(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے اطراف کے ممالک اسے ایک ایسا مقام بناتے ہیں جہاں جغرافیہ خودسیاست بن جاتا ہے۔ یہ جغرافیہ گویاایک ایساخاموش کردارہے جو عالمی سیاست کے ہرمنظرمیں اپنااثردکھاتا ہے۔یہ ایک ایسی سمندری راہ گزرہے جہاں سے گزرنے والاہرجہازعالمی سیاست کاحصہ بن جاتا ہے۔
یہاں سے گزرنیوالی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کی نبض ہے۔اس کی روانی میں تسلسل کامطلب استحکام ہے،اوراس میں رکاوٹ کا مطلب بحران۔ یہی وہ حقیقت ہے جواس آبنائے کوعالمی اہمیت کاحامل بناتی ہے،روزانہ کروڑوں بیرل تیل اوراربوں مکعب فٹ گیس کا گزراس بات کاثبوت ہے کہ آبنائے ہرمزمحض ایک راستہ نہیں بلکہ توانائی کاعالمی مرکز ہے۔یہاں بہنے والی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کوحرکت دیتی ہے۔ ایشیاء ،خصوصاچین،اس پرسب سے زیادہ انحصار کرتا ہے گویایہ راستہ مشرقی معیشتوں کی زندگی کاضامن ہے ۔ صرف تیل ہی نہیں،بلکہ دیگرضروری اشیا،کھاد، خوراک، ادویات اورصنعتی سامان بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یوں یہ آبنائے انسانی زندگی کے ہرپہلوسے جڑی ہوئی ہے۔ خوراک،ادویات، اورصنعتی سامان سب اسی سے وابستہ ہیں۔یوں یہ آبنائے ہرمززندگی کے ہرپہلو سے جڑی ہوئی ہے اوراس کی بندش صرف معیشت نہیں بلکہ انسانی بقاء کوبھی متاثر کرسکتی ہے۔
جب کشیدگی بڑھتی ہے توخطرات بھی بڑھتے ہیں۔یہ خطرات صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اورنفسیاتی بھی ہوتے ہیں۔یہاں ہرجہاز ایک غیریقینی صورتحال کاسامناکرتاہے، اور یہی غیریقینی عالمی نظام کومتاثرکرتی ہے۔ڈرون، میزائل، بارودی سرنگیں اورجنگی کشتیاں یہ سب اس راستے کوایک ممکنہ خطرناک جنگی میدان میں بدل دیتے ہیں۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ عالمی نظام کاعدم استحکام ہے۔ایک حملہ نہ صرف ایک جہازبلکہ پوری عالمی معیشت کومتاثر کر سکتا ہے ۔
جب خطرہ بڑھتاہے توجہاں اعتمادکم ہوتاہے وہاں جہازرانی کی انشورنس مہنگی ہونے سے سفرکی لاگت بڑھ جاتی ہے،اورتجارت سست پڑجاتی ہے۔انشورنس کمپنیوں کاعدم اعتماد دراصل عالمی معیشت کے لئے ایک خاموش خطرہ ہے۔ انشورنس کے نرخوں میں اضافہ دراصل اس خوف کی عکاسی کرتاہے جوسمندرکی گہرائیوں میں نہیں بلکہ انسانی ذہنوں میں پیداہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کااثرمیدانِ جنگ سے نکل کربا زار تک پہنچ جاتاہے۔
ایشیامیں ایندھن کی قلت،یورپ میں راشننگ، افریقہ میں بجلی کی پابندیاںیہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ آبنائے ہرمزکابحران مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے۔یہ بحران کسی ایک خطے تک محدودنہیں رہتابلکہ پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔ ہرملک،ہرمعیشت اس کے اثرات محسوس کرتی ہے ، چاہے وہ براہِ راست اس سے وابستہ ہویانہیں ۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو سرحدوں سے ماورا ہے۔ پائپ لائنزاورمتبادل بندر گا ہیں اور راستے موجود ہیں،مگران کی صلاحیت محدود ہے۔ وہ مکمل حل نہیں۔وہ صرف ایک عارضی سہارافراہم کرتے ہیں،اصل انحصاراب بھی اسی آبنائے ہرمزپر ہے۔ وہ اس خلاکومکمل طورپرنہیں کرسکتیں جوآبنائے ہرمز کی بندش پیداکرسکتی ہے۔ یہ راستہ اب بھی ناگزیر ہے۔
آبنائے ہرمزصرف پانی کی پٹی نہیں ہے بلکہ انسانیت کی اجتماعی تقدیر کااستعارہ ہے۔یہاں، طاقت اورضرورت،سیاست اورمعاشیات، خوف اورامید، سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ایک چھوٹاسافیصلہ عالمی سطح پرزلزلہ بن سکتاہے۔ اگر یہاں امن قائم رہتاہے تودنیاکی معیشت سانس لیتی ہے،اوراگریہاں کشیدگی بڑھتی ہے تواس کی گونج ہر براعظم میں سنائی دیتی ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ آبنائے ہرمزدراصل دنیاکاآئینہ ہیجہاں ہم اپنی طاقت،اپنی کمزوری، اوراپنے مستقبل کوایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمزدراصل ایک سوال اورامتحان ہے، ایک ایساسوال جودنیاسے پوچھتاہے کہ کیا طاقت اورتعاون ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟اور امتحان اس لئے ہے کہ یہ ایساامتحان جس میں دنیاکویہ ثابت کرناہے کہ کیاوہ طاقت کوتوازن میں بدل سکتی ہے یانہیں۔کیاعالمی مفادات اور علاقائی خودمختاری میں توازن ممکن ہے؟اس وقت آبنائے ہرمزانسان اورطاقت کے درمیان ایک آزمائش بن چکی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہرفیصلہ ایک نئی تاریخ رقم کرتاہے،اورہرغلطی ایک نیابحران جنم دیتی ہے۔اگردنیا نے اس مقام کی نزاکت کوسمجھ لیاتویہ راستہ امن،تعاون اورترقی کی علامت بن سکتاہے اور اگرنہیںتویہی آبنائے ہرمزآنے والے طوفانوں کی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔یادرکھیں! یہ آبنائے ہرمزآنے والے زمانوں میں ایک ایسی داستان بن جائے گی جسے تاریخ حسرت اورافسوس کے ساتھ بیان کرے گی۔