دہشت گردی کی دنیا میں سب سے بڑا دھوکا ہتھیار نہیں، نام ہوتا ہے۔ قاتل کبھی چہرہ بدل لیتا ہے، کبھی پرچم، کبھی تنظیم اور کبھی نعرہ۔ لیکن اس کے اہداف، طریقۂ کار، سہولت کار اور سرپرست تبدیل نہیں ہوتے۔ پاکستان قریبا ً ربع صدی سے اس کئ چہروں والے دشمن سے لڑ رہا ہے ، اسے جانتا ہے ، شناخت کرتا ہے اورجڑیں کاٹنے کی صلاحیت بھی ، ہزار نقابوں پس پردہ اصل چہرے ، دستانوں میںپوشیدہ قاتل ہاتھ قطعا ً اجنبی نہیں ، ہم ان غلیظ اور مکروہ کرداروں کو اس طرح سے پہچانتے ہیں جیسے اپنے ہاتھ کی لکیریں ۔ آج کسی حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی قبول کرتی ہے، کل ،بی ایل اے سامنے آ جاتی ہے اورکبھی داعش خراسان اور اب اک نیا پاکھنڈ داعش پاکستان، دشمن کیا سمجھتا ہے کہ ہمیں دھوکہ دے سکتا ہے ؟
سوال صرف یہ نہیں کہ حملہ کس نے کیا، اصل سوال یہ ہے کہ اس سب کے پیچھے کون ہے؟ اہداف ایک جیسے کیوں ہیں؟ ان کی حکمت عملی میں مماثلت کیوں ہے؟ اور ہر حملے کا رخ پاکستان ہی کی طرف کیوں ہوتا ہے؟ مختلف انٹیلی جنس ذرائع، حالیہ دہشت گرد کارروائیوں، عسکری تنظیموں کی ساخت اور افغانستان میں رونما ہونے والی پیش رفت کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک ایسی تصویر ابھرتی ہے جس میں نام مختلف ضرور ہیں مگر مقصد، سمت اور سرپرستی ایک دوسرے سے الگ دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی حلقے بخوبی جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان اور اب نو زائدہ داعش پاکستان پروونس، بظاہر الگ تنظیمیں ہونے کے باوجود ایک ہی وسیع دہشت گردہشت پا کےمختلف بازو ہیں۔ پورے نیٹ ورک کو افغانستان کی سرزمین پر محفوظ ماحول اور بھارت کی مکمل سر پرستی ۔ داعش پاکستان نام کا یہ نیا عفریت کیا ہے ؟ یہ بھی معلوم ہےکہ اس کی تاریخ پیدائش جنوری 2026 ہے ، جب افغانستان کے اندر دہشت گرد درندوں کا اک نیا مگر بے نام غول تیار کیا گیا، جسے بعد میں اسلامک اسٹیٹ پاکستان پروونس (ISPP) کا نام دیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد مختلف دہشت گرد تنظیموں کی صلاحیتوں کو ایک ہی کمان کے تحت جمع کرنا تھا۔ داعش خراسان کی خودکش کارروائیوں کا تجربہ، ٹی ٹی پی کے سرحد پار نیٹ ورک، بی ایل اے کی سفاک غارت گری ،بی وائے سی کا دام ہم ردنگ زمین ،جماعت الاحرار کی شہری دہشت گردی کی مہارت اور مختلف ناراض عسکری دھڑوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر پاکستان کے خلاف زیادہ منظم، زیادہ مربوط اور زیادہ تباہ کن مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس پورے منصوبے کی نگرانی افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کو سونپی گئی۔فی دہشت گرد پانچ سو ڈالر ماہانہ تک معاوضہ دیا جا رہا ہے۔اس پوری سازش کا سب سے اہم اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف افغان طالبان مسلسل عالمی برادری کے سامنے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ وہ داعش خراسان کے خلاف برسرپیکار ہیں، جبکہ داعش پاکستان کے نام سے ایک نیا ڈھانچہ انہی کی کوکھ سے پیدا ہوا اور انہی کی گود میں پرورش پارہا ہے ۔ ایک طرف دنیا کو داعش دشمنی کا دھوکہ دوسری طرف اسی برانڈ کو نئی شکل میں لانچ کرنا ، کھلی منافقت نہیں بلکہ دہشت گردی کی آبیاری ہے ۔
پاکستان کے اندر حالیہ دہشت گرد کارروائیاں کو اسی بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ 23 جولائی 2026 کو مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت محض دو سرکاری افسروں پر حملہ نہیں، پاکستان کے نظام انصاف، آئینی ڈھانچے اور ریاستی رٹ پر حملہ اور واضح پیغام ہے کہ جو بھی ان کے خلاف قانون نافذ کرے گا، بندوق کے نشانے پر ہوگا۔ دوسری جانب اس حملے کی ٹائم لائن بھی اس کی اہمیت کو بڑھا رہی ہے ۔ صرف ایک ماہ قبل کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماما ہ رنگ بلوچ اورصبغت اللہ شاہجی کو قتل کے مقدمے میں سزا سنا چکی ہے، ججوں پر حملہ اسی عدالتی فیصلے کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ مقصد صرف ایک فیصلہ چیلنج کرنا نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کو خوف میں مبتلا کرنا ہے تاکہ آئندہ کوئی جج دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ سنانے سے پہلے اپنی جان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو۔
اس پوری کہانی کا سب سے اہم موڑ وہ تھا جب مستونگ میں ججوں کے قتل کے چند گھنٹوں کے اندر داعش خراسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی، حالانکہ بی ایل اے کے طریقہ واردات سے مشابہہ ہے، مقصد صاف ظاہر ہے کہ بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کے لئے مقدمہ اقوام متحدہ میں ہے ، ایسے میں ججوں پر حمکلہ اگر بی ایل اسے قبول کرتی تو اس کے سپانسراور عالمی سرپرستوں کیلئے اسے بچانا مشکل ہوجاتا لہٰذا قندھاریوں کی مدد سے ایک پراکسی نام کا سہارا لے لیا گیا ۔ یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ ججوں کے قتل سے ایک روز پہلے مستونگ ہی میں ایک مسافر بس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے تین بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا گیا۔ اسی ہفتے فوجی قافلے پر دیسی ساختہ بم سے حملے کی کوشش ہوئی، خد کوچہ میں پل تباہ کیا گیا اور دو مبینہ خاتون خودکش حملہ آور گرفتار کی گئیں۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا ہدف اب صرف سکیورٹی فورسز نہیں بلکہ عدلیہ، عام شہری، عوامی انفراسٹرکچر، معیشت، ریاستی نظم و نسق اورسب کچھ ہے، لہٰذا دہشت گردی کو مختلف خانوں میں تقسیم کر کے دیکھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ مہرے بدل رہے ہیں، کھیل وہی ہے، چہرے بدل رہے ہیں ہاتھ و ہی ہے۔ دہشت گردی کا یہ نیا ماڈل دراصل پرانے منصوبے کی نئی شکل ہے، جس میں ہر تنظیم دوسرے کے لیے ڈھال بھی ہے اور معاون بھی۔پاکستان کے لیے اب اصل چیلنج صرف کسی ایک تنظیم کو شکست دینا نہیں بلکہ اس پورے دہشت گرد ماحولیاتی نظام کو بے نقاب کرنا ہے جو مختلف ناموں، مختلف جھنڈوں اور مختلف بیانیوں کے ذریعے ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ جب تک اس پورے نیٹ ورک کو ایک اکائی کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، تب تک ہر شکست خوردہ تنظیم کسی نئے نام، نئے پرچم اور نئے دعوے کے ساتھ دوبارہ سامنے آتی رہے گی۔