Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

اشرف المخلوقات سے اشرفِ کردار تک

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت عطا کرتے ہوئے اشرف المخلوقات کا بلند و برتر مقام بخشا۔ یہ اعزاز محض ایک شرف نہیں بلکہ ایک عظیم امانت بھی ہے، جس کا تقاضا ہے کہ انسان عزت، پاکیزگی اور احکامِ الٰہی کی کامل اطاعت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ ربِ کریم نے قرآنِ مجید کی صورت میں انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ روشن چراغ عطا فرمایا جس نے زندگی کے ہر گوشے کو منور کیا، حسنِ اخلاق اور پاکیزہ طرزِ حیات کی تعلیم دی، اور ان لغزش گاہوں سے خبردار کیا جو انسان کو دنیا و آخرت کی تباہی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں ان الٰہی تعلیمات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنے اسوئہ حسنہ کے ذریعے حلال اور حرام کے درمیان ایسی واضح اور غیر مبہم حدیں قائم فرما دیں جو انسان کی روحانی اور اخلاقی سلامتی کی ضامن ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں غفلت کے دبیز پردوں نے ہماری بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ حلال و حرام کی وہ روشن تمیز، جو کبھی اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ تھی، بہت سے لوگوں کے دلوں سے ماند پڑ چکی ہے اور یہی غفلت معاشرے کو جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی آفات کے سامنے بے بس کر رہی ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت کی حالیہ معلومات اس تلخ حقیقت کو نہایت واضح انداز میں ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد چوراسی ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو ہمارے معاشرتی وجود میں گہرے زخموں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان میں سے اکسٹھ ہزار افراد زیرِ علاج ہیں، جبکہ تئیس ہزار ایسے ہیں جو طبی نگرانی سے باہر ہیں اور جن تک علاج کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ وزیرِ صحت کی جانب سے پیش کیے گئے تقابلی اعداد و شمار اس بحران کی تیز رفتار سنگینی کو آشکار کرتے ہیں۔ 2020 ء میں ملک بھر کے انچاس مراکز پر سینتیس ہزار نو سو چوالیس افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں چھ ہزار نو سو دس افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی، جبکہ 2025 ء تک ٹیسٹنگ مراکز کی تعداد ستانوے ہو گئی، جہاں تین لاکھ چوہتر ہزار ایک سو چھبیس افراد کی جانچ کے نتیجے میں چودہ ہزار ایک سو بیاسی نئے مریض سامنے آئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی چھ سو اٹھارہ رجسٹرڈ کیسز موجود ہیں، جن میں دو سو آٹھ مقامی باشندے اور چار سو آٹھ مریض راولپنڈی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی انحطاط اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی دردناک شہادت ہیں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے ماضی میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنجوں کا بار بار استعمال قرار دیتے ہوئے دس سی سی والی بڑی سرنجوں پر پابندی لگانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ ان کے خطرناک دوبارہ استعمال کا راستہ روکا جا سکے۔ صحت کے مراکز میں لاپروا ہی یا اخراجات کم کرنے کی سوچ کے باعث غیر محفوظ انجیکشن کا استعمال خاموشی سے اس مرض کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ بجا طور پر یہ حقیقت بھی اجاگر کی گئی کہ صحت کا تحفظ صرف ہسپتالوں اور کلینکوں تک محدود معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک اہم تقاضا ہے، کیونکہ اگر اس میں غفلت برتی جائے تو اس کے معاشی نتائج بھی نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتِ حال ہمیں دو تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک طرف طبی شعبے میں غفلت، جراثیم سے پاک آلات کے استعمال میں کوتاہی، ناکافی تربیت اور بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کی کمزوری نے قابلِ تدارک مصائب کو بڑھا دیا ہے۔ دوسری طرف، اور شاید اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر، وہ اخلاقی زوال ہے جس نے معاشرے کے اندرونی دفاع کو کمزور کر دیا ہے۔ جب حیا، عفت اور ضبطِ نفس کی حدود پامال ہونے لگیں تو ایسے رویے جنم لیتے ہیں جو بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں۔ بے راہ روی، منشیات کے عادی افراد میں آلودہ سوئیوں کا مشترکہ استعمال، اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکام سے بے پروائی، اس وبا کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جدید دور نے ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے سہولت، علم اور رابطے کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، لیکن ان کے بے لگام منفی استعمال نے بالخصوص نوجوان نسل کو فکری اور اخلاقی گمراہی کی راہوں پر بھی ڈال دیا ہے۔ جو ذرائع ترقی اور آگہی کے لیے وجود میں آئے تھے، وہ بہت سے لوگوں کے لئے اخلاقی انتشار کے دروازے بن چکے ہیں۔ فحش اور بے حیائی پر مبنی مواد تک آسان رسائی، بیرونی معاشروں سے درآمد شدہ بگڑی ہوئی اقدار، اور شرم و حیاء کے احساس میں بتدریج کمی نے ایسی عادات کو فروغ دیا ہے جو تعلیماتِ نبوی ﷺ سے یکسر متصادم ہیں۔ وہ نوجوان اذہان جو کبھی دین کی تعلیمات اور خاندانی نگرانی کے حصار میں محفوظ تھے، آج تیز و تند ڈیجیٹل لہروں میں مناسب رہنمائی کے بغیر بہہ رہے ہیں۔ اس سیلابِ معلومات نے حلال و حرام کی تمیز کو مزید دھندلا دیا ہے اور صبر، ضبطِ نفس اور تقویٰ کی جگہ فوری خواہشات کی تکمیل اور بے سوچے سمجھے تجسس نے لے لی ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں