(گزشتہ سے پیوستہ)
جدید دور نے ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے سہولت، علم اور رابطے کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، لیکن ان کے بے لگام منفی استعمال نے بالخصوص نوجوان نسل کو فکری اور اخلاقی گمراہی کی راہوں پر بھی ڈال دیا ہے۔ جو ذرائع ترقی اور آگہی کے لیے وجود میں آئے تھے، وہ بہت سے لوگوں کے لئے اخلاقی انتشار کے دروازے بن چکے ہیں۔ فحش اور بے حیائی پر مبنی مواد تک آسان رسائی، بیرونی معاشروں سے درآمد شدہ بگڑی ہوئی اقدار، اور شرم و حیاء کے احساس میں بتدریج کمی نے ایسی عادات کو فروغ دیا ہے جو تعلیماتِ نبوی ﷺ سے یکسر متصادم ہیں۔ وہ نوجوان اذہان جو کبھی دین کی تعلیمات اور خاندانی نگرانی کے حصار میں محفوظ تھے، آج تیز و تند ڈیجیٹل لہروں میں مناسب رہنمائی کے بغیر بہہ رہے ہیں۔ اس سیلابِ معلومات نے حلال و حرام کی تمیز کو مزید دھندلا دیا ہے اور صبر، ضبطِ نفس اور تقویٰ کی جگہ فوری خواہشات کی تکمیل اور بے سوچے سمجھے تجسس نے لے لی ہے۔
اب ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کی حقیقی وجوہات کیا ہیں اور اس تباہ کن رُخ کو کس طرح بدلا جا سکتا ہے؟ اس بحران کی جڑیں دینی وابستگی کی کمزوری، خاندانی نظام کے بتدریج انہدام، اور روحانی صحت پر مادی کامیابی کو ترجیح دینے والی معاشرتی سوچ میں پیوست ہیں۔ تاہم اگر ہم اجتماعی عزم کا مظاہرہ کریں تو اس کے مؤثر حل آج بھی ہمارے اختیار میں موجود ہیں۔ طبی اعتبار سے حکومت کو محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہر جگہ صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سرنجوں کو لازمی بنایا جائے، تشخیص اور علاج کی سہولتوں کو مزید وسعت دی جائے، اور سرکاری و نجی شعبے میں صحت و صفائی کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے عوامی آگاہی پروگرام ترتیب دیے جائیں جو سائنس کی زبان کے ساتھ ساتھ دین کی روشنی میں بھی لوگوں کو احتیاط، ذمہ داری اور مریضوں کے ساتھ ہمدردی کا شعور عطا کریں۔
اس سے بھی بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ ہم اپنی ان اخلاقی اور روحانی فصیلوں کو دوبارہ مضبوط کریں جنہوں نے صدیوں تک ہمارے معاشرے کی حفاظت کی۔ والدین اور بزرگوں پر اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے دلوں میں تقویٰ، حیا اور پاکدامنی کی شمع روشن کریں۔ علماء کرام اور آئمہ مساجد کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں امت کو طہارتِ نفس اور پاکیزگیِ کردار کی مسلسل تلقین کرتے رہیں۔ تعلیمی ادارے جدید علوم کے ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی نصاب اور ماحول کا لازمی حصہ بنائیں۔ ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسا مواد پیش کرنا چاہیے جو معاشرے کو سنوارے، نہ کہ اخلاقی انحطاط کو فروغ دے۔ سب سے بڑھ کر ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، نماز، روزہ، ذکرِ الٰہی اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائے تاکہ وہ ان وسوسوں سے محفوظ رہ سکے جو انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہ محض کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکمرانوں اور عوام، امیر و غریب، نوجوانوں اور بزرگوں، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ حلال اور حرام کی اس روشن تمیز کی طرف لوٹ آئیں، عملی احتیاط کو روحانی اصلاح کے ساتھ یکجا کر لیں، تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے ان گہرے اخلاقی زخموں کا مداوا بھی ممکن ہے جو آج ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ قرآنِ حکیم کی یہ ابدی حقیقت ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کرے۔‘‘ جب ہم اشرف المخلوقات ہونے کے اپنے حقیقی مقام کو دوبارہ اختیار کریں گے تو ہمیں نہ صرف جسمانی بیماریوں سے تحفظ نصیب ہوگا بلکہ ہماری قومی عزت، معاشرتی سکون اور اللہ تعالیٰ کی رضا و نصرت بھی دوبارہ ہمارے حصے میں آئے گی۔
اللہ رب العزت ہمیں حق کو پہچاننے کی بصیرت، اس پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ، اور اپنے دین پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارا وطنِ عزیز پاکستان امن، صحت، اخلاق اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو اور آنے والی نسلیں ایک پاکیزہ، باوقار اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے معمور معاشرے میں زندگی بسر کر سکیں۔ آمین۔