مسقط: عمان سائبر کرائم قانون کے تحت سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے اہم وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کی نجی تصاویر، ویڈیوز، چیٹس یا ذاتی معلومات اس کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا سنگین جرم تصور ہوگا، جس پر قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
عمان کی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کسی شخص کی تصاویر یا ویڈیوز اس کی اجازت کے بغیر بنانا، ریکارڈ کرنا، محفوظ کرنا، کاپی کرنا، کسی دوسرے کو بھیجنا یا سوشل میڈیا پر شائع کرنا قانوناً جرم ہے۔ اسی طرح کسی کی نجی گفتگو، آڈیو ریکارڈنگ یا فون کال کو اجازت کے بغیر افشا کرنا بھی قابلِ سزا عمل ہے۔
پبلک پراسیکیوشن نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو نقصان پہنچانے، بدنام کرنے یا اس کی ساکھ متاثر کرنے کی نیت سے تصاویر، ویڈیوز، آڈیو کلپس یا دیگر معلومات آن لائن شیئر کی جائیں تو یہ بھی قانون کی خلاف ورزی شمار ہوگی، چاہے وہ مواد حقیقت پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔
حکام نے خبردار کیا کہ قانونی ذمہ داری صرف مواد اپ لوڈ کرنے والے تک محدود نہیں بلکہ “شیئر” کا بٹن دبانے والا شخص بھی قانون کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ بظاہر معمولی سمجھا جانے والا عمل بھی سنگین قانونی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
بیان میں متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے عمان آنے والے مسافروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک کے ڈیجیٹل پرائیویسی قوانین کا مکمل احترام کریں، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ آن لائن سرگرمی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔
عمان کے رائل ڈکری 61/2026 کے تحت نافذ عمان سائبر کرائم قانون کی دفعہ 36 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال تک قید، پانچ ہزار عمانی ریال تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔


