پاکستان میں غربت اور سماجی نا انصافی کے باعث خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کا پہلا نمبر ہے۔پنجاب کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آئے ہیں جو معاشرے کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ضلع ساہیوال کے شہر چیچہ وطنی میں ایک رکشا ڈرائیور نے چالانوں کی بھرمار سے تنگ آ کر خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔ غربت کے باعث لاہور کے دریائے راوی میں ایک خاتون نے اپنے بچوں سمیت چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اسی طرح چنیوٹ میں ایک خاتون نے اپنی بچیوں کے ساتھ نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کا راستہ اختیار کیا۔تازہ واقعہ میں قصور کے علاقے بھوتن پورہ کے رہائشی ناصر علی نیاپنا بجلی کا بل بیالیس ہزار آنے پر گلے میں پھندہ ڈال کر خود کشی کر لی۔ یہ واقعات سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہے ہیں لیکن قومی میڈیا پر انہیں حکومت کی طرف سے سنسر شپ کی وجہ سے زیادہ جگہ نہیں ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ غربت بے روزگاری مہنگائی اور روزمرہ کی ضروریات پوری نہ کرنے کے دبا ئونے لوگوں کو مایوسی کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ رکشا ڈرائیور کا کیس اس بات کی مثال ہے کہ عام مزدور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر پھنس کر زندگی سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے چالانوں کی لہر نے اسے اتنا تنگ کیا کہ اس نے موت کو ترجیح دے ڈالی۔ لاہور کے واقعے میں خاتون نے بچوں سمیت یہ قدم اٹھایا جو ماں کی مایوسی اور بچوں کے مستقبل کی فکر کی علامت ہے جبکہ یہاں کی وزیر اعلیٰ نے اپنے شاہانہ سفر کے لئے بارہ ارب روپے کا لگژری جہاز خریدا ہے۔ یہ سب واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب جیسے صوبے میں جہاں زرعی اور صنعتی سرگرمیاں زیادہ ہیں وہاں بھی لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
پاکستان کے معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو اکنامک سروے کے مطابق غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی سطح پر غربت کی شرح 28.9فیصد تک پہنچ چکی ہے اور پنجاب میں یہ 23.3فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ صورتحال اور بھی خراب ہے۔ مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے۔ آٹا چینی دال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ آمدنیاں کوئی نہیں۔ حکومت کی طرف سے ریلیف پیکجز کا اعلان تو ہوتا ہے لیکن زمینی سطح پر ان کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچتا۔ نتیجتاً لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ بینکوں کے قرضے مائیکرو فنانس کے لون اور محلے کے سود خور سب ایک ساتھ لوگوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔خودکشی کے پیچھے صرف مالی نہیں سماجی مسئلہ بھی ہے۔ گھریلو تنازعات شادی کے مسائل اور بچوں کی تعلیم و صحت کی فکر نے لوگوں کو ذہنی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں پانچ ماہ میں 55 خودکشی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایدھی فانڈیشن جیسے اداروں کے ہیں جو سوشل میڈیا اور فیلڈ ورک کے ذریعے معلومات جمع کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو رپورٹنگ ہی کم ہوتی ہے۔ لوگ پولیس کیس درج کرانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ خودکشی کو معاشرتی طور پر بدنامی سمجھا جاتا ہے۔حکومتوں کی عیاشیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جب عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہوں تو حکمرانوں کی لگژری لائف سٹائل دیکھ کر ان کے دل میں بے چینی بڑھتی ہے۔ سرکاری اخراجات پر عوامی فلاح و بہبود کے بجائے دیگر شعبوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ نا انصافی پھیل رہی ہے اور غریب کا حق امیر کھا جاتا ہے۔ نتیجتا مایوسی پھیلتی ہے اور لوگ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ذہنی صحت کے لیے ہیلپ لائن شروع کی ہے مگر اصل جڑیں خود حکمرانوں کی کرپشن میں ہیں۔سوشل میڈیا کا کردار اس سلسلے میں اہم ہے۔
