اسلام آباد: حکومت نے ملک میں روزانہ پٹرول کی قیمت مقرر کرنے کے نئے نظام کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ، درآمدی لاگت اور سات روزہ اوسط کے مطابق کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کا مقصد قیمتوں کو بین الاقوامی منڈی کے رجحانات سے ہم آہنگ بنانا اور مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نیا طریقہ کار ابتدائی طور پر نو ماہ کی آزمائشی مدت کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس دوران حکومت سپلائی چین، مارکیٹ کے ردعمل، قیمتوں کے استحکام اور صارفین پر مرتب ہونے والے اثرات کا مسلسل جائزہ لے گی۔
نئے فارمولے کے مطابق روزانہ پٹرول کی قیمت کا تعین عالمی خام تیل کی قیمت، پلیٹس عرب گلف (Platts Arab Gulf) کی اوسط قیمت اور حقیقی درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اگر گزشتہ سات کاروباری دنوں کے دوران پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) نے کوئی نئی کھیپ درآمد کی ہو تو اسی درآمدی پریمیم کو قیمت کا حصہ بنایا جائے گا۔
اگر سات روز کے دوران نئی درآمد نہ ہو تو یکم جنوری سے اب تک ریکارڈ ہونے والے اوسط درآمدی پریمیم کو بنیاد بنایا جائے گا تاکہ قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اعلان صرف پیر سے جمعہ تک کیا جائے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں تبدیل نہیں ہوں گی تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔
نئے نظام کے تحت روزانہ قیمتوں کے اجرا کے لیے وزیراعظم یا وفاقی کابینہ سے الگ منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ اوسط عالمی قیمتوں اور درآمدی اخراجات کی بنیاد پر قیمت خودکار انداز میں مقرر کی جائے گی۔
تاہم پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL)، کسٹم ڈیوٹی، کلائمیٹ لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن بدستور وفاقی حکومت کے اختیار میں رہیں گے۔ ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف حکومتی منظوری سے ہی ممکن ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس نظام سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کے اثرات صارفین تک نسبتاً جلد منتقل ہو سکیں گے، جبکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی حوصلہ شکنی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

