Search
Close this search box.
پیر ,27 جولائی ,2026ء

انسانی تاریخ کا آغاز

(گزشتہ سے پیوستہ)
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ قربانی کی قبولیت کا معیار تقوی ہے، نہ کہ ظاہری دولت، طاقت یا حیثیت۔ ہابیل نے اپنے بھائی سے کہا:
اللہ تعالیٰ تو صرف پرہیزگاروں ہی سے قبول فرماتا ہے۔یہ درحقیقت پوری انسانی تاریخ کے لیے ایک ابدی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل قدر دل کی پاکیزگی، اخلاص اور تقوی کی ہے۔
حسد انسان کے دل میں داخل ہو جائے تو وہ عقل، انصاف اور محبت کو ختم کر دیتا ہے۔ قابیل اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یوں انسانی تاریخ کا پہلا خون ناحق بہایا گیا۔ اسی لئے قرآن اس واقعے کے بعد فرماتا ہے کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ہزاروں سال پہلے تھا۔دمشق کے سفر کے دوران مجھے جبلِ قاسیون پر حضرت ہابیل سے منسوب قدیم مزار پر حاضری کا موقع ملا۔ وہاں ایک نہایت طویل قبر موجود ہے جسے صدیوں سے حضرت ہابیل کی قبر سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ احترام کے ساتھ اس مقام کی زیارت کرتے ہیں۔ اس تاریخی مقام پر کھڑے ہو کر دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ حسد اور نفرت نے انسانیت کو کس قدر بڑا نقصان پہنچایا۔ لیکن ایک محقق کی حیثیت سے ہمیں دیانت داری سے یہ بھی کہنا چاہیے کہ قرآنِ مجید، صحیح احادیث اور مستند تاریخی شواہد اس بات کی قطعی تصدیق نہیں کرتے کہ یہی حضرت ہابیل کی حقیقی قبر ہے۔ یہ ایک قدیم اور محترم روایت ہے، لیکن اسے یقینی تاریخی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت کا مکمل علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
حضرت آدم ؑکی عمر اور زمین پر ان کے آنے کے زمانے کے بارے میں بھی قرآن خاموش ہے۔ تورات میں نسب ناموں کی بنیاد پر مختلف حسابات کئے گئے ہیں، جبکہ مسلمان مورخین نے بھی اپنے اپنے انداز سے اندازے قائم کئے ہیں۔ لیکن ان تمام اندازوں میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لئے کسی مخصوص سال کو قطعی طور پر حضرت آدم ؑکا زمانہ قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں آثارِ قدیمہ نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں گوبکلی تپہ، کاراہان تپہ اور دیگر قدیم مقامات کی دریافت نے انسانی تہذیب کی تاریخ کو نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ مقامات دنیا کے قدیم ترین مذہبی اور سماجی مراکز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی قدامت دس ہزار سال سے بھی زیادہ مانی جاتی ہے۔ یہ دریافتیں اگرچہ حضرت آدم ؑیا ان کی اولاد سے براہِ راست منسلک نہیں کی جا سکتیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہیں کہ جنوب مشرقی ترکی، شمالی شام اور شمالی عراق پر مشتمل بالائی زرخیز ہلال (Upper Fertile Crescent) انسانی تہذیب کے ابتدائی مراکز میں سے ایک تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد کے انبیائے کرام کی تاریخ بھی اسی وسیع جغرافیائی خطے سے وابستہ نظر آتی ہے۔ حضرت نوح کی قوم، کوہِ جودی، حضرت ابراہیم ؑ کا علاقہ، حران، شانلی عرفہ (ارفہ)، موصل اور بین النہرین کا علاقہallاسی خطے میں واقع ہیں۔ یہ حقیقت اس امکان کو مضبوط کرتی ہے کہ انسانی تہذیب کی ابتدائی نشوونما بھی اسی وسیع علاقے میں ہوئی ہو، اگرچہ اس بارے میں قطعی فیصلہ ابھی ممکن نہیں۔
ہماری تحقیق کا مقصد کسی قدیم روایت کو رد کرنا نہیں بلکہ ہر روایت کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا ہے۔ جہاں قرآن اور صحیح حدیث قطعی رہنمائی دیتے ہیں وہاں ہمیں پورے یقین کے ساتھ ان پر ایمان رکھنا چاہیے، اور جہاں صرف تاریخی روایات موجود ہوں وہاں انہیں روایت ہی کے درجے میں بیان کرنا چاہیے۔
اس پوری تحقیق کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ رنگ، نسل، زبان، قوم اور سرحدیں بعد کی تقسیمات ہیں۔ ہمارا اصل رشتہ حضرت آدم ؑاور حضرت حوا ؑسے ہے۔ اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو نفرت، تعصب، نسل پرستی اور ظلم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔حضرت آدمؑ ہمیں توبہ کا سبق دیتے ہیں۔ حضرت حوا ؑہمیں امید اور اللہ کی رحمت پر اعتماد سکھاتی ہیں۔ حضرت ہابیل ہمیں اخلاص، تقویٰ اور صبر کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ قابیل ہمیں یہ تنبیہ کرتا ہے کہ حسد، تکبر اور نفس کی پیروی انسان کو ایسی گہرائی میں گرا دیتی ہے جہاں سے پوری انسانیت متاثر ہوتی ہے۔اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ:
حضرت آدم ؑاور حضرت حواؑ پوری انسانیت کے والدین ہیں۔ان کے زمین پر اترنے کی صحیح جگہ قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔سری لنکا، جدہ اور عرفات کی روایات تاریخی ہیں، قطعی نہیں۔قابیل اور ہابیل حقیقی تاریخی شخصیات تھے، لیکن ان کی جائے پیدائش اور حضرت ہابیل کی قبر کا صحیح مقام یقینی طور پر معلوم نہیں۔آثارِ قدیمہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنوب مشرقی ترکی اور شمالی بین النہرین انسانی تہذیب کے قدیم ترین مراکز میں شامل تھے۔حقیقت کامل کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور ایک سچا محقق وہی ہے جو احتمال کو یقین اور روایت کو وحی نہ بنائے۔

یہ بھی پڑھیں