فیس بک ٹویٹر اور انسٹاگرام پر یہ واقعات فوری طور پر وائرل ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنی کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔ ایک رکشا ڈرائیور کی آخری ویڈیو یا خاتون کے خطوط سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہیں جو حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ مگر قومی میڈیا پر ان خبروں کو دبایا جاتا ہے۔ سنسر شپ کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خاموش رہتا ہے۔ یہ خاموشی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے کیونکہ عوام کو لگتا ہے کہ ان کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ آزاد صحافت کی کمی نے اعتماد میں کمی پیدا کر دی ہے۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں زرعی بحران بھی خودکشی کا باعث بن رہا ہے۔ کسان قرض لے کر بیج کھاد اور پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ اگر فصل خراب ہو جائے تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ چیچہ وطنی جیسے علاقے زرعی ہیں جہاں رکشا ڈرائیونگ بھی سہارا ہے مگر ٹریفک قوانین کی سختی نے اسے بھی مشکل بنا دیا ہے۔ لاہور میں شہری غربت مختلف شکل اختیار کر چکی ہے۔ مہنگے کرائے نوکریوں کا عدم استحکام اور بچوں کی تعلیم کا بوجھ خاتون کو تنہا لڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نتیجتاً خاندانی خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ذہنی صحت کے مسائل کو پاکستان میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ڈپریشن اینگزائٹی اور تنا عام ہیں مگر علاج کی سہولیات ناکافی ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو ماہر نفسیات کا نام بھی نہیں سنا جاتا۔ مذہبی اور سماجی دبائو کی وجہ سے لوگ مدد نہیں مانگتے۔ معاشی نا ہمواری نے نوجوانوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان مایوس ہو کر انتہائی راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہے مگر پنجاب کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے اعداد و شمار زیادہ تشویش ناک ہیں۔ حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ سبسڈی والے پیکجز کو موثر بنائیں۔ چالانوں کی بجائے ٹریفک ایجوکیشن پر توجہ دیں۔ غریبوں کے لئے ہائوسنگ ہیلتھ اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ کرپشن کا خاتمہ کریں تاکہ ریلیف کا پیسہ مستحقین تک پہنچے۔ میڈیا کو آزاد ہونے دیں تاکہ مسائل اجاگر ہوں اور حل کی طرف قدم اٹھائے جا سکیں۔یہ واقعات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ معاشرہ کہاں جا رہا ہے۔ اگر غربت اور نا انصافی کا سیلاب نہ رکا تو مزید تباہی ہو گی۔ نوجوان نسل امید کھو رہی ہے۔ بچے ماں باپ کی مایوسی دیکھ کر متاثر ہو رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز بیٹھیں اور حل تلاش کریں۔ حکومت عوام سیاستدان اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہو گا۔آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ خودکشی کوئی حل نہیں۔ مشکلات آتی ہیں مگر صبر اور جدوجہد سے ان کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کو شفافیت اور عوام دوستی کی پالیسیاں اپنانی چاہییں۔ میڈیا کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ عوام کو بھی آگاہی بڑھانی چاہیے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں ہم اس بحران سے نکل سکتے ہیں۔بجلی کے بلوں کی مہنگائی نے بھی لوگوں کو شدید دبائو میں ڈال رکھا ہے۔ کئی کیسز میں بلز کی وجہ سے خاندان قرض لیتے ہیں اور پھر ادائیگی نہ ہو پانے پر مایوسی بڑھ جاتی ہے۔ پنجاب میں بجلی چوری کے خلاف مہم چل رہی ہے مگر غریب صارفین جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں ان پر بھی بھاری بھرکم بل آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال معاشی عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔ حکومت اگر چاہے تو سبسڈی کو ٹارگٹڈ بنا کر غریب طبقے کو ریلیف دے سکتی ہے۔ زرعی علاقوں میں ٹیوب ویل کے بلز کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں کرائے اور دیگر اخراجات کو دیکھتے ہوئے الائونسز بڑھائے جا سکتے ہیں۔ مگر اب تک اقدامات ناکافی رہے ہیں۔ نتیجتاً لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔سماج کو بھی سوچنا ہو گا کہ ہم ایک دوسرے کا بوجھ کیسے کم کریں۔ محلے کی سطح پر امدادی فنڈز بنائے جا سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی صحت کی آگاہی پھیلا سکتے ہیں۔ خاندانوں میں رشتوں کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ تنہائی نہ پھیلے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کی آبادی اور معاشی سرگرمیاں قومی معیشت کا ستون ہیں۔ اگر یہاں لوگ مایوس ہو رہے ہیں تو پورے ملک پر اثر پڑتا ہے۔سنجیدگی سے سوچیں اور حل نکالیں۔ غریب کا درد سمجھیں اور ان کی آواز بنیں۔