Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فتنہ الہندوستان اور ہمارے مرد ناداں

بلوچستان ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا۔ کوئٹہ کے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے ہولناک دھماکے نے نہ صرف جعفر ایکسپریس اور ریلوے پھاٹک پر موجود درجنوں گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ پورے شہر کو سوگوار کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہدا اور زخمیوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر گئی۔ ریلوے پھاٹک بند ہونے کے باعث وہاں کھڑی چالیس سے پچاس کے قریب کاریں، رکشے اور دیگر گاڑیاں دھماکے کی شدت سے جل کر تباہ ہو گئیں۔ قریبی ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ کئی دیگر عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔ ہر طرف دھواں، چیخ و پکار، خون اور انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے۔یہ حملہ کسی ایک قوم، زبان یا فرقے پر نہیں تھا۔ اس ریلوے پھاٹک پر کھڑی گاڑیوں میں بلوچ بھی تھے، پشتون بھی، پنجابی بھی، سندھی بھی، شیعہ بھی، سنی بھی۔ جعفر ایکسپریس میں سوار مسافروں میں ہر مکتبہ فکر اور ہر قومیت کے لوگ شامل تھے۔ یہی حقیقت ثابت کرتی ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے، نہ کوئی قوم، نہ کوئی انسانیت۔ ان کا واحد مقصد خوف، خونریزی اور انتشار پھیلانا ہے۔ یہ انسان نہیں بلکہ ایسی درندہ صفت سوچ کے غلام ہیں جو ڈالروں، بیرونی ایجنڈوں اور دشمن طاقتوں کے اشاروں پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہی ہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی سیکورٹی فورسز ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو ملک کے اندر موجود بعض نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار، مخصوص صحافی اور مفاد پرست عناصر فورا جبری گمشدگیوں اور حقوق کا بیانیہ لے کر سامنے آ جاتے ہیں۔
فتنہ الہندوستان کے یہ فکری سہولت کار وہ مرد ناداں ہیں کہ جن پر ’’کلام نرم و نازک‘‘بے اثر ہی رہے گا، اس لئے یا تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے یا ’’سمجھانے‘‘کیلئے کوئی اور طریقہ استعمال کیا جائے، سوال یہ ہے کہ آج فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے معصوم شہدا کے حقوق کی بات کون کرے گا؟ ان بچوں کی چیخیں کون سنے گا جن کے والدین اس دھماکے میں جل گئے؟ ان ماں کا حساب کون دے گا جن کے جوان بیٹے خون میں نہلا دیے گئے؟یہ کیسی منافقت ہے کہ پہاڑوں میں بندوق اٹھانے والے، خودکش حملے کرنے والے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جاتا ہے، مگر جب انہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو تو سیکورٹی فورسز کو ظالم قرار دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسلسل پروپیگنڈے نے دہشت گردوں کو ایک مظلوم چہرہ دینے کی کوشش کی، جس کے باعث بعض اوقات دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے والے اہلکار بھی دبا محسوس کرتے ہیں کہ کہیں ان کے اپنے ہی لوگ انہیں تنقید کا نشانہ نہ بنا دیں۔کوئٹہ کے عوام آخر کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ بلوچستان کے لوگ کب تک اپنے بچوں کی لاشیں دفناتے رہیں گے؟ یہ وہی دہشت گرد ہیں جو عوام کے درمیان رہتے ہیں، انہی بازاروں میں کھاتے پیتے ہیں، انہی سڑکوں پر چلتے ہیں اور پھر اچانک انہی جگہوں کو خون سے بھر دیتے ہیں۔ ایسے عناصر کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔آج وقت آ گیا ہے کہ پورا ملک ایک آواز ہو کر یہ اعلان کرے کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں۔ انہیں بلوچ، پشتون، سندھی یا کسی اور شناخت کا لبادہ پہنانا دراصل معصوم عوام کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ جو لوگ ان دہشت گردوں کے حق میں لکھتے، بولتے یا بیانیہ بناتے رہے، انہیں اب اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ یہ جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جاری آپریشن فتنہ الہندوستان اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ریاست کو پوری قوت کے ساتھ ان دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کے بیرونی سرپرستوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ یہ عناصر صرف طاقت اور گولی کی زبان سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں نفرت، تشدد اور بیرونی ایجنڈوں کے ذریعے مکمل طور پر برین واش کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں اور بھارت میں بیٹھے سرپرستوں کے حوالے سے بھی دوٹوک اور سخت مقف اپنانا ہوگا۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس خونریزی میں ملوث نیٹ ورکس اور ان کے معاونین کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کرے۔ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں، زندگی چاہتے ہیں، اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں، اور اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست اور قوم مل کر اس ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کریں۔آج جب پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن کے قیام کیلئے مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی خطرات کو کم کرنے کیلئے سفارتی سطح پر سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے، تو عالمی برادری خصوصاً امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکی اور خطے کے دیگر بااثر ممالک پر بھی یہ اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں جاری پراکسی دہشت گردی کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اگر واقعی دنیا خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے افغانستان کی سرزمین کے دہشت گرد استعمال، بھارت کی خفیہ سرپرستی اور اسرائیلی انٹیلی جنس مفادات کے ممکنہ گٹھ جوڑ کے حوالے سے کھل کر اور دوٹوک موقف اپنانا ہوگا۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ انسانی، معاشی اور عسکری قربانیاں دے چکا ہے، اس لیے دنیا کو صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ان تمام عناصر پر دبائو ڈالنا ہوگا جو بلوچستان اور دیگر علاقوں میں خونریزی، نفرت اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ صرف پاکستان کی جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی تجارت، سی پیک، توانائی راہداریوں اور بین الاقوامی استحکام کا مسئلہ ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، بھارت سے چلنے والی مبینہ پراکسی سپورٹ اور ہر اس قوت کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں