کشمیر پر سازشوں کے جال
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں، پاکستانیوں کی سوچ، جذبات اور دلوں میں خون کی طرح موجزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری بجلی کا ایک یونٹ کی قیمت 40سے 60روپے تک ادا کرتے ہیں مگر کشمیری بھائیوں
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں، پاکستانیوں کی سوچ، جذبات اور دلوں میں خون کی طرح موجزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری بجلی کا ایک یونٹ کی قیمت 40سے 60روپے تک ادا کرتے ہیں مگر کشمیری بھائیوں
ہمیں تو پہلے بھی کوئی شبہ نہیں تھا ، یقین کامل بلکہ عین الیقین تھا کہ دہشت گردی بی ایل اے اور اس قماش کی تمام تنظیموں کا دھندا ہے، چند بگڑے نوبزادے بھارت اور اسرائیل کی چاکری کرتے ہوئے ، غریب
چوٹ براہ راست سر میں لگی ہے اور شائد بہت شدید بھی ، حالانکہ’’ لڑکوں ‘‘کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہاتھ’’ ہولا‘‘ رکھا تھا ، دانستہ زیادہ نہیں مارا ،’’ ہولے‘‘ ہاتھ کا نتیجہ یہ ہے کہ تو کراری چوٹ
طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ آخوندزادہ جانب سے اللہ اور رسول ﷺ کی طرح اپنی غیر مشروط اطاعت کے مطالبہ کے بعد طالبان ارکان میں بھی مخالفانہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔29اپریل کو قندھار میں وزارتِ خزانہ کے ایک سیمینار میں ملا
بارڈر پار سے آنے والی اطلاعات خبر دیتی ہیں کہ ہندوتوا کا سانپ ایک بار پھر پھن اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ، آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ کے ذریعے جس طرح سے اس راکھشس کا سندھور بکھیرا گیا تھا ،
پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سفارتی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایسے عوامل بکثرت نظر آتے ہیں جو ملک کی داخلی سالمیت اور بین الاقوامی تعلقات دونوں کے لیے نازک موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔المیہ لیکن یہ ہے کہ اپوزیشن
افغانستان کی موجودہ صورتحال کواگر جذبات سےہٹ کرزمینی حقائق کی روشنی میں دیکھاجائےتو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ کابل میں طالبان قیادت ایک ہی وقت میں دو مختلف زبانیں بول رہی ہے۔ ایک طرف افغان وزیردفاع ملایعقوب فرمائشی انٹرویو
فقہ اسلامی کاایک اصول اپنی سادگی میں بڑاگہرا ہے کہ غلام کی گواہی معتبر نہیں۔ اس کی علت صاف ہے۔ جس کی روٹی،جس کا رزق،جس کاجینا مرناکسی اورکی مرضی کے تابع ہو، اس سے بےلاگ حق گوئی کی کیاتوقع کی
شراب خانہ خراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اشرافیہ کو یہ محبوب بہت ہے۔ اس کی حمائت میں وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے، یہاں تک کہ اپنی عزت و
دنیا میں طاقت کے پرانے پیمانے بدل رہے ہیں۔ کبھی فوجی قوت، کبھی معیشت، کبھی نظریہ۔ اب ایک اور پیمانہ سامنے آ رہا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کی سپر طاقت اور یہ اعزاز مودی کے بھارت کو ملا ہے کہ اسے’’ریپ