فیلڈ مارشل کا خواب اور نئی چینی ایجاد
کبھی کبھی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے کسی قوم کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ جب ایک طرف قوم ایک بڑے خواب کی تعبیر تلاش کر رہی ہو اور
کبھی کبھی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے کسی قوم کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ جب ایک طرف قوم ایک بڑے خواب کی تعبیر تلاش کر رہی ہو اور
روس،یوکرین جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں لڑائی صرف محاذ پر موجود فوجیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی، سمندری تجارت، عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست اس جنگ کے نئے میدان بن چکے ہیں۔
ایک ایران وہ تھا کہ جو غیر سرکاری طور پر کل بھوشن یادیو نیٹ ورک کا گڑھ بنا ہوا تھا، بی ایل اے اور بی ایل ایف سمیت فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد تنظیمیں جہاں سے آزادانہ آپریٹ کرتی تھیں،
ایک آبنائے ہرمز خلیج فارس، خلیج اومان اور بحیرہ عرب کے درمیان ہے جبکہ ایک اور ’’آبنائے ہرمز‘‘ پاکستان کے تین صوبوں بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے سنگم پر دریائے سندھ کے کچہ ایریا میں ہے، خلیج فارس والی آبنائے
جنگیں لڑنا بلاشبہ بڑے دل گردے کی بات ہوتی ہے، لیکن دو انتہائی سخت گیر ممالک کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کیلئے فریقین کو کسی ثاتفاق رائے پر لانا اس سے بھی زیادہ حوصلے، صبر و استقامت اور تحمل
مشرقِ وسطیٰ گزشتہ دو ہفتوں سے غیر معمولی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان براہِ راست حملوں، امریکہ اور ایران کے مذاکرات، لبنان کی صورتحال اور پاکستان و خلیجی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں نے
گلگت بلتستان میں انتخابی نتائج کا اونٹ اپنی روایتی کروٹ بیٹھ چکا ہے اور وہاں پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن کے اتحاد سے حکومت بننے کا امکان واضح ہو گیا ہے، دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت میں جو معاملات
خیبرپختونخوا کی روایتی سیاست ملک، خان، مشر اور سردار کے گرد گھومتی تھی، جہاد افغانستان اور بعد میں امریکہ کے خلاف طالبان کی جنگ آزادی کے دوران خیبرپختونخوا، بلوچستان کے پشتون علاقے، جنوبی پنجاب اور کراچی جہاد افغانستان کا کچھ
بلوچستان ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا۔ کوئٹہ کے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے ہولناک دھماکے نے نہ صرف جعفر ایکسپریس اور ریلوے پھاٹک پر موجود درجنوں گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ پورے شہر کو
بھارتی ریاست کرناٹک میں بیجا پور اور مہاراشٹر میں احمد نگر مغلیہ دور کی دو اہم سلطنتیں تھیں، جنوبی ہند کی بیٹی سلطانہ چاند بی بی باری باری ان دونوں ریاستوں کی حکمران رہی، ایک ریاست (بیجا پور) اس کے