Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

’’انصاف کا قتل‘‘یا قانون کی حکمرانی؟ مغربی دنیا کی بیجا تلملاہٹ !

گزشتہ دنوں جب کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائی تو مغربی میڈیا اور اقوامِ متحدہ کے چند خصوصی نمائندوں نے فوراً اسے ’’انصاف کا قتل‘‘ قرار دے دیا۔ چند گھنٹوں میں یہ جملہ بین الاقوامی پریس ریلیز، ایکس ٹرینڈز اور انسانی حقوق کی رپورٹوں کا حصہ بن گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ بیانیہ ایک مسلمہ حقیقت بن جائے، ضروری ہے کہ ہم اصل حقائق کو سامنے رکھیں وہ حقائق جنہیں جنیوا کے بیان میں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مقدمہ تھا کیا ؟ سب سے اہم حقیقت جس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سزا ’’پرامن احتجاج‘‘پر نہیں سنائی گئی۔22 جون 2026 ء کو کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو فرنٹیئر کور کے 30 سالہ شہید سپاہی شبیر بلوچ، کے قتل کے مقدمے میں سزا دی۔ سپاہی شبیر 29جولائی 2024ء کو گوادر میں ’’بلوچ راجی مچی‘‘کے دوران شہید ہوئے تھے۔ اسی دن سولہ دیگر سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔یعنی قانونی بنیاد ایک شہری نہیں، ایک وردی والا بلوچ بیٹا ہے جو ڈیوٹی کے دوران مارا گیا اور گھر واپس نہیں آیا۔ اس بنیادی فرق کو بھول کر پورے مقدمے کو ’’احتجاج پر کریک ڈان‘‘کہنا حقائق سے کھلا انحراف ہے۔عدالت نے یہ سزا ہوا میں نہیں سنائی۔ فیصلہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات -302 148، B,147اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6کے تحت کیا گیا۔ یہی دفعات پاکستان کے کسی بھی شہری پر لاگو ہوتی ہیں اگر وہ کسی ایسے پرتشدد ہجوم کا حصہ ہو جس کے نتیجے میں کسی کی موت واقع ہو۔عدالت نے ملزمان کو ’’مشترکہ ذمہ داری‘‘کا بھی مرتکب قرار دیا۔ یہ پاکستانی قانون کا ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ جب لوگ ایک پرتشدد اجتماع میں شامل ہوں اور اس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلے تو قانون مشترکہ ارادے کی بنیاد پر ذمہ داری طے کرتا ہے۔ اسے ’’پرامن اجتماع کو مجرمانہ قرار دینا‘‘کہنا یا تو قانون سے لاعلمی ہے یا دانستہ من مانی تشریح۔
یہ مقدمہ پاکستان کی معمول کی انسدادِ دہشت گردی عدالتی ساخت کے تحت چلا۔ نہ یہ فوجی عدالت تھی، نہ ماورائے عدالت کارروائی۔ اپیل کا مکمل حق موجود ہے پہلے بلوچستان ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ۔ اسے ’’غیر منصفانہ‘‘قرار دینے سے پہلے یہ بتانا ہوگا کہ قانون کے کس اصول کی خلاف ورزی ہوئی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان کو منصفانہ کارروائی کا موقع نہیں ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملزمان اور ان کے وکلاء نے خود عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ کوئی بھی عدالتی نظام اس بات کا پابند نہیں کہ ملزم واک آئوٹ کر جائے تو وہ انصاف کا عمل روک دے۔ اسی لئے قانون میں ’’سرکاری وکیل‘‘ کی شق موجود ہے تاکہ بائیکاٹ کی وجہ سے مقدمہ لٹکے نہیں۔ اگر بائیکاٹ کو ہی ’’ظلم‘‘کا ثبوت مان لیا جائے تو پھر دنیا کی کوئی عدالت چل ہی نہیں سکے گی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ماہ رنگ بلوچ پر پچاس مقدمات زیرِ التوا ہیں اور یہ ’’ریاستی ظلم‘‘کا ثبوت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پچاس مقدمات کا مطلب پچاس سازشیں نہیں، بلکہ پچاس مختلف اضلاع میں پچاس الگ الگ مبینہ قانونی خلاف ورزیاں ہیں۔ ہر مقدمے کی اپنی الگ ایف آئی آر، اپنے الگ گواہ اور اپنے الگ شواہد ہیں۔ اگر تعداد ہی جرم کا ثبوت بن جائے تو پھر قانون کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کیس کے میرٹ کو دیکھا جائے، نہ کہ صرف مصالحے دار اخباری سرخی بنانے کے لئے کل تعداد گن کر ’’ظلم‘‘کا لیبل لگا دیا جائے۔ اس پورے معاملے کو ریکوڈک اور سی پیک سے بھی جوڑا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاست ’’ترقی کے نام پر زمین چھین رہی ہے‘‘۔ یہ بیانیہ اس پورے قانونی و ریگولیٹری ڈھانچے کو نظر انداز کرتا ہے جو کان کنی، محصولات کی تقسیم اور صوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔ ریاستی دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دس سال میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر جتنی رقم لگی ہے وہ ریکارڈ پر ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ جب غیر ملکی ماہرین پاکستان کے اپنے معاشی اور سلامتی سے متعلق خودمختار فیصلوں کو ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘‘قرار دیتے ہیں، تو کیا وہ واقعی قانون کا جائزہ لے رہے ہیں یا اس سیاسی بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں جس کی ہمدردی علیحدگی پسند تشدد سے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں؟سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے جن ’’خصوصی نمائندوں‘‘نے بیان دیا، انہوں نے خود تسلیم کیا کہ وہ ادارے کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ یہ چند افراد کی ذاتی رائے ہے، نہ کہ اقوامِ متحدہ کا سرکاری موقف۔ اور یہ رائے بھی قانونی ریکارڈ کو پڑھے بغیر دی گئی ہے۔ اس میں نہ تو مقتول شبیر بلوچ شہید کا ذکر ہے، نہ دفعات کا، نہ اپیل کے حق کا۔ ایسا لگتا ہے جیسے فیصلہ آنے سے پہلے ہی پریس ریلیز لکھ لی گئی تھی۔ یہی فرق ہے ایک عدالتی فیصلے اور چند دستخط شدہ بیان کے درمیان۔ صحت، حراستی حالات اور خاندانی دبا کے الزامات سنگین ہیں اور ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ لیکن ان الزامات کو سزا کے خلاف دلیل بنانا درست نہیں ۔پاکستان کی جیلوں میں تمام قیدیوں کو جیل مینوئل کے مطابق طبی سہولیات ملتی ہیں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اگر کسی کو واقعی منصفانہ ٹرائل پر اعتراض ہے تو وہ عدالت میں اپیل کا حق استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان کا عدالتی نظام اپیل کے لئے کھلا ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تمام شواہد کو دوبارہ دیکھ سکتی ہیں۔جنیوا سے بیٹھ کر جاری کا جانے والا بیان اپیل کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اسے متبادل سمجھنا ہی اصل میں انصاف کے نظام پر حملہ ہے۔ماہ رنگ بلوچ کیس ایک فرد کا کیس نہیں ہے۔ یہ اس سوال کا کیس ہے کہ کیا پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔ کیا ایک سپاہی کی جان کی کوئی قیمت ہے یا نہیں۔ کیا عدالت کے فیصلے کو شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے گا یا سوشل میڈیا کی مہم کی بنیاد پر؟ مغربی میڈیا کو یہ حق ہے کہ وہ تنقید کرے۔ لیکن تنقید کے لئے حقائق کو مسخ کرنا’’پرامن احتجاج‘‘ اور ’’سپاہی کا قتل‘‘کے فرق کو مٹا دینا، اور قانونی عمل کو ’’انصاف کا قتل‘‘کہہ دینا صحافت نہیں، پروپیگنڈہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کو ترقی چاہیے، انصاف چاہیے، اور امن چاہیے۔ یہ تینوں چیزیں اس وقت ممکن ہیں جب ہم بیانیے کی جنگ سے نکل کر قانون کی حکمرانی کو مضبوط کریں۔ اور قانون یہی کہتا ہے کہ جس کے ہاتھ خون لگے، اسے قانون کے کٹہرے میں آنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں