Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایک ابھرتا ہوا شیطانی منظر نامہ

بارڈر پار سے آنے والی اطلاعات خبر دیتی ہیں کہ ہندوتوا کا سانپ ایک بار پھر پھن اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ، آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ کے ذریعے جس طرح سے اس راکھشس کا سندھور بکھیرا گیا تھا ، وہ ذلت اسے چین نہیں لینے دے رہی ، اسرائیلی سنپولیئے یاہو کی مدد اور تعاون سے یہ بدلہ چکانے کی کوشش میں ہے ، مگر اپنے ہی آرمی چیف کا یہ اعتراف بھول رہا ہے کہ ’’ ہمارے ہر قدم پرپاکستان کی نظر تھی ۔‘‘ دو اہم ترین اسٹریٹیجک ایئرپورٹس — جودھ پور اور سری نگر — کو اچانک سول پروازوں کے لیے بند کرنا، صرف ایک سرکاری حکم نہیں بلکہ ایک ایسی غیر معمولی تیاری ہے جو کسی بڑے واقعے کی خبر دیتی ہے ، سول ایوی ایشن کی بندش کا صاف مطلب ہے کہ رن وے، بیس اور اطراف کے علاقے کو فضائیہ کے لیے خالی چاہیے۔ لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک اور اشارہ ہے کہ’’ دھوتی پرشاد‘‘ کو خارش ہو رہی ہے اور ماحول کو دانستہ طور پر گرم کیا جا رہا ہے۔ سرحد کے قریب بھارتی فضائی سرگرمیوں میں اضافہ، جارحانہ پروازیں، اور بٹل سیکٹر میں پاکستانی فوج کا دو بھارتی سرویلنس ڈرونز کو مار گرانا انہی سرگرمیوں کا حصہ ہے ۔معاملہ صرف فوجی نقل وحرکت تک محدود نہیں بلکہ اصل خطرناک ’’ وہ ‘‘ہے جو سات پردوں میں چھپا کر کیا جارہا ہے ، مگر جن کے علم میں ہونا چاہئے ، ان کے علم میں پوری طرح سے ہے یعنی بھارتی جیلوں میں بند مسلمان قیدیوں کی خفیہ طور پر غیر علانیہ کشمیر منتقلی، اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے گھروں کی تلاشیوں میں اضافہ، شہری آبادی پر دباؤ، میڈیا کنٹرول۔۔۔ یہ سب نقاط ملا نے سے پوری کہانی بے نقاب ہوجاتی ہے کہ ایک بار پھر کسی مفروضہ دہشت گردی کو استعمال کر کے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرکے پاکستان کے سر الزام تھوپنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔
موتر واسیوں کی باسی کڑھی میں اس ابال کی وجہ بھی جانتے ہیں کہ گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی بھارت میںانتخابات سر پر ہیں ، 4 مئی کو نتائج سامنے آنے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ اڑتے سندور ، سر میں پڑتے عالمی تنقیدکے جوتے ، ملک میں توانائی کا بحران اورگیس نہ ہونے پر بجھے چولھے اورپٹرول پمپوں پرصبح وشام دنگا وفساد مودی کی سیاسی ارتھی اٹھانے کو کافی ہے ۔ لے دے کہ وہی پون صدی پرانا نسخہ باقی بچتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھادو ، بقول راحت اندوری
سب سرحدوں پر تناؤ ہے کیا
کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا
سوال یہ ہے کہ ایک سال قبل کی شکست فاش کے بعد بھی ، وہ ایسا سوچ رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ خاموش تو وہ ایک دن بھی نہیں رہا ، ایک جانب ٹرمپ کے پائو ں پکڑ کر جنگ بندی کے لئے رو رہا تھا ، تو دوسری جانب افغان طالبان کے ذریعہ سے دہشت گردی کی جنگ پاکستان پر مسلط کر رہا تھا ،تیسری جانب اسرائیل سے مل کر ایران کے راستے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا ، شائد وہ سمجھ رہا ہے کہ پاکستان ایک جانب افغانستان میں الجھا ہو اہے ، دوسری جانب ایران پر اسرائیلی حملوں ی وجہ سے اس محاذ پر مصروف ہے ، شائد اس کا دائو چل جائے ۔ اس صورتحال میں نیا اور زیادہ پیچیدہ زاویہ اسرائیل کے کردار کا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کا عسکری اشتراک گزشتہ دس برسوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ ہتھیاروں کی خریداری سے بات آگے بڑھ کر مشترکہ ٹیکنالوجیکل ورک، انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل پلاننگ تک جا پہنچی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ چند برسوں میں اسرائیلی ساختہ ہتھیاروں، سافٹ ویئرز اور نگرانی کے آلات کا استعمال اس تعاون کی عملی مثال ہے۔ اگر موجودہ ماحول میں بھارت کسی مہم جوئی کی کوشش کرے اور اس کے پیچھے اسرائیلی تکنیکی یا انٹیلی جنس سپورٹ ہو، تو یہ محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کی سیاست اور سلامتی پر اثر ڈالے گی۔ان تمام حالات میں سب سے بڑی غلط فہمی شاید بھارت کو ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اب بھی صرف دفاعی حکمت عملی پر چلتا ہوا ملک ہے، جو ہر کارروائی کا جواب محدود انداز میں دے گا۔ حالانکہ پچھلے برس مئی کی مختصر جھڑپ نے یہ خیال ختم کر دیا تھا۔ پاکستان نے واضح طور پر دکھایا کہ وہ نہ صرف فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ نئے، زیادہ تیز رفتار اور زیادہ سخت ردعمل کا آپشن بھی رکھتا ہے۔ یہ پیغام بھارت کے دفاعی ماہرین تک بھی پہنچ چکا ہے کہ صورتحال اب پہلے کی سی نہیں رہی ۔
بھارت اس وقت کشیدگی پیدا کرکے چاہتا کیا ہے ؟ مقصد کیا صرف الیکشن کا دبائو ہے یا ایران کے محاذ سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کی کوشش ْ یا افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش ؟یہی وہ سوال ہے جو آج صرف عسکری قیادت یا سفارتی حلقوں تک محدود نہیں ، خطے کے عوام، عالمی طاقتیں، اور بین الاقوامی ادارے سب صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت تحمل، سفارت اور عقل مندی ہے۔ لیکن افسوس کہ سیاست، مفادات اور انتخابی مجبوریوں نے اس خطے کو ہمیشہ اس راستے پر دھکیلا ہے جہاں فیصلے جذبات سے ہوتے ہیں، حکمت سے نہیں۔
جہاں تک مسئلہ پاکستان کا ہے تو ، پاکستان روز اول سے ایسی جنگ کے لئے تیار ہے ، اچھا ہے ، ہنود ویہود اور ان کے بغل بچے کے ساتھ ایک ہی مرحلہ میں فیصلہ ہوجائے ۔

یہ بھی پڑھیں