے الفاظ اور خیالات کا خمیازہ انہیں بھگتنا ہی پڑے گا،یوں نیازی خاندان کو ایک اور نئی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا ہو گا۔